لاقانونیت (عامر محمود بٹ)

لالچ بری بلا ہے جو شخص بھی لالچ میں آکر کوئی کام کرتا ہے تو اس کے نقصان کا ازالہ وہ اپنی عزت کھو کر یا اپنے رتبے اور مقام کو نقصان پہنچا کر چکاتا ہے ۔ضلع لاہور میں پٹواریوں کے ہونے والے جنرل تبادلوں میں ہونے والی بدنیتی ، کرپشن ، لاقانونیت ، اختیارات کا ناجائز استعمال اور محکمہ مال کے اعلیٰ افسران کی آنکھوں میں دھول جھونکتے کی کوشش کی جارہی ہیں میں بار بار اُس کی نشاندھی بھی کر رہا ہوں اور بااثر سفارشات اور مبینہ الزامات کی روشنی میں ان تبادلوں کے بعد ہونے والے اثرات سے بھی آگاہ کر رہا ہوں ۔ان جنرل تبادلوں میں ڈپٹی کمشنر لاہور کی جانب سے جن پٹواریوں کے خلاف ریفرنس بھجوا کر اینٹی کرپشن میں مقدمات درج کروائے گئے اُن کو بھاری رشوت وصولی کی اطلاعلات کے مطابق تعینات کیا جارہا ہے اور ان میں وہ پٹواری بھی شامل ہیں جن کو اینٹی کرپشن نے بھی اشتہاری ہونے کی بنا ءپر گرفتار کیا اور سنگین کرپشن کے الزامات کے تحت مقدمات درج کیے گے اُن پر بھی نوازشات کی بارش کی جارہی ہے۔

پٹواریوں کے جنرل تبادلوں کی جاری کردہ لسٹیوں میں بار بار تبدیلی کرتے ہوئے من پسند پٹواریوں کو اُن کی فرمائش کے مطابق پٹوار سرکل الاٹ کرنے کاسلسلہ ابھی بھی جاری وساری ہے اور دن دیہاڑے کھلم کھلا ، سرعام لاقانونیت کی مثالیں قائم کیے جانے کے ریکارڈ پر ریکارڈ قائم کیے جارہے ہیں ان جنرل تبادلے کہ ابھی ایک موضع کا ذکر کرنے جارہا ہوں جو کہ سمجھدار افسران کیلئے اشارہ ہی کافی ہے اور باقی کی تفصیلات اور نشاندھی بھی میں کرتا رہوں گا ۔تحصیل رائے ونڈ کے پٹوار سرکل موضع رکھ کھمبا میں تعینات کیے جانے والے پٹواری افتخار کنول کے خلاف خود ڈپٹی کمشنر لاہور نے سرکاری خزانے کو نقصان پہنچانے اور لینڈ مافیا کے مفاد کی خاطر اختیارات کے ناجائز استعمال کرتے ہوئے غبن سرکار کے مرتکب ہونے والے پٹواری پر تحقیقات مکمل کرنے کے بعد اینٹی کرپشن میں ریفرنس بھجوایا اور مذکورہ پٹواری پر مقدمہ نمبر 41/20 کا بھی اندارج کروایا گیا۔

قابل ذکر بات یہ ہے کہ مذکورہ پٹواری اس ایک ہی سرکل میں گزشتہ 13 سال سے تعینات ہے اور بار بات اسی سرکل میں ہی تعیناتی کا خواہش مند بھی ہے اور جو ریفرنس اور مقدمہ کا اندارج کیا گیا وہ بھی اسی سرکل موضع رکھ کھمبا کا تاریخ ساز کارنامہ ہے۔ذرائع کے مطابق اگر اس پٹوار سرکل کی بستہ پڑتال کی جائے تو اسی مذکورہ پٹواری کے ہاتھوں ریونیو ریکارڈ میں کی جانے والی ردوبدل کے باعث 100 سے زائد بڑے سیکنڈلز بھی منظر عام پر آسکتے ہیں۔ مذکورہ پٹواری کی اس تعیناتی پر کئی سوالات بھی اُٹھ رہے ہیں کہ کیا ڈپٹی کمشنر لاہور مدثر ریاض کی جانب سے کی جانے والی تحقیقات اور ریفرنس غلط تھا کیا سرکاری خزانے کو نقصان نہیںپہنچایا گیا اور غبن سرکار کا الزام غلط تھا۔

کیا اس مقدمے اور اس واردات کے اثرات ختم ہو چکے ہیں کیا تحصیل رائے ونڈ کی ایڈمنسٹریشن کے پاس اس پٹواری کی اسی موضع میں تعیناتی کی وجہ ڈھکی چھپی ہے کیا پٹوار خانہ رکھ کھمبا میں تعیناتی سے قبل مذکورہ پٹواری کے منشیوں نے اعلانات شروع کر دیئے تھے کہ ہماری واپسی دو روز میں متوقع ہے اور باقاعدہ جنرل تبادلے کے دو دفعہ جاری ہونے والے نوٹیفکیشن میں پہلے نمبر پر جو نام تحریر کیا گیا وہ اسی مذکورہ پٹواری کے دعوے اور چیلنج کے مطابق کیا گیا نوٹیفکیشن کی کاپی تحصیل رائے ونڈ میں پٹواریوں کے منشیوں نے خوب تقسیم کی اور اس سسٹم پر بغلیں بھی بجائی یہ کس کے مفاد کو پورا جا رہا ہے یہ کون سا پبلک انٹرسٹ کا اقدام ہے کہ سرکاری خزانے کو نقصان پہنچانے والے کو بھی نوازا جارہا ہے ڈپٹی کمشنر لاہور کو اس صورتحال پر نوٹس لینا انتہائی ضروری ہے کیوں کے اسطرح کے اقدام خود ڈپٹی کمشنر لاہور کے اقدام کو پس پشت ڈال کر روندے جارہے ہیں جو کہ لمحہ فکریہ ہے

عامر محمود بٹ
[email protected]
0321-6666202

یہ بھی پڑھیں

ستم بالا ستم (عامرمحمودبٹ)

بے روزگاری ، تفرقہ اور اقربا پروری نے جہاں معاشرے کو اپنی لپیٹ میں بری …