ایڈیشنل آئی جی جنوبی پنجاب کے فرائض بارے میں نیا اسٹینڈنگ آرڈر جاری

لاہور(رپورٹ عامر بٹ)آئی جی پنجاب انعام غنی نے ایڈیشنل آئی جی جنوبی پنجاب کے فرائض بارے نیا اسٹینڈنگ آرڈر جاری کردیا ہے۔ اسٹینڈنگ آرڈر میں آپریشنل، انویسٹی گیشن، انتظامی اور معاشی امور سے متعلق اختیارات کی تفصیل بیان کی گئی ہے۔ انویسٹی گیشن سے متعلقہ تمام امور کی نگرانی اورپولیس آرڈر2002کے آرٹیکل 18اور 18Aکے تحت تفتیش سے متعلقہ صوبائی پولیس سربراہ کے تمام اختیارات حاصل ہونگے۔جس میں طے شدہ طریقہ کار کے مطابق تیسری مرتبہ انویسٹی گیشن کی تبدیلی کیلئے منظوری دینا بھی شامل ہے۔ گریڈ 18تک ایس پی، ڈی ایس پی اور انسپکٹر سمیت ایگزیکٹو، منسٹریل اور دیگر سٹاف کی ٹرانسفر پوسٹنگ کرنے کے مجاز ہونگے۔ سروس اور ڈسپلن سے متعلقہ امور جیساکہ گریڈ 17تک ایگزیکٹو اور منسٹریل سٹاف کی اپیلوں بارے انتظامی اختیارات استعمال کرسکیں گے۔ریجنل پولیس آفیسر، ڈی آئی جی اور اے آئی جی کی اے سی آرز اپنی ڈائریکٹ کمانڈ میں لکھیں گے۔ سٹی پولیس آفیسرز،ڈی پی او اور دیگر افسران کی اے سی آرز پر کاؤنٹر سائن کریں گے۔گریڈ 17سے 19تک ایگزیکٹو آفیسرزاور گریڈ 17تک منسٹریل سٹاف اے سی آرزمیں سیکنڈ کاؤنٹر سائننگ آفیسر کے اختیارات استعمال کریں گے۔نئے فنکشنل ہیڈ "LQ-South Punjab”کے کنٹرولنگ آفیسر کے اختیارات استعمال کریں گے جس کا یکم جولائی 2021سے جنوبی پنجاب کے تین پولیس ریجنز اور 11اضلاع کیلئے آغا زہورہا ہے۔ پولیس ریجنز، اضلاع اور دیگر دفاتر کے تمام مالی معاملات کی نگرانی کریں گے۔گریڈ 17تک ایگزیکٹو او ر منسٹریل سٹاف کے پنشن کیسزکی منظوری دیں گے۔ ایک کیس میں 5لاکھ تک میڈیکل اخراجات کے بل اور ٹی اے ڈی اے بلز کی منظوری دیں گے۔ایڈیشنل آئی جی ساؤتھ پنجاب ڈیرہ غازی خان، بہاولپوراور ملتان ریجن کے اضلاع میں پبلک آرڈرکی بحالی، جرائم کی روک تھام، عوام کے تحفظ، پولیس آپریشنز، انویسٹی گیشن، ٹریفک، پولیس کے دیگر فرائض سمیت پولیس آرڈر 2002کے آرٹیکل 3اور4میں درج فرائض کی نگرانی کریں گے۔سی ٹی ڈی اور دیگر صوبائی اداروں کو آپریشن، انکوائری اور تفتیشی امور میں تعاون فراہم کریں اور آئی جی پنجاب کو مطلع رکھیں گے۔تمام ترقیاتی سکیموں کی نگرانی، ان پر پیش رفت کا جائزہ اور مستقبل کیلئے نئے پراجیکٹس اور پروگرامز کی منصوبہ کریں گے۔ آر پی اوز اور ڈی پی اوز کی جانب سے فنڈز کی ڈیمانڈ بارے بجٹ تیار کریں گے۔ لاجسٹکل، معاشی اور ہیومن ریسورس کی نگرانی اور ان کے بہتر سے بہتر استعمال کی نگرانی کریں گے۔ تھانوں، پولیس لائنز، دفاتر سمیت دیگر پولیس دفاتر میں جاری کردہ ہدایات کی چیکنگ کیلئے بروقت رسمی و غیر رسمی انسپکشن کریں گے۔فورس کی ویلفیئر اور تربیتی امور کے حوالے سے جاری پروگرامز کی نگرانی کریں گے۔ عوامی شکایات کے بروقت ازالے کیلئے پبلک کمپلینٹ مینجمنٹ سسٹم کی نگرانی کریں گے۔ سنٹرل پولیس آفس کی جانب سے جاری کردہ ہدایات، پالیسیز اور ایس او پیز پر عمل درآمد کو یقینی بنائیں گے۔ ڈی ایس پی یا دیگرسینئر افسران کی کارکردگی،راست بازی اور پبلک سروس ڈلیوری کے معیار کے متعلق آئی جی پنجاب کو مطلع رکھیں گے۔ سنٹرل پولیس آفس کے دیگر شعبوں اوردیگر پولیس یونٹس کے ساتھ کوارڈی نیشن رکھیں گے۔ "LQ4126-SUPERINTENDENCE”فنکشل ہیڈ کے تحت معاشی امور کی نگرانی کریں گے۔ بوقت ضرورتDDOکے اختیارات استعمال کرسکیں گے۔ آئی جی پنجاب انعام غنی کا کہنا تھا کہ سٹینڈنگ آرڈر میں درج بالا تمام ہدایات اور احکامات پر عمل درآمد یقینی بنایاجائے۔

یہ بھی پڑھیں

فاقہ نہ کیجیے، کم کھائیے… زیادہ وزن گھٹائیے

لندن: اگر آپ اپنا وزن گھٹانا چاہتے ہیں تو پورا دن فاقہ کرنے سے بہتر …