برطانوی طلبا کی ریموٹ کنٹرول گاڑیاں چاند پر دوڑیں گی

(میڈیا92نیوز)اگلے سال چاند پر دو ریموٹ کنٹرول کاروں کے درمیان ریسنگ کا مقابلہ ہوگا اور دلچسپ بات یہ ہے کہ ان گاڑیوں کو برطانوی ہائی اسکول کے طلباوطالبات نے ڈیزائن کیا ہے۔

اگلے برس اکتوبر میں یہ گاڑٰیاں اسپیس ایکس کے فالکن نائن کے راکٹ کے ذریعے بھیجی جائے گی اور انہیں چاند پر اترنے والی پہلی نجی کمپنی کی تیارکردہ سواری کے اندر رکھا جائے گا۔ گاڑیوں کو کچھ اس طرح ڈیزائن کیا گیا ہے کہ وہ چاند پر زمین کے چھٹے حصے کے برابر کم ثقل کے ماحول میں ایک مخصوص راہ پر دوڑیں گی۔

یہ مقابلہ مون مارک اسپیس نامی کمپنی نے منعقد کرایا ہے جو سائنسی اور تفریحی کمپنی ہے۔ کار کا ڈیزائن ابھی تک حتمی ہے اور منتخب ٹیم فرینک اسٹیفنسن کے ساتھ کام کرے گی جو مک لارن پی وی نامی مشہور کار ڈیزائن کرچکے ہیں۔ اس طرح دنیا کی پہلی گاڑی چاند کی سطح پر دوڑے گی۔پہلے آٹھ ہفتے تک مختلف کالجوں کے طلباوطالبات کے درمیان مقابلے ہوں گے اور پانچ پانچ اراکین کی چھ ٹیموں کے درمیان مقابل ہوگا۔ آخر میں بچ رہنے والی دو ٹیموں کی دو کاروں کے درمیان چاند پر دوڑ کا میلہ لگے گا۔ ان چیلنجوں میں ای گیمنگ، ڈرون ریسنگ اور خلائی تجارتی عمل (کمرشلائزیشن) کے مراحل بھی شامل ہیں۔

اس مقابلے کو موبائل آٹونومس پروسپیکٹنگ پلیٹ فارم (ایم اے پی پی) کا نام دیا گیا ہے۔ جس کے تحت چاند کو وسیع مقاصد کے لیے استعمال کرنا ہے اور نوجوان نسل میں خلائی سائنس و ٹیکنالوجی کا شعور پہنچانا ہے۔ دونوں ریسنگ گاڑیوں کو نووا سی لینڈر(بڑی سواری) کے ذریعے چاند پر اتارا جائے گا جسے ہیوسٹن کی ایک کمپنی انٹیوٹو مشین نے تیار کیا ہے۔ اس سواری کو اسپیس ایکس فالکن نائن راکٹ سے چاند تک بھیجا جائے گا۔مقابلے کے تحت ہر گاڑی کا وزن صرف ساڑھے پانچ پونڈ رکھا گیا ہے لیکن اسے چاند پر بھیجنا ایک بہت مہنگا نسخہ ہے کیونکہ چاند پر ایک پونڈ وزنی سامان بھیجنے پر 544,000 ڈالر خرچ ہوتے ہیں اور اس طرح دو کاروں کو بھیجنے پر ایک کروڑ ڈالر خرچ ہوں گے۔

نووا سی لینڈر دنیا کی پہلی قمری سواری ہے جو چاند کے ایک ہموار مقام اوشینیئس پروسیلرم پر اترے گی۔ تاہم اس سے قبل دونوں قمری گاڑیوں کا مقابلہ ہیوسٹن میں ہوگا جہاں ان کی کارکردگی کا جائزہ لیا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیں

ایسے میں ایسا ہی ہوتا ہے

جیسا معاشرہ ویسی قومی اسمبلی۔ ممبرانِ اسمبلی مریخ سے تو نہیں آئے ہوتے ہم میں …