ابتدائی زندگی کے تجربات عمر بھر کا روگ بن سکتے ہیں، تحقیق

بیتھیسڈا:
دماغی صحت کے حوالے سے ایک اہم تحقیق سامنے آئی ہے جس کی بنا پر کہا گیا ہے کہ ابتدائی زندگی میں لوگوں سے آپ کے روابط، برتاؤ اور ابتدائی حیات کے تجربات کا جو اثر ذہن پر پڑتا ہے اس کے نقوش تمام زندگی پر حاوی ہوسکتے ہیں اور وہ آپ کے موڈ میں اتارچڑھاؤ کی وجہ بنتے رہتے ہیں۔

اس سروے سے نفسیاتی امراض اور دماغی صحت کی تحقیق کے نئے در کھلیں گے۔ ای لائف جرنل میں شائع ہونے والی اس تحقیق میں کہا گیا ہے کہ حالیہ واقعات کی بجائے زندگی کے ابتدائی تجربات ہمارے مزاج کو بہت حد تک متاثرکرتے ہیں۔ ان نتائج کا اطلاق تجرباتی اور تجربہ گاہی (کلینکل) ماحول میں بھی ہوسکتا ہے اور موڈ بہتر بنانے کے لیے نئے طریقہ ہائے علاج دریافت ہوسکیں گے۔

امریکا کے نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ کے شعبہ دماغی صحت سے وابستہ پروفیسر ہینا کیرن اور ان کے ساتھیوں نے یہ تحقیق کی ہے۔ اس کے لیے ایک کمپیوٹر ماڈل بھی بنایا گیا جسے پرائمیسی ماڈل کیا گہا ہے یعنی پرانے تجربات کے جذبات پر کیا کچھ اثرات ہوتےہیں۔ اس میں شامل افراد سے زندگی کے ابتدائی تجربات، یا حالیہ واقعات اور موڈ کے اثرات کے متعلق سوالات پوچھے گئے۔ اس کے بعد ایک اور ماڈل بنایا گیا جسے ’ریسنسی (حالیہ واقعات کا) ماڈل‘ کہا جاتا ہے۔ اس میں دیکھا جاتا ہے کہ حالیہ واقعات و تجربات کس طرح انسانی نفسیات اور موڈ کو متاثر کرتےہیں۔

دونوں ماڈلوں پر تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ زندگی کے ابتدائی تجربات اور واقعات ہمارے موڈ اور احساسات کو قدرے زیادہ متاثر کرتے ہیں۔ اس کی تصدیق کمپیوٹیشنل ماڈلوں سے بھی کی گئی ہے۔ اب اس کی تصدیق کے لیے کئی بالغ رضاکار بھرتی کئے گئے۔

انہیں ایک بڑے اور طویل گیم میں بھی شامل کیا گیا جس میں کئی مراحل پر ان کی خوشی اور ناخوشی کو نوٹ کیا گیا۔ پھر دوسرے تجربے میں نوعمر لڑکوں اور لڑکیوں کو عین اسی گیم میں کھیلنے کو کہا گیا۔ اس دوران دونوں شرکا کے دماغی اسکین لیے گئے جو ایف ایم آر آئی اسکین کہلاتے ہیں۔ یہ اسکین مختلف دماغی گوشوں کے افعال کو ظاہر کرتا ہے۔ اس دوران شرکا سے ڈپریشن اور ان کے اوقات کے بارے بھی سوالات کئے گئے اور آخرکار ان کے موڈ کو بھی نوٹ کیا گیا۔

دونوں طرح کے رضاکاروں (یعنی زیادہ عمر اور کم عمر والے) پرابتدائی واقعات کے گہرے اثرات مرتب ہوئے۔ ثبوت کے طور پر ان کے دماغ میں وہ گوشے سرگرم دیکھے گئے جو موڈ اور ڈپریشن سے وابستہ ہوتےہیں۔ اگرچہ یہ ایک چھوٹے سے کھیل کے نتائج ہیں لیکن اس کا اطلاق انسانی نفسیات پر کیا جاسکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں

پڑھائی کے دوران وقفہ، حافظے کےلیے مفید قرار

جرمنی: قریباً 100 برس قبل جرمن ماہرِ نفسیات، ہرمن ایبنگہاس نے اپنی معرکتہ آلارا کتاب …