انسداد دہشت گردی کی عدالت نےعمران فاروق قتل کیس میں گرفتار ملزمان پر 3 برس بعد فرد جرم عائد کردی


(میڈیا92نیوز)
اسلام آباد کی انسداد دہشت گردی عدالت کے جج شاہ رخ ارجمند نے اڈیالہ جیل میں عمران فاروق قتل کیس کی سماعت کی۔ ایف آئی اے پراسیکیوٹر خواجہ امتیاز نے عدالت میں کیس کا چالان پیش کیا۔ چالان میں کہا گیا ہے کہ عمران فاروق کے قتل کی سازش برطانیہ اور پاکستان میں مشترکہ طور پر تیار ہوئی۔ اس سازش کو عملی جامہ 2010 میں لندن میں پہنایا گیا، اس سازش کے تحت ایم کیو ایم کے رہنما کو قتل کیا گیا۔

عدالت نے تینوں ملزمان خالد شمیم، معظم اور محسن پر فرد جرم عائد کرتے ہوئے بانی ایم کیو ایم کے دائمی وارنٹ گرفتاری، ان کی جائیداد ضبط کرنے اور قومی شناختی کارڈ بلاک کرنے کا حکم بھی جاری کردیا ہے۔ عدالت نے 8 مئی کو استغاثہ کے 2 گواہوں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر کیپٹن (ر)شعیب اور ایف آئی اے کاؤنٹر ٹیرارزم ونگ کے افسر عبدالمنان کو طلب کرلیا۔
عمران فاروق قتل کیس
واضح رہے کہ عمران فاروق کو 16 ستمبر 2010 کو لندن میں قتل کیا گیا تھا، جون 2015 میں 2 ملزمان محسن علی اور خالد شمیم کی چمن سے گرفتاری ظاہر کی گئی جبکہ معظم علی کو کراچی میں نائن زیرو کے قریب ایک گھر سے گرفتار کیا گیا۔ یکم دسمبر 2015 کو اس وقت کے وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے عمران فاروق قتل کیس کا مقدمہ پاکستان میں درج کرنے کا اعلان کیا تھا۔ تینوں ملزمان سے لندن کی اسکاٹ لینڈ یارڈ بھی تفتیش کرچکی ہے۔

یہ بھی پڑھیں

عام انٹرنیٹ سے 45 لاکھ گُنا تیز انٹرنیٹ

برمنگھم: سائنس دانوں نے انٹرنیٹ اسپیڈ کا نیا ورلڈ ریکارڈ قائم کیا ہے جو موجودہ براڈ …