ڈاکٹرآمنہ یوسف کی ایک اور آزاد نظم …وقتِ فراق

وقتِ فراق سوچتا ہوں کیسا پایاجاؤں گا وہ راضی ہوگا

یا مجرموں کی طرح پیش کیا جاؤں گا

اعمال کا کیا بنے گا

کیا جزا کا معاملہ ہوگا

یا سزا کا سامنا ہوگا

وقتِ فراق سوچتا ہوں کیسا پایا جاؤں گا

ابنِ آدم بن کر پھر جنّت سے نکالا جاؤں گا

یا پھر امتِ محمدیﷺ سمجھ کر بخش دیا جاؤں گا

بھٹکا ہوا پیکر ابلیس کا ہی گردانہ جاؤں گا

یا پھر زُلیخا کی سی راہ پاؤں گا

وقتِ فراق سوچتا ہوں کیسا پایا جاؤں گا

دنیا میں کہاں میں نے حقیقی کو پایا

بن کر یعقوب(علیہ السّلام) بس مجازی کے پیچھے

سب کا سب آنکھوں کہ نور گنوایا

گردان کر مومن خود کو کیسے صراط پارکر پاؤں گا

وقتِ فراق سوچتا ہوں کیسا پایا جاؤں گا

وقت تھوڑا لمبی خواہشیں، ہے دوڑ مجازی کی

بھلایا ہے حقیقی کو میں نے

گھڑا جب ٹّوٹا تو جان جاؤں گا

فریب تھی دنیا اور کیا انجام پاؤں گا

وقتِ فراق سوچتا ہوں کیسا پایا جاؤں گا

یہ بھی پڑھیں

کے پی کے کی دو یونیورسٹیوں میں جینز ، شرٹس اور میک اپ پر پابندی عاید

پشاور(نیوز ڈیسک) کے پی کے کی دو یونیورسٹیوں میں جینز ، شرٹس اور میک اپ …