پولیس اپنے گناہوں پر پردہ ڈالنے کے لئے کہانیاں بناتی ہے، سپریم کورٹ

اسلام آباد(میڈیا پاکستان) عدالت عظمیٰ کا کہنا ہے کہ پولیس اہلکار ہاتھ اٹھانے والوں سے حساب خود برابر کردیتے ہیں اور اپنے گناہوں پر پردہ ڈالنے کے لئے کہانیاں بنالیتی ہے۔سپریم کورٹ میں پولیس اہلکار کے قتل میں ملوث 2 ملزمان کی بریت کے خلاف کیس کی سماعت ہوئی۔ جسٹس آصف سعید کھوسہ نے ریمارکس دیے کہ اگر ٹرائل کورٹس قانون کے مطابق فیصلے کریں تو اعلیٰ عدلیہ پر بوجھ ہی نہ پڑے، راولپنڈی ریجن میں پولیس اہلکار ذاتی جھگڑے میں زخمی ہو تو کہانی بنا لیتی ہے ایک ملزم نے 3 اہلکاروں کو زخمی اور ایک کو قتل کردیا، پولیس اہلکار مسلح ہونے کے باوجود دیکھتے رہے کیا پولیس والوں کے پاس گولیاں نہیں تھیں۔
جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ سچ بولا جائے تو جھوٹ کی کمر ٹوٹ جاتی ہےکئی پولیس اہلکار ہیروئن فروخت کرتے پکڑے گئے پولیس تو ہاتھ اٹھانے والوں سے خود حساب برابر کردیتی ہے اور اپنے گناہوں پر پردہ ڈالنے کے لئے کہانیاں بنا لیتے ہیں۔ عدالت نے پولیس اہلکار کے قتل میں ملوث دونوں ملزمان کاشف اور جمشید کی بریت کا فیصلہ برقرار رکھتے سماعت ملتوی کردی۔

یہ بھی پڑھیں

پاکستان اور نیوزی لینڈ کے درمیان پہلا ٹیسٹ ڈرا ہوگیا

 کراچی: پاکستان اور نیوزی لینڈ کے درمیان دو میچوں پر مشتمل سیریز کا پہلا ٹیسٹ میچ …