ڈی جی PLRAکے نام پر صحافیوں پر پابندی کا خودساختہ اعلان کرنیوالی خاتونADLR کیخلاف کارروائی نہ ہوسکی

لاہور(میڈیا پاکستان)5سالہ پرانی رجسٹری پر بلاوجہ کا اعتراض لگاکر غیرقانونی پریکٹس کے استعمال کی مرتکب اورڈی جی PLRAکے نام پر صحافیوں پر پابندی کا خود ساختہ اعلان کرنے والی خاتون اے ڈی ایل آرکیخلاف قانونی کارروائی عمل میں نہیں لائی جاسکی۔ انتظامیہ نے چپ سادھ لی، PLRAکے ایس او پی دفن کردئیے گئے۔ خاتون اے ڈی ایل آر کا دعوی سچا نکلا۔ ریونیو ماہرین اورصوبے بھر کے اراضی ریکارڈ سنٹر میں تعینات سٹاف دوہرے معیار پر تذبذب کا شکار ہوگئے مزید معلوم ہوا ہے کہ پنجاب لینڈ ریکارڈ اتھارٹی میں مانیٹرنگ کے فقدان اور مربوط لابی سسٹم کی بنیاد نے PLRA کی جانب سے رائج کیے جانے والے ایس او پی کو دفن کردیا ہے پسند ناپسند کی بنیاد پردی جانے والی سزائیں اور بخشش نے PLRAمیں قانون سازی کے الگ الگ معیار متعارف کروادئیے ہیں۔ مزید معلوم ہوا ہے کہ گزشتہ روز تحصیل ماڈ ل ٹاؤن کی خاتون اے ڈی ایل آر ار شہزادی کی جانب سے 5سال پرانی رجسٹری پر بلاوجہ اعتراض لگاکر سینر ممبربورڈآف ریونیوپنجاب کے تحریری احکامات کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اختیارات کا ناجائز استعمال کرنے کی مرتکب پائی گئی اور دوسری جانب ڈی جی PLRA کیپٹن (ر) ظفر اقبال سمیت تما م انتظامیہ کا نام استعمال کرتے ہوئے میڈیا پر پابندی لگانے کا خود ساختہ اعلان کرنے میں ملوث پائے جانے کے باوجو تاحال کوئی قانونی کارروائی عمل میں نہیں لائی جاسکی ہے مبینہ طورپر ملنے والی اطلاعات اور PLRAذرائع کے مطابق خاتون ای ڈی ایل آر ایک لابی سسٹم کے تحت اپنے خلاف ہونے والی شکایات کوسردخانے میں ڈال رہی ہے اور یہ سلسلہ عرصہ دراز سے جاری ہے۔ قبل ازیں بھی خاتون اے ڈی ایل آر پر سنگین الزامات عائد ہیں اور سابق اور میں بطور ڈپٹی پروجیکٹ ڈائریکٹر موجودہ پی ڈی کیپٹن ظفر اقبال نے اس خاتون کے خلاف سخت قانونی کارروائی تجویز کی تھی اور الزامات کی تصدیق بھی کی تھی اور اس ضمن میں موجودہ حالات میں خاتون اے ڈی ایل آر کو بھرپور تحفظ فراہم کیاجارہا ہے اور ایک وارننگ لیٹر کے ذریعے انتہائی سنگین الزامات کو دبانے کی کوششیں کی جارہی ہیں۔ذرائع نے بتایا کہ مذکورہ خاتون اے ڈی ایل آر کا دعوی ہے کہ اس کی ٹرانسفر یہاں سے ناممکن ہے اورکوئی میرا کچھ نہیں بگاڑ سکتا ہے جس کی وجہ PLRAکے انتظامی افسران کی سپورٹ حاصل ہے۔ مزید انکشاف ہوا ہے کہ قبل ازیں اس طرح کی شکایت کا الزام لگاکر اے ڈی ایل آرزاہد اقبال، عمر سیف چیمہ اوردیگر سروس سنٹر انچارج کو بھی ٹرانسفر کیا جاچکا ہے اور موجودہ خاتون کے حوالے سے نرمی اور بخشش جیسے معیارکو اپنارکھا ہے شہریوں نے اس ضمن میں ڈی جی PLRA سے خاتون اے ڈی ایل آر کی ٹرانسفر کا مطالبہ کردیا ہے۔دوسری جانب ترجمان PLRAکا کہنا ہے کہ کسی سے رعایت نہیں برتی جائیگی تحقیقات کی جارہی ہے آئندہ چند روز میں فیصلہ کریں گے اور الزام ثابت ہونے پر سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

یہ بھی پڑھیں

پاکستان اور نیوزی لینڈ کے درمیان پہلا ٹیسٹ ڈرا ہوگیا

 کراچی: پاکستان اور نیوزی لینڈ کے درمیان دو میچوں پر مشتمل سیریز کا پہلا ٹیسٹ میچ …