ایون فیلڈ ضمنی ریفرنس،غیرملکی گواہوں کا بیان بذریعہ ویڈیو لنک ریکارڈ کرنے کی درخواست منظور

اسلام آباد(میڈیا 92نیوز) اسلام آباد کی احتساب عدالت میں نواز شریف اور ان کے بچوں کے خلاف ایون فیلڈ ریفرنس میں غیر ملکی گواہوں کا بیان ویڈیو لنک کے ذریعے قلمبند کرنے کی نیب کی درخواست منظور کر لی،عدالت نے حکم دیا ہے کہ غیر ملکی گواہوں کے بیانات ریکارڈ کرنے کے لیے ویڈیو لنک کی ماڈرن ڈیوائس لگائی جائے۔جمعہ کو اسلام آباد کی احتساب عدالت میں ایون فیلڈ ریفرنس کی سماعت ہو ئی۔ سماعت کے آغاز پر نواز شریف اور مریم نواز کی طرف سے آج حاضری سے استثنا کی درخواست دائر کی گئی۔نواز شریف کے وکیل نے کہا کہ ان کے موکل کراچی میں مصروفیات کے باعث پیش نہیں ہوسکے، آئندہ سماعت پر حاضری یقینی بنائیں گے،کیپٹن(ر) صفدر عدالت میں پیش ہوئے ۔ سماعت کے دوران دو گواہوں کا ویڈیو لنک کے ذریعے بیان قلمبند کرنے کیلئے نیب کی درخواست پر بحث کے دوران نیب پراسیکیوٹر سردار مظفر عباسی کا کہنا تھا کہ گواہ اپنا بیان ریکارڈ کرانے اور شواہد پیش کرنے کیلئے تیار ہیں، گواہ سیکورٹی خدشات کی بنا پر پاکستان نہیں آنا چاہتے، قانونی طور پر بھی گواہوں کا بیان قلمبند کرانے کیلئے پاکستان آنا ضروری نہیں۔نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ گواہ برطانوی شہری ہیں، پاکستان لانے میں تاخیر ہوسکتی اور اس پر خرچ بھی اٹھانا پڑے گا۔مریم نواز اور کیپٹن ریٹائرڈ صفدر کے وکیل امجد پرویز نے اپنے دلائل میں کہا کہ اگر گواہ ویڈیو لنک کے ذریعے پیش ہونا چاہتے ہیں تو نواز شریف کو ویڈیو لنک کے ذریعے پیش ہونے کی اجازت دی جائے۔ دونوں طرف سے بھارتی عدالت کے فیصلے کا حوالہ دیاگیا۔نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ بھارتی ریاست مہاراشٹر اور ڈاکٹر پارفل بی کے درمیان کیس میں ویڈیو لنک پر بیان قلمبند کرانے کی اجازت دی گئی۔امجد پرویز نے کہا کہ اس کیس میں کمیشن کے ذریعے ویڈیو لنک پر بیان کی اجازت دی گئی، ایسے تو میں کہہ دوں کہ نواز شریف کراچی میں ہیں انہیں بھی ویڈیو لنک پر لے لیں۔نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ ملزم اور گواہ میں فرق ہوتا ہے،ڈیجیٹل ڈیوائس کے ذریعے بھی بیان قلمبند کیا جاسکتا ہے۔فاضل جج نے کہا کہ ایسے تو آپ سی ڈیز کا تبادلہ کرتے رہیں گے، پہلے آپ بیان کی سی ڈی پیش کریں گے پھر ان کے سوال آجائیں گے۔امجد پرویز نے کہا کہ گواہ ایک پرائیویٹ ایکسپرٹ ہے جسے جے آئی ٹی نے ہایئر کیا، جب رابرٹ ریڈلے کو ہائیر کیا گیا ہوگا تو کچھ شرائط بھی طے کی گئی ہوں گی،جے آئی ٹی رپورٹ میں رابرٹ ریڈلے کی طرف سے دیا گیا ڈیکلریشن بھی شامل ہے۔امجد پرویز نے کہا کہ ڈیکلریشن میں ریڈلے نے کہا کہ وہ جانتے ہیں کہ انہیں عدالت میں پیش ہونا پڑسکتا ہے، نیب کی طرف سے جو ای میل درخواست کے ساتھ لگائی گئی ہے وہ بھی رابرٹ ریڈلے کی نہیں ہے۔وکیل مریم نواز نے کہا کہ ای میل راجہ اختر کی طرف سے تحریر کی گئی،دہشت گردی کے جن واقعات کا ذکر ای میل میں کیا گیا ہے وہ ریڈلے کو ہائیر کئے جانے سے پہلے کی ہیں، ویڈیو لنک پر بیٹھا شخص عدالت کی حدود میں نہیں آتا۔نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ ماضی قریب میں بینظیر قتل کیس میں مارک سیگل کا بیان ویڈیو لنک پر قلمبند کیا گیا،گواہان 6 اور 7فروری کو دستیاب ہوں گے۔امجد پرویز نے کہا کہ گواہان نواب نہیں ہیں کہ ان کی بتائی گئی تاریخ پر بیان قلمبند ہو۔دلائل سننے کے بعد احتساب عدالت نے غیر ملکی گواہوں کا بیان ویڈیو لنک کے ذریعے قلمبند کرنے کی نیب کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔ بعد میں فیصلہ سناتے ہوئے عدالت نے نیب کی جانب سے غیرملکی گواہوں کی بذریعہ ویڈیو لنک بیان قلمبند کرنے کی درخواست منظور کرلی۔عدالت کا کہنا تھا کہ گواہوں کے بیانات ریکارڈ کرنے کے لیے ویڈیو لنک کی ماڈرن ڈیوائس لگائی جائے۔ احتساب عدالت نے شریف خاندان کے خلاف نیب ریفرنس کی سماعت 6 فروری تک ملتوی کر دی جبکہ غیر ملکی گواہوں کے بیانات قلمبند کرانے کی تاریخ کا تعین بھی اسی روز کیا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیں

ملائکہ اروڑا کا سابق شوہر ارباز خان کیساتھ فیملی ڈنر، ویڈیو وائرل

ممبئی: بالی ووڈ اداکارہ و ماڈل ملائکہ اروڑا نے اپنے سابق شوہر ارباز خان اور اُن کی …