ریٹائر نہیں ہورہا عمر کے بجائے کارکردگی دیکھنی چاہیے، شعیب ملک

قومی کرکٹ ٹیم کے آل راؤنڈر شعیب ملک نے کہا ہے کہ عمر کے بجائے کارکردگی دیکھنی چاہیے، میرا ابھی ریٹائرمنٹ کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔

پاکستان کرکٹ کی سب سے بڑی ویب سائٹ www.cricketpakistan.com.pk کو خصوصی انٹرویو میں شعیب ملک نے کہا کہ کبھی کسی کھلاڑی کی عمر کو جواز بنا کر اسے نظر انداز نہیں کرنا چاہیے، میں اپنی بات نہیں کر رہا لیکن اگر کسی نے اپنے ملک کیلیے طویل عرصے خدمات انجام دی ہوں،اسے بہت تجربہ ہو تو استفادہ کرنا چاہیے،اس سے بہت فائدہ ہوتا ہے، جب میں ٹیم میں آیا تو کئی لیجنڈز ساتھ موجود تھے، میں نے دنیا کے عظیم کرکٹرز کے ساتھ ڈریسنگ روم شیئر کر کے بہت کچھ سیکھا،ان کی محنت دیکھی کہ وہ کس طرح اپنی کارکردگی کا معیار برقرار رکھتے ہیں، کیسی فزیکل ٹریننگ کرتے ہیں، اسکلز کو بہتر بنانے کیلیے کس طرح پریکٹس کرتے ہیں،اس سے بہت ایڈوانٹیج ہوتا ہے لیکن ہمارے کلچر میں عدم تحفظ بہت زیادہ ہے، یہ نہیں سوچنا چاہیے کہ کوئی آ کر آپ کی جگہ چھین لے گا، اپنی صلاحیت پر یقین ہونا چاہیے، مجھے ہمیشہ بڑے کھلاڑیوں نے خود پر یقین رکھنے کا ہی سبق سکھایا،اس سے آپ کو کبھی عدم تحفظ کا احساس نہیں ہوتا۔

نھوں نے کہا کہ میں اپنی کرکٹ سے لطف اندوز ہو رہا ہوں اور ابھی ریٹائر ہونے کا بالکل بھی نہیں سوچ رہا، جب کبھی ایسا کوئی فیصلہ کیا تو سب کو پتا چل جائے گا،میرا فوکس صرف کھیل پر ہی ہے البتہ اہل خانہ کی مشاورت سے ملک سے دور ہونے والی لیگز میں شرکت کم کر دی، سری لنکا اور بنگلہ دیش جیسی لیگز میں حصہ لے رہا ہوں،پہلے میں ہر لیگ میں کھیل رہا تھااب ایسا نہیں ہے، اس سے مجھے فارغ وقت بھی مل جاتا ہے،البتہ اس وجہ سے میں نے پریکٹس یا فزیکل ٹریننگ بالکل بھی کم نہیں کی سب کچھ پہلے جیسا ہی ہے،جب تک میں کرکٹ سے لطف اندوز ہو رہا ہوں کھیلتا رہوں گا، جب کبھی ایسا لگا کہ بوجھ بنتا جا رہا ہوں تو خوشی سے  کھیل کو الوداع کہہ دوں گا، ریٹائرمنٹ کا فیصلہ لیگز سمیت ہر طرز پر لاگو ہوگا۔

انھوں نے کہا کہ میں نے انڈر13 کیمپ سے کرکٹ کھیلنا شروع کی، پھر انڈر 15،16 اور انڈر 19 کھیلا، قدم بہ قدم آگے بڑھا اور اپنے کیرئیر سے خوش ہوں، کرکٹ یا آپ کو کوئی بھی پروفیشنل ہو اگر آپ اس سے انجوائے نہیں کرتے تو شامل رہنے کا کوئی فائدہ نہیں، ہمیشہ وہ کام کرنا چاہیے جس سے آپ کو خوشی ملے۔

ورلڈکپ کے دوران ٹی وی پر بطور مبصر مصروفیت کے سوال پر انھوں نے کہا کہ اپنے ملک کی نمائندگی کرنا ہر کھلاڑی کی خواہش ہوتی ہے۔ اس سے بڑا کوئی اور اعزاز ہو ہی نہیں سکتا مگر سلیکشن پلیئر کے ہاتھ میں نہیں ہوتی، وہ صرف اپنے کھیل کو بہتر بناتے ہوئے جہاں بھی کھیلنے کا موقع ملے اس سے فائدہ اٹھا سکتا ہے،سب سے اہم بات اپنے کھیل سے لطف اندوز ہونا ہے،اگر آپ کو قومی ٹیم کیلیے منتخب نہ کیا جائے تو جہاں کوئی دوسرا موقع ملے اس سے فائدہ اٹھانا چاہیے اور  یہی میں کرتا ہوں، میں چاہے کلب،انٹرنیشنل یا کسی لیگ کا میچ ہو اسے انجوائے کرتا ہوں، آسٹریلیا میں میچز کھیلنے کیلیے گیا۔

اب سری لنکن لیگ جاری ہے، پھر بنگلہ دیش لیگ کے بعد پی ایس ایل ہو گی، مجھے کرکٹ کافی کھیلنی ہے اور ابھی صرف اسی طرف دیکھ رہا ہوں۔

بابر اعظم کی جانب سے اہم ایونٹس کھلانے کی یقین دہانی کے باوجود ورلڈکپ کیلیے انتخاب نہ ہونے پر انھوں نے کہا کہ اندر کی کہانی کا مجھے علم نہیں ہے،البتہ بابر نے مجھے ایشیا کپ کے دوران بتا دیا تھا کہ یہی اسکواڈ ورلڈکپ میں حصہ لے گا،ہمارا اچھا تعلق ہے۔

میں اسے اپنا چھوٹا بھائی سمجھتا ہوں، بابر کی گرومنگ یا جب کبھی اسے اپنے کھیل کے حوالے سے میری مدد کی ضرورت پڑی تو ساتھ دینے کا مقصد مستقبل میں اپنی سلیکشن نہیں تھا،میں ہمیشہ اس کے ساتھ تھا اور آئندہ  بھی رہوں گا، میں ایسا نہیں ہوں کہ کسی وجہ سے ٹیم میں نہیں آیا تو بابر سے ناراض ہو جاؤں، منہ بنا لوں یا بات نہیں کروں، میری دعائیں ہمیشہ اس کے ساتھ ہیں اور میں چاہتا ہوں کہ وہ آگے بڑھتے رہے، پاکستان ٹیم کی رینکنگ اور خود بابر کی کارکردگی ہمیشہ سب سے آگے رہنی چاہیے،مجھے اس سے کوئی بھی گلہ نہیں ہے۔

کپتان کی جانب سے اپنی عدم سلیکشن پر کسی وضاحت کے سوال پر شعیب ملک نے کہا کہ میری ورلڈکپ کے بعد بابر سے اس حوالے سے کوئی بات نہیں ہوئی،آپ کو اپنے گذشتہ انٹرویو میں ہی بتایا تھا کہ جب بابر کپتان بن گیا تو میں نے تھوڑی دوری اختیار کر لی تھی، قیادت کرتے ہوئے آپ کسی کو اکیلا چھوڑ دیں تو وہ زیادہ سیکھتا ہے، البتہ جہاں مجھے محسوس ہوا کہ بابر کو رہنمائی کی ضرورت ہے تو ضرور ایسا کیا۔

ٹویٹ کی وجہ سے منتخب نہ کیے جانے کا تاثر غلط ہے

متنازع ٹویٹ کے حوالے سے سوال پر شعیب ملک نے کہا کہ اس بات کو اب بہت وقت بیت چکا، جو لوگ سمجھتے ہیں کہ اس وجہ سے مجھے ورلڈکپ کیلیے منتخب نہیں کیا گیا تو یہ غلط ہے،ایشیا کپ میں ہی بابر اعظم نے مجھے بتا دیا تھا کہ یہی ٹیم ورلڈکپ کھیلے گی، وہ ٹویٹ تو بعد میں کی تھی، اس کا کوئی تعلق نہیں تھا،ٹویٹ کرنے کا مقصد یہ تھا کہ جو چیزیں میں نے دیکھیں ان میں بہتری لائی جا سکے۔

وہ کسی کے خلاف نہیں تھی یا میں نے فرسٹریشن میں آ کر ایسا نہیں کیا تھا، میں بالکل بھی ایسا انسان نہیں ہوں کہ غصے میں آکر کوئی ایسا کام کروں جس سے کسی کو نقصان ہو، میرے اردگرد موجود لوگ بھی مجھے بہت اچھی طرح گائیڈ کرتے ہیں۔

ہوسٹنگ شروع کر دی،ایکٹنگ کااچھا موقع ملا تو انکار نہیں کروں گا

اداکاری کے حوالے سے سوال پر شعیب ملک نے کہا کہ میں اپنے لیے کوئی بھی دروازہ بند نہیں کرتا، اگر کوئی اچھا موقع سامنے آیا تو انکار نہیں کروں گا، دیکھتے ہیں آگے کیا ہوتا ہے، میں نے ہوسٹنگ کا کام بھی شروع کر دیا،1،2 شوز میں میزبانی کی بھی ہے،اہل خانہ کے ساتھ زیادہ وقت نہیں ملتا تھا، اب بیٹے نے بھی اسکول جانا شروع کر دیا ہے۔

کوشش ہے فیملی کو بھی وقت دوں۔اگر بائیو پک بنے تو پاکستان اور بھارت میں کون کردار اچھے انداز میں کر سکتا ہے،اس سوال پر شعیب ملک نے کہا کہ دونوں ممالک کی شوبز انڈسٹری میں میرے بہت سارے دوست ہیں میں کسی کو ناراض نہیں کرنا چاہتا،اگر کبھی بائیو پک بنانے کا سوچا تو ضرور اس سوال کا جواب دوں گا، فی الحال ایسا کوئی پلان بھی نہیں ہے۔

اہلیہ سے علیحدگی کے سوال کا جواب دینے سے گریز

اہلیہ ثانیہ مرزا سے علیحدگی کی افواہوں پر شعیب ملک نے کہا کہ یہ ہمارا ذاتی معاملہ ہے، میں نہ اہلیہ کہیں اس سوال کا جواب دے رہے ہیں،اس بات کو رہنے دیں۔

قیادت میں اب دلچسپی نہیں، کراچی کنگزمیں واپسی کی خوشی ہے

پی ایس ایل میں کراچی کنگز میں شمولیت اور بابر اعظم کے جانے پر قیادت کے سوال پر انھوں نے کہا کہ اگر کوئی مجھ سے مشورہ مانگتا ہے تو دستیاب ہوتا ہوں،ضرورت پر قیادت کر بھی لیتا ہوں لیکن مجھے اب اس میں دلچسپی نہیں ہے۔

انھوں نے کہا کہ لیگز وغیرہ میں پروفیشنل کھلاڑی کی ٹیمیں تبدیل ہوتی رہتی ہیں، ٹریڈ کے بعد میں کراچی کنگز میں آیا ،پہلے بھی ابتدائی 2 سیزنز اس ٹیم کیلیے کھیل چکا ہوں،میں واپسی پر خوش اور چاہتا ہوں کہ میری کارکردگی کی وجہ سے ٹیم کوئی کارنامہ انجام دے، ساتھ پشاور زلمی کا بھی شکرگذار ہوں۔

میں نے وہاں بہت اچھا وقت گذارا، اس فرنچائز میں دوستانہ رویے کے حامل بہت اچھے لوگ موجود ہیں جنھوں نے کافی سپورٹ کیا،میں زلمی کا شکر گذار اور ان کیلیے نیک تمنائوں کا اظہار کرتا ہوں۔

انگلینڈ کی کرکٹ ٹیم کا پاکستان آنا بہت بڑی کامیابی ہے

شعیب ملک نے کہا کہ انگلینڈ کی ٹیم کا پاکستان آنا بہت بڑی کامیابی ہے، اس کا کریڈٹ پی سی بی،سیکیورٹی ایجنسیز سب کو دینا چاہیے، جتنی بھی ٹیمیں اور کھلاڑی یہاں آئے وہ بہترین میزبانی کے گن گاتے ہیں،میں یہی چاہتا ہوں کہ بااحسن انداز میں سیریز کا انعقاد ہو اور دیگر ٹیمیں بھی یہاں آتی رہیں،ہم لوگوں نے بہت بْرا وقت دیکھا جب برسوں اپنی انٹرنیشنل کرکٹ یو اے ای میں کھیلی جو ہمارے لیے دوسرے گھر کی طرح ہے۔

انھوں نے کہا کہ انگلینڈ کی ٹیم ٹیسٹ کو بھی ون ڈے کی طرح کھیلتی ہے، ان سے جیتنے کیلیے ہمیں بھی وہی کرنا ہوگا، اگر سلو اور ٹرننگ پچز ہوئیں تو ہمیں بھی کم از کم ساڑھے تین رنز فی اوور کے حساب سے رنز بنانا ہوں گے، وہ جارحانہ کرکٹ کھیلیں گے، انھوں نے 400 رنز کا ہدف بھی عبور کیا،انھیں ہرانے کیلیے ہمیں ایک قدم آگے رہنا پڑے گا،ہماری ٹیم بھی کسی بھی حریف کو شکست دے سکتی ہے۔

جونیئر لیگ میں مینٹور بننے سے کرکٹ کیریئر ختم نہیں ہوا

پی جے ایل میں مینٹور بنا کر پی سی بی نے یہ پیغام تو نہیں دیا تھا کہ اب ریٹائر ہو جائو، اس حوالے سے سوال پر شعیب ملک نے کہا کہ بالکل بھی ایسی بات نہیں تھی،جب مجھے اس معاہدے کی پیشکش ہوئی یا جب دستخط کر رہا تھا اس وقت بھی وضاحت دی گئی تھی کہ سلیکشن ہوئی تو میں قومی ٹیم کے ساتھ جائوں گا۔

ایسا نہیں تھا کہ جونیئر لیگ میں مینٹور بنانے سے میرا کرکٹ کیریئر ختم ہو گیا نہ ہی مجھے پی سی بی سے ایسا کوئی پیغام ملا تھا، حکام نے بھی یہی کہا تھا کہ اگر منتخب کیا گیا تو آپ ٹیم کی نمائندگی کیلیے جائیں گے،پھر ہم کسی اور کو مینٹور بنا لیں گے۔

یہ بھی پڑھیں

پاکستان اور نیوزی لینڈ کے درمیان پہلا ٹیسٹ ڈرا ہوگیا

 کراچی: پاکستان اور نیوزی لینڈ کے درمیان دو میچوں پر مشتمل سیریز کا پہلا ٹیسٹ میچ …