لاہور کا جن (عامر محمود بٹ)

ویسے تو پڑھے لکھے لوگوں کی ایک بڑی تعداد جنات پر یقین نہیں رکھتی اور نہ ہی بیورو کریسی کسی جن یا جادوگر کو مانتی ہے لیکن اس وقت لاہور کے ایک اہم منصب پر تعینات ایک آفیسر کے بارے میں یہ تاثر عام ہوتا چلا جارہا ہے کہ ان کے پاس یا تو جنات ہیں یا پھر یہ خود ایک عدد جن ہیں۔ یہ آفیسر کوئی اور نہیں بلکہ اس وقت کے کمشنر لاہور محمد عامر جان ہیں۔ بورڈ آف ریونیو کے بیٹ رپورٹر ہونے کی حیثیت سے کمشنر آفس کی بیٹ بھی میرے پاس ہے اور میں حیران ہوں کہ یہ کیا ماجرہ ہے کہ یہ کمشنر لاہور صبح سویرے گیم چینجر ، پھل و سبزی منڈی بادامی باغ کو شہر سے باہر نکالنے کی میٹنگ کرتے ہیں، دوپہر کو پی ایچ اے کی میپل ٹری پلانٹیشن مہم کے تحت شجرکاری کا افتتاح کرتے ہوئے دیکھائی دیتے ہیں تو شام کو لاری اڈا میں میگا پارکنگ پلازہ اور انار کلی میں پارکنگ سائٹ بنانے پر ورکنگ کا آغاز کرواتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ محمد عامر جان نے بطور کمشنر لاہور تعینات ہوتے ساتھ ہی ایسے ایسے عملی اقدامات کیے کہ ان کی مخالفت کرنے اور ان کے خلاف پروپیگنڈہ کرنے والے عناصر نے بھی بعد ازاں چپ سادھ لی۔ کمشنر صاحب کے آتے ہی نا صرف سمندر پار پاکستانیوں کے مسائل کی سنوائی بلکہ 9 ہزار سے زائد التوا کے شکار کیسز کے ازالہ کیلئے بھی ورکنگ تیز ہوگئی۔ اسی طرح لاہور صاف تو پاکستان صاف کا نعرہ بھی کمشنر آفس سے ہی سنائی دیا تو ایل ڈبلیو ایم سی کے ملازمین کو بھی مشن کلین لاہور یاد آگیا اور لاہور کے تاریخی مقامات جن میں داتا دربار، شاہی قلعہ ، ریلولے اسٹیشن کے گردونواح بھی صفائی کے انتظامات کا سلسلہ شروع ہوگیا ۔اس کے علاوہ پی ایچ اے ، لیسکو ، ایل ڈی اے، واسا اور ایل ڈبلیو ایم سی کے ورکرز اور سٹاف کو صفائی ، تجاوزات کےخلاف آپریشن ، لٹکتی تاروں کی بحالی اور سینکڑوں باغبانوں کو جگہ جگہ شجرکاری ، گرین بیلٹس میں پودے لگانے سے لیکر درختوں کو پانی سے دھونے تک عملی طور پر کام کرتے ہوئے دیکھا گیا -یہی نہیں بلکہ لاہور ڈویژن کے تمام ریونیو افسران کو سائلین کے بروقت انتقالات کی تصدیق کی بھی ہدایت کردی بلکہ وراثتی انتقالات کی آڑ میں رشوت وصولی کی شکایات کا بھی نوٹس لیتے ہوئے متوفین کے ورثاء کو فوری ریلیف دینے کی سختی سے ہدایت کردی اور اس ضمن میں تمام ریونیو افسران اور تحصیلدارن کو انتباہ کردیا کہ اگر ورثاء سے وراثتی انتقالات کی مد میں رشوت وصولی کرنا ثابت ہوگئی تو ان کا فوری ریفرنس محکمہ اینٹی کرپشن کو بھجوا کر مقدمات کا اندراج بھی کروا دیا جائے گا -کمشنر لاہور محمد عامر جان کی ورکنگ کی شہرت ناصرف ملک پاکستان بلکہ ہمسایہ ملک کرغزستان تک پہنچ گئی اور کرغزستان کے سفیر عزت مآب اولان بیک توتائیف بھی کمشنر لاہور محمد عامر جان سے ملاقات کیلئے تشریف لائے جن کا پرتپاک استقبال کیا گیا- کرغزستان کے سفیر نے آگاہی دی کہ وہ پاکستان کے ساتھ تجارتی کینوس کو وسیع پیمانے پر پھیلانے کافیصلہ کر چکے ہیں جو کہ دونوں ممالک کے مفاد کیلئے بہترین ثابت ہوگا کمشنر صاحب کی خصوصی ہدایت پر 24 اور 25 دسمبر کو قائد اعظم محمد علی جناح کی یوم پیدائش ، کرسمس اور حضرت عیسیٰ کی پیدائش کے اس موقع کو یادگار بنانے کیلئے لاہور بھر کو روشنیوں سے سجا دیا گیا۔ کرسمس ڈے کے موقع پر مسیحی برادری کی تقریبات کیلئے بہترین انتظامات کیے کیک کاٹے گئے چھوٹے ملازمین میں عیدی تقسیم کی گئی تحفے تحائف کے ساتھ گرم کپڑے تقسیم کیے اور مسیحی برادری کے بھی دل جیت لیے -کمشنر آفس میں جانے والے رپورٹرز، اور افسران کا یہ ماننا ہے کہ کمشنر لاہور ٹائم ضائع کیے بغیر عملی طور پر تمام محکموں کے افسران سے ناصرف پبلک انٹرسٹ کے اقدامات کروانے میں ہمہ وقت مصروف نظر آتے ہیں بلکہ ان کاموں کے فالواپ کیلئے بھی ان پر کڑی نظر رکھتے ہیں – کمشنر لاہور کے جن اقدامات اور ورکنگ کا میںاس کالم میںذکر کر رہا ہوں یہ ُاونٹ کے منہ میں زیرہ کے برابر ہیں اور اگر میں محمد عامر جان کی بطور کمشنر لاہور ورکنگ پر لکھنے کیلئے قلم کا استعمال کروں تو 500 صفحات کی ایک کتاب تو آرام سے لکھی جاسکتی ہے – محمد عامر جان پر بیشترلوگوں کہ یہ بھی شک ہے کہ یا تو ان کے پاس جنات ہیں یا پھر کوئی ایسا جادو اور وظیفہ ہے کہ جو ان کو نہ تھکنے دیتا ہے اور نہ ہی ان کے کام کی سپیڈ میں کوئی کمی واقع ہونے دیتا ہے بلکہ ہر گزرتے دن کے ساتھ ان کی میٹنگز اور ورکنگ میں اضافہ ہوتا چلا جارہا ہے – ان کے عملی کاموں کی وجہ سے ان کو لاہور کا جن کا جو خطاب محکمہ ریونیو، پی ایچ اے ملازمین ، لوکل گورنمنٹ کے افسران ، ایل ڈی اے اور ایل ڈبیلو ایم سی ایل کے افسران و ملازمین نے دیا ہے وہ کسی حد تک بالکل درست اور بجا ہے جس میں کسی قسم کی کوئی شک کی گنجائش ہے۔

یہ بھی پڑھیں

ستم بالا ستم (عامرمحمودبٹ)

بے روزگاری ، تفرقہ اور اقربا پروری نے جہاں معاشرے کو اپنی لپیٹ میں بری …