آنتوں کے بیکٹیریا فالج کی شدت بڑھا سکتے ہیں

اوہایو:
گزشتہ کئی ماہ سے معدے اور آنتوں کے خردنامیوں مثلاً بیکٹیریا وغیرہ کے دماغ پر اثرات پر کئی خبریں سامنے آتی رہی ہیں۔ اب خبر یہ ہے کہ ہماری آنتوں میں خاص قسم کے بیکٹیریا کی بہتات خدانخواستہ فالج کو مزید شدید بنادیتے ہیں۔

اس ضمن میں کہا گیا ہے کہ ایک خاص بیکٹیریا ایک میٹابولائٹ خارج کرتا ہے جو عام فالج کو بھی پرخطراور پیچیدہ بنادیتا ہے۔ یہ تحقیق کلیولینڈ، اوہایو کے ایک مشہور کلیولینڈ کلینک میں کی گئی ہے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ خاص میٹا بولائٹ یا تو فالج کو بڑھاوا دیتا ہے یا پھر متاثرہ شخص کی بحالی پر اثرانداز ہوتا ہے۔

جب ہم جانوروں کا گوشت بالخصوص سرخ گوشت کھاتےہیں تو پیٹ میں بیکٹیریا کی جانب سے نظامِ ہاضمہ میں ایک مرکب، ٹرائی میتھائلمائن این آکسائیڈ یعنی ٹی ایم اے او بننے اور خارج ہونے لگتا ہے۔ ہم پہلے سے ہی جانتے ہیں کہ ٹی ایم اے او بلڈ پریشر بڑھاتا ہے اور امراضِ قلب کی وجہ بنتا ہے۔ اب پہلی مرتبہ انکشاف ہوا ہے کہ یہی مرکب بہت مضر ہے کیونکہ یہ فالج کو شدید تربنادیتا ہے۔

اس کے لیے دو افراد کے فضلے کو ٹیسٹ کیا گیا۔ ان میں سے پہلے ٹی ایم اے او کی زائد اور کم مقدار والے نمونے شناخت کئے گئے۔ بعد ازاں انہیں دو مختلف گروہ والے چوہوں میں منتقل کیا گیا۔ اس طرح ایک چوہے میں ٹی ایم اے او کی مقدار بہت زیادہ اور دوسرے میں بہت کم تھی۔ پھر ان چوہوں میں مصنوعی طور پر فالج پیدا کیا گیا تو دونوں اقسام کے جانوروں میں اس کے الگ الگ نتائج ظاہر ہوئے۔

ماہرین کے مطابق ٹی ایم اے او اور فالج کے درمیان ایک واضح تعلق سامنے آیا۔ اس کےبعد خردنامئے پر غور کیا گیا تو پتا چلا کہ اس سے ایک خامرے سی یو ٹی سی کا اخراج ہورہا تھا جو آگے چل کر ٹی ایم اے او بناتا ہے۔ خیال ہے کہ بیکٹیریا کا جین کیو یوٹی سی کو بناتا ہے۔ جب فالج ذدہ چوہے میں ٹی ایم اے او کم کیا گیا تو ان میں فالج کا اثر بھی کم ہونا شروع ہوگیا۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا اس طرح ہم انسانوں میں فالج کے اثر کو کم اور شفا کے عمل کو بڑھا سکتے ہیں؟ یقیناً اب اس پر مزید تحقیق کی جائے گی۔ لیکن اس سے پہلے کیو یو ٹی سی اور دیگر عوامل پر تحقیق کرنا ہوگی۔

یہ بھی پڑھیں

پڑھائی کے دوران وقفہ، حافظے کےلیے مفید قرار

جرمنی: قریباً 100 برس قبل جرمن ماہرِ نفسیات، ہرمن ایبنگہاس نے اپنی معرکتہ آلارا کتاب …