مدارس ومساجد کیخلاف کی گئی قانون سازی قبول نہیں،وفاق المدارس السلفیہ

لاہور(آن لائن) وفاق المدارس السلفیہ سے وابستہ چھ سو سے زائد مدارس کے مہتمم حضرات، شیوخ الحدیث اور ان کے نمائندگان نےکہا ہے کہ وقف املاک قانون مساجد اور مدارس کے خلاف ہے، ہم مزاحمت کریں گے،سینٹ نے وقف املاک ایکٹ مسترد کردیا تھا مشترکہ اجلاس میں شوروغوغا کرکے منظور کرالیا گیا، ایف اے ٹی ایف کے دباؤ پر دینی مدارس ومساجدکے خلاف کی گئی قانون سازی قبول نہیں،شعائر اسلام کے خلاف کوئی پابندی قبول نہیں کریں گے۔تفصیلات کے مطابق وفاق المدارس السلفیہ کا اجلاس مرکز 106 راوی روڈ لاہور میں صدر وفاق سینیٹر پروفیسر ساجد میر کی صدارت میں منعقد ہوا۔ جس میں چھ سو سے زائد مدارس کےمہتمم حضرات،شیوخ الحدیث اور ان کے نمائندگان نے شرکت کی۔اجلاس میں ایک متفقہ قرار داد منظور کی گئی جس میں کہا گیا کہ ملک بھر کے دینی مدارس ومساجد وقف املاک ایکٹ کو غیر شرعی قراردے چکے ہیں،دینی قیادت کو اعتماد میں لیے بغیر اس ایکٹ پر عمل درآمد مشکل ہو گا،دینی مدارس ومساجد قیامت تک آبادرہیں گے،کوئی طاقت شعائراسلام پرقدغن نہیں لگاسکتی،یہ قانون نہ صرف اسلامی تعلیمات اورہماری روایات بلکہ آئین پاکستان اور قانون کے بھی خلاف ہے،تمام مساجد اور مدارس اس قانون کی مزاحمت کریں گےاوراس سلسلےمیں تمام مکاتب فکرایک ہی صفحے پر ہیں،اس قانون کا بل قومی اسمبلی سے منظور نہیں کروایا جا سکا، تاہم بعد ازاں اسے پارلیمان کے دونوں ایوانوں کے مشترکہ اجلاس کے سامنے پیش کرکے قانون کی شکل دے دی گئی۔علماء کا کہنا تھا کہ یہ قانون پاکستان میں مساجد و مدارس کے بارے میں عالمی استعمار کے اس مبینہ ایجنڈے کی تکمیل کا فیصلہ کن قدم ہوگا جس سے ڈیڑھ سو سال سے دینی تعلیم و عبادت کا آزادانہ کردار باقی نہیں رہے گا،ہم اس قانون میں متنازع شقوں کو نکالنے کا مطالبہ کرتے ہیں۔ قرار داد میں مزید کہا گیا کہ وقف املاک مسلمانوں کی میراث ہے اور یہ سلسلہ صدیوں سے چلتا آرہا ہے،ان کے بے شمار فضائل اور فوائد ہیں، تمام دینی مراکز مساجد اور اسلامی میراث وقف زمینوں پر قائم ہیں حتی کہ بیت اللہ کے نام لاتعداد زمینیں وقف ہیں،وفاق المدارس السلفیہ کی مجلس شوریٰ کا یہ عظیم الشان اجتماع وقف ایکٹ پر تشویش کا اظہار کرتاہے اور اسے مساجد اور دینی تعلیمی اداروں کے خلاف گہری سازش قرار دیتا ہے۔یہ اجتماع حکومت سے مطالبہ کرتا ہے کہ اتحاد تنظیمات مدارس نے بالاتفاق جو ترامیم کیں ہیں وہ فی الفور منظور کی جائیں جس کا وعدہ سپیکر قومی اسمبلی نے کیا ہے بصورت دیگر ہم اسے مسترد کرتے ہیں،مدارس کے درمیان اتحاد واتفاق سے پاکستان میں فرقہ واریت اور دہشت گردی کا خاتمہ ہوا بدقسمتی آج کل ان کے خلاف محلاتی سازشیں اور مدارس کی یکجہتی کو پارہ پارہ کرنے کی کوششیں کی جارہی ہیں لیکن اہل مدارس اسے ناکام بنا دیں گے۔پروفیسر ساجد میر نے کہا کہ وفاق المدارس السلفیہ کا کوئی سیاسی ایجنڈا نہیں ہےاور نہ ہی یہ کسی کے آلہ کار ہیں، یہ عظیم ترمقصد کے لیے اپنی صلاحیتیں صرف کر رہے ہیں، وقف املاک متنازع اور غیر شرعی قانون ہے جسے ہم مسترد کرتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

کوئٹہ: اپوزیشن کے17 اراکین اسمبلی کے خلاف مقدمہ درج

کوئٹہ(نیٹ نیوز) پولیس نے بلوچستان اسمبلی میں اپوزیشن کے 17 اراکین کے خلاف مقدمہ درج …