معہد الحرم المکی ، علمی اور روحانی درس گاہ

امام ابو حنیفہؒ ہوں یا امام مالکؒ، امام شافعیؒ ہوں یا امام احمدؒ، یہ سب حرم شریف کے اسکول کے فیض یافتہ ہیں،شاہ ولی اللہ محدث دہلوی ؒ بھی ان میں سے ایک ہیں
مسجد الحرام اسلام کے عصر اول سے لیکر عصر حاضر تک اسلامی اور عرب علوم و فنون کی عالمی درس گاہ کے طور پر اپنا ایک مقام بنائے ہوئے ہے۔ یہ وہ درس گاہ ہے جس میں صحابہ کرام ؓ نے ایک دوسرے کے سامنے زانوے تلمذ طے کئے۔ یہ وہ تعلیم گاہ ہے جہاں تابعین اور ان کے شاگردوں تبع تابعین نے ایک دوسرے سے حدیث، علوم حدیث ، تفسیر ، علوم تفسیر، فقہ ، اصول فقہ، تاریخ ، عقائد،طب اور سماجی و عمرانی علوم حاصل کئے۔
دنیائے اسلام کے گوشے گوشے سے بڑے بڑے علماء، محدث، مفسر ، فقیہ ، مورخ اور مختلف علوم کے ماہرین اپنے ذہنوں میں دسیوں سیکڑوں سوالات مرتب کرکے حرم شریف کا رخ کرتے، اس جذبے اور اس قصد سے نکلتے کہ حرم شریف پہنچیں گے تو وہاں فلاں علم کے نابغہ روزگار فلاں عالم اور فلاں علم کے سلسلے میں پوری دنیا میں حجت کا مقام رکھنے والے فلاں بزرگ پہنچے ہوئے ہونگے لہذا حج کے عظیم الشان عالمی ، علمی، دینی، فکری ، ثقافتی اور روحانی اجتماع سے فیض یاب ہونگے۔یہی وجہ ہے کہ مسجد الحرام کے مدرسے نے پوری دنیا کو اسلامی اور دنیاوی علوم و فنون کے سلسلے میں ایسی روشنی دی جس سے بنی نوع انساں کی ایک ایک بستی، ایک ایک قریے اور ایک ایک علاقے نے پوری طرح سے فائدہ اٹھایا۔ یہی وہ درس گاہ ہے جہاں اہل سنتہ اور اہل شیعہ کے اسکولوںکے بزرگ آکر فیض حاصل کرتے رہے اور یہاں سے روشنی لیکر پوری دنیا میں پھیلاتے رہے۔ امام ابو حنیفہ رحمتہ االلہ علیہ ہوں یا امام مالک رحمتہ اللہ علیہ، امام شافعی رحمتہ اللہ ہوں یا امام حنبل رحمتہ اللہ علیہ ہوں۔ یہ سب حرم شریف کے اسکول کے فیض یافتہ ہیں۔
مسجد الحرام کے دالان اور اس کے صحن عصر رسالت سے لیکر عصر حاضر تک قال اللہ اور قال رسول اللہ کی صداؤں سے ہمیشہ گونجتے رہے۔ ڈاکٹر عبدالوہاب ابو سلیمان لکھتے ہیں کہ 14ویں صدی ہجری میں مسجد الحرام میں تعلیم کا سلسلہ کئی تاریخی مراحل سے گزرا۔ ہر مرحلے کی اپنی شناخت اور خصوصیات رہیں۔ بعض ایک دوسرے سے مماثل اور دیگر ایک دوسرے سے مختلف رہیں۔سماجی اور سیاسی حالات کے اثر سے تبدیلیاں ہوتی رہیں۔ جب خوشحالی ہوتی اور سیاسی ماحول پرسکون ہوتا تو ایسی صورت میں حرم شریف کے تدریسی حلقے پھلتے پھولتے اور معاشی تنگی اور سیاسی بے چینی ہوتی تو ایسی حالت میں حرم شریف میں درس کے حلقے محدود اور تنگ ہو جاتے اور محرکات بھی مثبت و منفی شکل میں اثر انداز ہوتے رہتے۔
حرم شریف کے اسکول کا امتیاز یہ رہا کہ اسے ایک طرح سے عالم اسلام کی بین الاقوامی درس گاہ کی حیثیت حاصل رہی۔ اس میں نہ صرف یہ کہ نجد و حجاج کے علماء فقہاء علمی مجلسوں کے صدر نشین ہوتے یہاں برصغیر اسی طرح سے انڈونیشیا اور وسطی ایشیا نیز مختلف عرب ملکوںکے ماہر فن اساتذہ اور علماء اپنے علوم و فنون اور تصنیفات و تالیفات کا جادو جگاتے۔ طلبہ بھی پوری دنیا کے ہر خطے سے فیض حاصل کرنے کے لئے آتے تھے۔ ان سب نے مجموعی طور پر حرم شریف کی درسگاہ کو علمی اور روحانی صلاحیتوں سے پروان چڑھایا۔
ابوسلیمان بجا طور پر کہتے ہیں کہ آج انڈونیشیا میں نھضتہ العلماء کے سیکڑوں اسکول ملک کے طول و عرض میں پھیلے ہوئے ہیں۔ پرائمری اسکول سے لیکر یونیورسٹی کے مرحلے تک تشنگان علوم کو سیراب کررہے ہیں۔ اسکا سہرا حرم شریف کی درس گاہ کے سر ہی جاتا ہے۔ اس درس گاہ سے فیض پانے والوں میں برصغیر کی دسیوں ممتاز شخصیات کے نام آتے ہیں۔ کہا جاسکتا ہے کہ ان شخصیتوں نے یہاں سے اسلامی علوم و فنون میں دسترس پیدا کرکے اپنے یہاں جاکر اسلامی علوم کی وہ شمعیں روشن کیں جن کے زریں سلسلے سے آج پاکستان، ہندوستان اور بنگلہ دیش میں مختلف مکاتب فکر کے اسکولوں کے مینارے ساری دنیا کو روشنی فراہم کر رہے ہیں۔
شاہ ولی اللہ محدث دہلوی ؒ ان فیضیافتگان میں سے ایک ہیں جو حرم شریف حج کے پروگرام سے آئے تھے اور انہوں نے یہاں کے علماء سے فیض حاصل کیا تھا اور پھر غیر منقسم ہندوستان پہنچ کر حدیث ، علوم حدیث ، تفسیر اور علوم تفسیر، فقہ اور اصول فقہ نیز عقائد کے حوالے سے ایسا کام کیا کہ آج برصغیر کا کوئی مکتب فکر ایسا نہیں جو شاہ ولی اللہ رحمتہ اللہ علیہ سے انتساب کا دعویدار نہ ہو اور اس انتساب پر نازاں نہ ہو۔
سعودی قیادت نے حرم شریف کی اس درسگاہ کے تاریخی کردار کو محسوس کرکے ایک اسکول قائم کیا جسے معہد الحرم المکی کے نام سے جانا پہچانا جاتاہے۔ بانی مملکت شاہ عبدالعزیزؒ نے مملکت بھر میں علوم کے چراغ روشن کرنے کا عزم صمیم کئے ہوئے تھے۔ اسی تناظر میں حرم مکی میں دینی ادارے کے سربراہ شیخ عبداللہ بن محمد بن حمید نے معہد الحرم مکی کے نام سے دینی درس گاہ کے قیام کی تجویز رکھی تو شاہ عبدالعزیزؒ نے فوراً اسکی تصویب کی۔ اس جذبے کے ساتھ اسکی حمایت کی کہ اس سے حرم شریف کے اندر خصوصی تعلیمی ادارہ کا کردار اجاگر ہوگا۔ فوراً ہی پرائمری، ثانوی اور کالج کے مرحلوں کی تعلیم دینے والی درسگاہ کے قیام کا حکم جاری کیا۔ اس کے لئے اسلامی و عربی علوم کا کورس ماہرین نے تیار کیا۔ اس معہد نے بہت جلد اپنا لوہا منوالیا۔ اس نے حرم شریف کے اہم اور نمایاںمرکز کی حیثیت حاصل کرلی۔
معہد کو مسجد الحرام و مسجد نبوی شریف امور کی جنرل پریذیڈنسی کے ساتھ جوڑ دیا گیا۔پریذیڈنسی کے سربراہ اس کی سرپرستی کرتے رہے۔ عصر حاضرمیں شیخ صالح بن عبدالرحمن الحصین اور ڈاکٹر محمد بن ناصر الخزیم نے اسے پروان چڑھانے کے لئے زیادہ توجہ دی ہے۔ اول الذکر حرمین شریفین کی انتظامیہ کے سربراہ اعلیٰ اور ثانوی الذکر انکے نائب ہیں۔
رفتہ رفتہ معہد کا شہرہ پوری مسلم دنیا میں ہوگیا اور اب دنیائے اسلام کے گوشے گوشے سے فرزندان اسلام دینی و عربی علوم کے حصول کے لئے اس کا رخ کرنے لگے ہیں۔
سعودی یونیورسٹیوں کو مسجد الحرام کے اس تعلیمی ادارہ کی اہمیت کاا حساس ہے۔ اسی کے تحت انہوں نے اس سے سرٹیفکیٹ حاصل کرنے والے طلباء کو اپنے یہاں داخلوں کی سہولتیں دیدی ہیں۔ درس گاہ سے مڈل (اعدادی) ، ثانوی اور بکالوریوس (بی اے) کے سرٹیفکیٹ کو دیگر سرکاری اسکولوں اور کالجوں سے ملنے والی ایسی ہی اسناد کے مساوی تسلیم کرلیا گیا ہے یعنی اگر کسی نے اس درسگاہ سے اعدادی کیا ہو تو وہ عام اسکول میں ثانوی کے پہلے سال میں داخلہ لے سکتا ہے اسی طرح ثانوی اسکول پاس بی اے کے پہلے سال اور بی اے پاس ایم اے کے پہلے سال میں داخلے کا مجاز ہوگا۔ 1430-31ھ تک اس سے فارغ ہونے والے طلباء کی تعداد 2ہزار سے تجاوز کر گئی۔اسکے سرٹیفکیٹ سوڈان کی یونیورسٹیوں اور الازہر یونیورسٹی میں بھی مقبول ہیں۔ ان دنوں اس میں 600طلباء زیر تعلیم ہیں۔ صبح 7بجے سے ظہر کی نماز تک تعلیم کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔ زیر تعلیم طلباء کو مفت رہائش فراہم کی جاتی ہے۔ مڈل کے مرحلے کے طلباء کو ماہانہ 200ریال جبکہ ثانوی اور اس سے اگلے مرحلے کے طلباء کو 200سے450ریال ماہانہ وظیفہ دیا جاتا ہے۔ علاوہ ازیں مخیر حضرات بھی طلباء کو نوازتے رہتے ہیں

یہ بھی پڑھیں

عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے رہنمائوں کا مولانا خادم رضوی کے انتقال پر اظہار تعزیت

لاہور(میڈیا 92نیوز )عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی رہنمامولاناعزیزا لرحمن ثانی۔مبلغ ختم نبوت لاہورمولاناعبدالنعیم۔مولاناعلیم …