پولیس آرڈر2002ء کو تبدیل کرنے کیلئے 105آرٹیکلز پر مشتمل نیا پولیس آرڈر2017ء تیار

لاہور(میڈیا پاکستان) محکمہ داخلہ نے پولیس آرڈر2002ء کو تبدیل کرنے کیلئے 105آرٹیکلز پر مشتمل نیا پولیس آرڈر2017ء تیارکرکے تجاویز کیلئے آئی جی کو ارسال کردیا۔ ذرائع کے مطابق نئے آرڈر کے تحت اعلی پولیس افسران کی تعیناتی حکومت پنجاب ڈائریکٹ کریگی۔ آئی جی کی تجویز کے بغیر سی سی پی او تعینات کرسکیں گے جبکہ سی سی پی او کے عہدہ کو میٹروپولٹین پولیس افسر کا نام دیا گیا ہے او ر ایس ایس پی انویسٹی گیشن کو چیف ڈیٹیکٹو آفیسر کا نام دیا گیا ہے، نئے آرڈر کے تحت پولیس کے4کیڈرز ہونگے جن کے نام جنرل ایگزیکٹو ، ٹریفک، فرانزک اورٹیلی کمیونیکیشن کیڈر کا نام دیا گیا ہے۔ پولیس کمپلینٹ کمیشن ریجنل سطح پر تشکیل دئیے جائینگے اور کمیشن میں پولیس افسران سمیت رکن صوبائی اسمبلی بھی شامل ہوگا۔5ممبران پر مشتمل ڈسٹرکٹ کوآرڈینیشن بورڈ بھی تشکیل دئیے جائینگے۔ جن میں عدلیہ، پولیس اورسول سروسز کے نمائندے شامل ہونگے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ آرڈر کی تیاری میں کسی بھی پولیس آفیسر سے رائے نہیں لی گئی جس پر پولیس کو شدید تحفظات ہیں اورپولیس حکام کا کہنا ہے کہ کے پی کے والے قانون کی طرز پر پولیس آرڈر تیار کرنا چاہیے۔ پولیس افسران کی ٹرانسفر پوسٹنگ کے اختیارات آئی جی کے پاس ہونے چاہیں کیونکہ اس سے پولیس غیر سیاسی ہوگی اوربہتر پرفارم کرے جبکہ اگر وزیراعلیٰ تعیناتیاں کرینگے تو پولیس ہمیشہ سیاسی حصار میں رہ کر کام کریگی۔

یہ بھی پڑھیں

پاکستان اور نیوزی لینڈ کے درمیان پہلا ٹیسٹ ڈرا ہوگیا

 کراچی: پاکستان اور نیوزی لینڈ کے درمیان دو میچوں پر مشتمل سیریز کا پہلا ٹیسٹ میچ …