ڈی جی نیب لاہور کی تعیناتی جعلی ڈگری پر ہونے کا انکشاف

اسلام آباد(میڈیا پاکستان) سپریم کورٹ نے ڈی جی نیب لاہور میجر(ر) سلیم شہزاد کی جعلی ڈگری کے معاملے پر چئیرمین نیب سے جواب طلب کرلیا ہے۔سپریم کورٹ میں نیب میں غیرقانونی بھرتیوں سے متعلق ازخود نوٹس کی سماعت ہوئی۔ درخواست گزار نے ڈی جی نیب کی تعیناتی سے متعلق انکشاف کرتے ہوئے مؤقف پیش کیا کہ سلیم شہزاد کی ڈگری کیلبری فونٹ میں لکھی گئی ہے جب کہ کیلبری 2007 میں آیا اور ڈگری 2002 کی ہے۔
نیب پراسیکیوٹر نے تعیناتی سے متعلق قائم کمیٹی کی رپورٹ پیش کرتے ہوئے بیان دیا کہ گریڈ 18 تک 52 افسران کی تعیناتیوں کا جائزہ لیا جا چکا ہے جب کہ مزید 40 افسران کی تعیناتیوں کا جائزہ لینا باقی ہے، سیکرٹری اسٹبلشمنٹ طاہر شہباز کی تبدیلی سے کام رکا ہوا ہے۔
اس خبرکوبھی پڑھیں: نیسپاک میں جعلی ڈگریوں پر بھرتی کا انکشاف
عدالت نے تعیناتیوں جائزہ لینے کے لئے قائم کمیٹی کو 2 ماہ میں کام مکمل کرنے کی ہدایت جاری کردی جب کہ ڈی نیب لاہور میجر(ر) سلیم شہزاد کو نوٹس جاری کردیا جب کہ جعلی ڈگری کے معاملے پر چئیرمین نیب سے جواب طلب کرتے ہوئے کیس کی سماعت ملتوی کردی۔

یہ بھی پڑھیں

پاکستان اور نیوزی لینڈ کے درمیان پہلا ٹیسٹ ڈرا ہوگیا

 کراچی: پاکستان اور نیوزی لینڈ کے درمیان دو میچوں پر مشتمل سیریز کا پہلا ٹیسٹ میچ …