پاکستان سائنس سے دور ہوتا جا رہا ہے، پروفیسرنوم چومسکی

(میڈیا92نیوز) معروف بین الاقوامی ماہر لسانیات، فلسفی، سماجی نقاد اور بزرگ سیاسی کارکن نوم چومسکی نے افسوس کا اظہار کیا ہے کہ پاکستان سائنس سے دور ہوتا جا رہا ہے، ملک کے مستقبل کیلئے ضروری ہے کہ نصاب میں سائنس کے ساتھ دنیا کے منظرنامے کو بھی پڑھانا چاہئے۔

حبیب یونیورسٹی کی ’’یوشین‘‘ لیکچر سیریز میں خطاب کرتے ہوئے نوم چومسکی نے کہا کہ جنوبی ممالک میں موجود جامعات کیلئے ضروری ہے کہ وہ منطقی تعلیمی نظام کو بچائیں اور دنیا کو حقیقت پسندی کی نظر سے دیکھیں۔

لیکچر کے دوران ڈاکٹر چومسکی نے حالیہ امریکی صدارتی الیکشن کے نتائج پر بات کی اور ساتھ ہی دنیا میں بڑھتے جوہری خطرات، کمزور پڑتے جمہوری نظام اور ماحولیاتی تباہی کا بھی ذکر کیا۔

انہوں نے کہا کہ اس وقت دنیا کو چار بڑے خطرات کا سامنا ہے جن میں جوہری جنگ، ماحولیاتی بربادی، دنیا بھر میں جمہوریت کا انحطاط اور حالیہ کورونا وائرس کی وبا شامل ہے۔

انہوں نے کہا کہ دنیا ایک تباہی کے دہانے پر کھڑی ہے۔ انہوں نے کہا کہ چار بڑے خطرات میں سے کورونا وائرس کم خطرناک ہے لیکن اس سے نکلنے کی قیمت بڑی اور غیر ضروری ہے۔

انہوں نے کہا کہ دیگر اہم خطرات دنیا کی سیاست کی حرکیات تبدیل کر دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ آج دنیا کو جس جوہری جنگ کا خطرہ ہے اس سے نہ صرف ان ممالک کو نقصان ہوگا جو اس میں شامل ہوں گے بلکہ جوہری جنگ کے نتیجے میں آنے والی ایٹمی سردی پوری دنیا کو نقصان پہنچائے گی۔

انہوں نے کہا کہ وبا کے دنوں میں موجودہ دور کی نسل کو ایسے سوالات کا سامنا ہے جس کا سامنا کبھی بھی پوری انسانیت کو نہیں ہوا۔

انہوں نے امریکا میں گزشتہ چالیس برسوں کے دوران جمہوریت کو ہونے والے نقصانات پر بات کرتے ہوئے کہا کہ امریکا میں اعشاریہ ایک فیصد طبقہ ملک کی پوری دولت کے بیس فیصد حصے پر قابض ہے اور اس کا جمہوریت پر منفی اثر مرتب ہوتا ہے، جب دولت اتنے محدود طبقے تک محدود ہو جائے تو یہ صورتحال سرکاری کام کاج پر منفی اثرات مرتب کرتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ جس بنیادی سماجی ڈھانچے پر جمہوریت کام کرتی ہے وہ بری طرح خراب ہوا ہے۔ یاد رہے کہ پروفیسر نوم چومسکی یونیورسٹی آف ایریزونا اور ماساچیوسیٹس انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی میں انسٹی ٹیوٹ پروفیسر ایمریٹیئس ہیں۔

وہ 100؍ سے زائد کتب کے مصنف ہیں انہیں کئی ایوارڈز سے نوازا جا چکا ہے جن میں کیوٹو پرائز، ہیلمولٹز میڈل اور بین فرینکلن میڈل شامل ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

ایسے میں ایسا ہی ہوتا ہے

جیسا معاشرہ ویسی قومی اسمبلی۔ ممبرانِ اسمبلی مریخ سے تو نہیں آئے ہوتے ہم میں …