دریاؤں میں پانی کی سطح میں اضافہ،دریائے راوی کنارے دیہات خطرے کی زد میں

(میڈیا پاکستان) مون سون کی بارشوں سےدریاؤں میں پانی کی سطح بلند ہونے لگی، ممکنہ سیلابی صورتحال سے بچنے کے لیے لاہور میں کسی قسم کے اقدامات نہیں کیے گئے۔

ذرائع کے مطابق دریائے راوی کےقریب چوہنگ اور موہلنوال کے نشیبی دیہات ہمیشہ ہی سیلاب کی زد میں آتے ہیں ، سیلاب کم ہو یا زیادہ یہ گاؤں پانی میں ڈوبتے ہی ہیں ،یہاں کم نشیبی علاقوں میں منو وال، خود پور اور اسکے ساتھ کی کچی بستیاں شامل ہیں، دریا کنارے موجود کشتی دریا پار دیہات میں آمدورفت کے لیے استعمال کی جاتی ہے۔

دریا سے ملحقہ سب سے زیادہ نشیبی علاقہ دریائی گزرگاہ ہونے کے باعث سیلابی پانی سب سے پہلے یہاں ہی پہنچتا ہے، پھر یہاں سے ہوتا ہوا تین کلو میٹر دورآگے آبادیوں تک جا پہنچتا ہے۔

ان نشیبی علاقوں میں بھینی، کھوکھراں دا واڑا، ٹھٹھہ نولاں، لوہاراں دا کھوہ، ڈھانا، بھینی ، شاہ پور اور دیگر دیہات شامل ہیں۔

ممکنہ سیلاب کےخطرے اورحکومتی دعوؤں کے باوجود ان دیہات کے آس پاس دور دور تک کوئی ریلیف کیمپ دیکھنے میں نظر نہیں آرہا ۔ بظاہر پرسکون بہنے والا یہ دریا جب سیلاب کا ریلہ لاتا ہے تو ہر چیز ساتھ بہالے جاتا ہے ۔ضلعی انتظامیہ جتنا جلد اس سے نمٹنے کی تیاری کر لے اتنا ہی بہتر ہے۔

یہ بھی پڑھیں

ڈالر کی قدر 173 روپے سے بھی تجاوز کرگئی

نٹربینک مارکیٹ میں ڈالر کی قدر میں مزید 2.06 روپے کا اضافہ ہوگیا کراچی: ڈالر …