’’بے بی لائنز‘‘ بھی گرین شرٹس کے ہوش اُڑانے لگے

لاہور:
’’بے بی لائنز‘‘ بھی گرین شرٹس کے ہوش اڑانے لگے جب کہ سیریز بچانے کے لالے پڑگئے۔

کارڈف میں منعقدہ پہلے ون ڈے میں نوآموز انگلش ٹیم نے گرین شرٹس کو حیران و پریشان کرتے ہوئے آسان فتح سمیٹی، مہمان بیٹنگ لائن کی ٹاپ آرڈر چلی نہ مڈل آرڈر میں ہی کوئی بڑی اننگز دیکھنے میں آئی،فخرزمان اور شاداب خان ہی تھوڑی مزاحمت کرپائے،ہدف معمولی تھا تو مہمان بولرز نے بھی غیر معمولی کارکردگی پیش کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کی۔

انگلینڈ نے 36ویں اوور میں ہی صرف ایک وکٹ گنواکر فتح کوگلے لگا لیا،ابگرین شرٹس کو خوش قسمتی سے اعتماد کی بحالی کیلیے لارڈز کا میدان میسر آگیا جہاں اس کا ریکارڈ قدرے بہتر رہا ہے۔

ٹیم نے انگلینڈ کیخلاف 8میں سے 4میچز جیتے ہیں،آخری باہمی مقابلہ 2016میں ہوا جس میں میزبان سائیڈ 4وکٹ سے سرخرو ہوئی،مجموعی طور پر گرین شرٹس نے یہاں مختلف ٹیموں کیخلاف 13میں سے 6میچز میں کامیابی حاصل کی،7میں شکست ہوئی۔

خوش آئند بات یہ ہے کہ پاکستان نے لارڈز میں گذشتہ 5میں سے 4میچزجیتے ہیں، ورلڈکپ 2019میں جنوبی افریقہ کو 49اور بنگلہ دیش کو 94رنز سے مات دی تھی۔

دوسری جانب لارڈز واحد ہوم گراؤنڈ ہے، جہاں 2015 کے بعد میزبان ٹیم کی فتوحات 50،50ہیں،ورلڈکپ 2019میں نیوزی لینڈ کیخلاف یادگار فتح کی خوشگوار یادیں بھی وابستہ ہیں۔لارڈز میں پاکستان ٹیم کی ٹاپ آرڈربیٹنگ کو خواب غفلت سے جاگنا ہے۔

جنوبی افریقہ میں بہتر کارکردگی پیش کرنے والے امام الحق، بابر اعظم اور محمد رضوان کو پہلے میچ کی ناکامی کا ازالہ کرنا ہوگا، ڈیبیو میچ میں ناکام رہنے والے سعود شکیل کو اہلیت ثابت کرنے کا دوسرا موقع ملے گا، ٹاپ آرڈر کی بہتر کارکردگی پی ایس ایل کے ٹاپ پرفارمر صہیب مقصود کے اعتماد میں بھی اضافہ کرے گی۔

پیسرز شاہین شاہ آفریدی اور حسن علی کو لائن و لینتھ کا بھولا ہوا سبق یاد کرنا ہوگا، مہنگے ثابت ہونے والے حارث رؤف کو باہر بٹھانے کا فیصلہ کیا ہوا تو محمد حسنین کو شامل کیا جائے گا،فہیم اشرف بیٹ اور بال دونوں سے کم بیک کرنے کے خواہاں ہوں گے، شاداب خان کو بولنگ میں کھوئی ہوئی کاٹ واپس لانا ہے۔

دوسری جانب انگلش بیٹنگ لائن اپ کی زیادہ آزمائش نہیں ہوئی کیونکہ پہلے میچ میں ایک اوپنر کی وکٹ گنواکر ہی ہدف حاصل ہوگیا تھا،ٹاپ 7میں کسی تبدیلی کا کوئی امکان نہیں لگتا،ثاقب محمود لارڈز کی کنڈیشنز کا بھی بھرپور فائدہ اٹھا سکتے ہیں، میٹ پارکنسن ایک بار پھر افادیت ثابت کرنے کیلیے بے تاب ہوں گے۔

اگر بولرز میں کسی تبدیلی کی ضرورت محسوس ہوئی تو کریگ ایورٹن کی جگہ جیک بال اور برائیڈن کارسی کو ڈراپ کرکے ٹام ہیلم کو شامل کیا جا سکتا ہے، میچ کی صبح، دوپہر اور سہ پہر کو بارش کا امکان ہے، آغاز بھی متاثر ہوسکتا ہے، منتظمین پْرامید ہیں کہ صورتحال بہتر ہونے پر مقابلہ نتیجہ خیز بنانے کا موقع مل جائے گا۔

یہ بھی پڑھیں

پڑھائی کے دوران وقفہ، حافظے کےلیے مفید قرار

جرمنی: قریباً 100 برس قبل جرمن ماہرِ نفسیات، ہرمن ایبنگہاس نے اپنی معرکتہ آلارا کتاب …