جہانگیر ترین کا قرضے معاف کرانا 10 منٹ کا کیس ہے: عامر متین

اسلام آباد (میڈیا پاکستان آن لائن) سینئر صحافی و تجزیہ کار عامر متین نے کہا ہے کہ جہانگیر ترین نے قرضہ معاف کروا کر آئین کے آرٹیکل 63 این کی خلاف ورزی کی ہے اور اگر یہ معاملہ اٹھا تو ان کا صرف 10 منٹ کا کیس ہے لیکن اس پر کوئی سیاستدان نہیں بولے گا کیونکہ پھر سب پارٹیاں پھنسیں گی۔
نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے عامر متین نے بتایا کہ جہانگیر ترین نے اپنے کزنز کے ساتھ مل کر قرضہ معافہ کرایاہوا ہے اور یہ سب سے خوفناک کیس ہے جو 10 منٹ سے زیادہ نہیں چلے گا۔ قرضے معاف کرانا آئین کے آرٹیکل 63 این کی خلاف ورزی ہے جو کہتا ہے کہ ” اس (عوامی نمائندے)نے کسی بینک ، مالیاتی ادارے، کو آپریٹو سوسائٹی یا کو آپریٹو ادارے سے اپنے نام سے یا اپنے خاوند یا بیوی یا اپنے زیرِ کفالت کسی شخص کے نام سے 20 لاکھ روپے یا اس سے زیادہ رقم کا قرضہ حاصل کیا ہو جو مقررہ تاریخ سے ایک سال سے زیادہ عرصے کیلئے غیر ادا شدہ رہے یا اس نے مذکورہ قانہوں نے کہاکہ سٹیٹ بینک نے قرضے معاف کرانے والوں کی فہرست سینیٹ کو بھیجی ہے جس کے مطابق 20 کے قریب ایم این ایز اور ایم پی ایزقرضے معاف کرانے والوں میں شامل ہیں۔ حنیف عباسی نے عمران خان نا اہلی کیس میں اس لیے آئین کی اس شق کو بنیاد نہیں بنایا کیونکہ اگر وہ اس کا تذکرہ کرتے تو مسلم لیگ ن سے پرویز ملک،ان کی اہلیہ، عبدالقادر بلوچ، پیپلز پارٹی سے فہمیدہ مرزا اور ذوالفقار مرزاسمیت دیگر تمام پارٹیوں کے لوگ پھنستے ہیں، اس لیے سیاستدانوں نے آپس میں معاہدہ کیا ہوا ہے کہ وہ آئین کی اس شق کو نہیں چھیڑیں گے۔
عامر متین نے بتایا کہ جہانگیر ترین نے اپنے کزنز کے ساتھ مل کر سپیریئر ٹیکسٹائل مل 7 کروڑ روپے پرنسپل اور مجموعی طور پر 25 کروڑ روپے کا قرضہ معاف کرا رکھا ہے جبکہ انہوں نے تاندلیانوالہ مل میں بھی 10 کروڑ روپے معاف کرائے ہوئے ہیں۔رضہ معاف کرالیا ہو“۔

یہ بھی پڑھیں

پٹرولیم مصنوعات ایک بار پھر مہنگی ہونے کا امکان

وگرا نے قیمتوں میں 10 روپے فی لٹر تک اضافے کی سمری ارسال کردی، حتمی …