’دنیا کا بہترین ویکیوم کلینر بنانے میں 5126 ناکامیاں دیکھیں،‘ برطانوی موجد

لندن: برطانیہ کے غیرمعمولی امیر موجد اور کئی کمپنیوں کے مالک جیمز ڈائسن نے اپنے ایک انٹرویو میں دلچسپ انکشاف کیا ہے کہ انہوں نے روایتی تھیلے والے ویکیوم کلینر کو بدلنے کی ٹھانی تو اس میں کئی برس کا عرصہ لگا اور انہوں نے کئی ڈیزائن تیار کئے جن میں مجموعی طور پر 5000 سے زائد ناکامیوں اور غلطیوں کا سامنا ہوا۔ آخر کار وہ دنیا کا بہترین ویکیوم کلینر بنانے میں کامیاب ہو ہی گئے۔

انہوں نے بتایا کہ 1983 میں دنیا کے بہترین اور تمام مسائل سے آزاد ویکیوم کلینر بنانے میں انہیں چار سال کی محنت لگی یہاں تک کہ انہوں نے ہزاروں مرتبہ اسے ڈیزائن کیا۔ وہ کہتے ہیں کہ ایجاد کسی خیال کے اچانک کوندنے سے وجود میں نہیں آتی بلکہ حتمی کامیابیوں سے پہلے بہت سی ناکامیاں ہوتی ہیں۔

اس سے قبل ویکیوم کلینر میں بیگ نما ساخت شامل کی جاتی تھی جو گردوغبار کی وجہ سے اکثر بند ہوجاتی تھی اور یوں ویکیوم کلینر کی افادیت کم ہوجاتی تھی۔ ڈائسن نے اس میں گردوغبار کو الگ کرنے والا ایک مؤثر نظام بھی شامل کیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ہمارے گھر میں ایک پرانا ویکیوم کلینر تھا جس کےدستے سے کپڑے کا تھیلا لٹکا رہتا تھا۔ 1950 کے عشرے میں ہمارے گھر کی دیوار میں تو کوئی پاور ساکٹ بھی نہ تھا اور ایک اسٹول پر کھڑے ہوکر کلینر کے تار کو بلب وغیرہ کے تار سے جوڑا جاتا تھا جو پریشان کن مرحلہ تھا۔
اس لمحے ڈائسن کو ویکیوم کلینر نئے سرے سے تیار کرنے کا خیال آیا۔ شدید غربت اور قرض کے باوجود وہ بینک سے قرض لینے میں کامیاب ہوگئے اور اپنی ایجاد پرکام شروع کردیا۔ پہلے مرحلے پر انہوں ںے ویکیوم کلینر کو مٹی کے باریک ذرات جمع کرنے کے قابل بنایا اور اب مسلسل ناکامیوں کے بعد ان کا نیا ڈیزائن دنیا بھر میں فروخت ہورہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں

روس کی یونیورسٹی میں طالب علم کی فائرنگ سے 8 افراد ہلاک

ماسکو: روس کی یونی ورسٹی میں طالب علم نے فائرنگ کرکے 8 افراد کو قتل …