یہ دیوقامت جانور چار ہاتھیوں سے بھی زیادہ وزنی تھا!

بیجنگ:
چینی اور امریکی سائنسدانوں کی مشترکہ ٹیم نے آج سے تقریباً 2 کروڑ 65 لاکھ سال قدیم ایک ایسے دیوقامت جانور کی باقیات دریافت کرلی ہیں جو موجودہ زمانے کے چار بڑے افریقی ہاتھیوں سے بھی زیادہ وزنی ہوا کرتا تھا۔

ریسرچ جرنل ’’کمیونی کیشنز بائیالوجی‘‘ کے تازہ شمارے میں آن لائن شائع ہونے والی تحقیق کے مطابق، اس قدیم و معدوم جانور کے رکازات (فوسلز) شمال مغربی چین کے صوبے گینسو سے دریافت کیے گئے ہیں۔ اسے ’’پیراسیریتھیریئم لنکشیائنس‘‘ (Paraceratherium linxiaense) کا سائنسی نام دیا گیا ہے۔

یہ دیوقامت جانور ’’ممالیہ‘‘ (میمل) تھا، یعنی اپنے بچوں کو دودھ پلایا کرتا تھا۔ اس کے رکازات دیکھ کر ماہرین نے اندازہ لگایا ہے کہ شاید یہ خشکی پر رہنے والا وہ سب سے بڑا ممالیہ تھا جو آج تک دریافت ہوا ہے۔

اندازہ ہے کہ یہ 24 ٹن وزنی تھا۔ اپنی آسانی کےلیے یوں سمجھ لیجیے کہ ایک ’’پیراسیریتھیریئم لنکشیائنس‘‘ کا وزن آج کے آٹھ سفید گینڈوں یا چار بڑے افریقی ہاتھیوں جتنا تھا۔

جسمانی اعتبار سے یہ مجموعی طور پر 26 فٹ کے لگ بھگ لمبا تھا، جبکہ کندھوں تک اس کی اونچائی 16 فٹ تھی۔

اتنا دیوقامت ہونے کے باوجود یہ بہت بے ضرر تھا اور اپنی لمبی گردن کو 23 فٹ تک بلند کرکے، درختوں کی اونچائی پر لگے ہوئے پتے اور پھل کھایا کرتا تھا۔

اس تحقیقی ٹیم کی قیادت چائنیز اکیڈمی آف سائنسز، بیجنگ کے پروفیسر تاؤ ڈینگ کررہے تھے جبکہ دیگر چینی اداروں کے علاوہ ایک امریکی ماہر، ڈاکٹر لارنس فلن بھی اس کام میں شریک تھے۔

ارتقائی نقطہ نگاہ سے ’’پیراسیریتھیریئم لنکشیائنس‘‘ اُن جانوروں کے گروہ سے تعلق رکھتا تھا جو بتدریج ارتقاء پذیر ہوتے ہوئے موجودہ دور کے گینڈوں میں تبدیل ہوگئے۔ اسی بناء پر یہ ’’بغیر سینگ والے گینڈوں‘‘ کا گروہ بھی کہلاتا ہے۔

پاکستان سے دریافت ہونے والا ’’بلوچی تھیریئم‘‘ (Baluchitherium) بھی اسی گروہ کا ایک رکن تھا اور تقریباً ساڑھے تین کروڑ (35 ملین) سے ڈھائی کروڑ (24 ملین) سال پہلے بلوچستان میں رہتا تھا، جو اُس زمانے میں سرسبز اور گھنے جنگلات سے بھرپور ہوا کرتا تھا۔

’’پیراسیریتھیریئم لنکشیائنس‘‘ کے جسمانی خدوخال میں بلوچی تھیریئم سے واضح مماثلت دیکھی جاسکتی ہے۔ البتہ وہ جسامت میں بلوچی تھیریئم سے بھی بڑا تھا۔

چین سے ’’پیراسیریتھیریئم لنکشیائنس‘‘ کے ملنے والے رکازات ایک کھوپڑی اور ریڑھ کی چند ہڈیوں کی باقیات پر مشتمل ہیں جو خاصی محفوظ اور مکمل حالت میں ہیں۔

ماہرین نے ان ہی باقیات کھوپڑی کی جسامت اور بناوٹ کو دیکھتے ہوئے اس کے باقی جسم سے متعلق محتاط اندازے لگائے ہیں جن کے مطابق، اس دیوقامت ممالیہ کی ٹانگیں شاید کسی بھی دوسرے ممالیہ سے زیادہ لمبی تھیں جبکہ یہ ’’چوپایہ‘‘ تھا یعنی چار پیروں پر چلنے والا جانور تھا۔

واضح رہے کہ پاکستان اور چین کے علاوہ منگولیا اور قازقستان سے بھی اسی گروہ کے دوسرے دیوقامت جانوروں کی باقیات دریافت ہوچکی ہیں۔

یہ رکازات ظاہر کرتے ہیں کہ آج سے کروڑوں سال پہلے کا براعظم ایشیا نہ صرف سرسبز و شاداب تھا بلکہ یہاں اونچے درختوں والے گھنے جنگلات بھی جگہ جگہ پھیلے ہوئے تھے۔

یہ بھی پڑھیں

پڑھائی کے دوران وقفہ، حافظے کےلیے مفید قرار

جرمنی: قریباً 100 برس قبل جرمن ماہرِ نفسیات، ہرمن ایبنگہاس نے اپنی معرکتہ آلارا کتاب …