توہین عدالت کیس میں سپریم کورٹ نے فیصل رضا عابدی کی کیس نان پی سی او ججز کو منتقل کرنے کی درخواست منظور کرلی


(میڈیا92نیوز)
چیف جسٹس پاکستان ثاقب نثار کی سربراہی میں فیصل رضا عابدی کے خلاف توہین عدالت کیس کی سماعت ہوئی، اس موقع پر وکیل فیصل رضاعابدی نے کیس دوسرے بینچ میں لگانے اور کیس کراچی میں سننے کی درخواستیں دائر کیں جن میں موقف اپنایا گیا کہ میری جان کو خطرات لاحق ہیں اس لیے کراچی میں کیس سنا جائے، خود کو کراچی میں محفوظ سمجھتا ہوں جب کہ اسلام آباد آنے جانے کے اخراجات بھی برداشت نہیں کر سکتا۔ دوسری درخواست میں موقف اپنایاگیا کہ چیف جسٹس نے 1999 میں پی سی او کے تحت حلف لیا، جب حلف لیا تو چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ کے جج تھے لہذا میرا کیس سننے کے لیے ایسے ججز پر مشتمل بینچ بنایا جائے جنہوں نے پی سی او پر حلف نہ لیا ہو۔

عدالت نے فیصل رضا عابدی کی توہین عدالت کیس کراچی منتقل کرنے کی درخواست خارج کردی جب کہ کیس دوسرے بینچ میں لگانے کی درخواست منظور کرلی۔

سماعت کے موقع پر فیصل رضا عابدی بھی عدالت میں پیش ہوئے، فیصل رضا عابدی کے عدالت میں کھڑے ہونے کے انداز پر ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے چیف جسٹس نے ریمارکس میں کہا کہ آپ کوعدالت کے وقار کا علم ہونا چاہیے جس پر وکیل فیصل رضاعابدی نے کہا کہ ہمیں آئین پر مکمل ایمان اور یقین ہے، چیف جسٹس نے کہا کہ فیصل رضا عابدی کا عدالت میں کھڑے ہونے کا انداز دیکھ لیں۔

چیف جسٹس نے ریمارکس میں کہا کہ فیصل رضا عابدی نے پروگرام میں کیا کہا وہ دیکھ لیتے ہیں، انہیں اپنے کیے پر کوئی پشیمانی یا شرمندگی نہیں، فیصل رضا عابدی کہتے ہیں چیف جسٹس ملک کو تباہ کر رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں

عام انٹرنیٹ سے 45 لاکھ گُنا تیز انٹرنیٹ

برمنگھم: سائنس دانوں نے انٹرنیٹ اسپیڈ کا نیا ورلڈ ریکارڈ قائم کیا ہے جو موجودہ براڈ …