”وحدت برائے امن کانفرنس“ کا انعقاد, اپنے مسلک کو چھوڑیں ،نہ کسی دوسرے کے مسلک کو چھیڑیں: میاں مجتبیٰ شجاع الرحمان

لاہور (میڈیا پاکستان) ور لڈ کو نسل آف ریلیجنز پا کستا ن کے زیراہتمام بین المسالک ”وحدت برائے امن کانفرنس“ کا انعقاد کیا گیا، جس سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی وزیر ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن میاں مجتبیٰ شجاع الرحمن نے کہا کہ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے مسلک کو چھوڑیں نہ اور کسی دوسرے کے مسلک کو چھیڑیں نہ تو اسی سے ہی تمام مسائل حل ہوسکتے ہیں اور میں گارنٹی دیتا ہوں کہ مذہبی مسائل فوراً حل ہوجائیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں اصل وجہ دہشتگردی ہے نہ کہ مذہبی فرقہ واریت ۔ صوبائی وزیر نے کہا کہ ملک میں مذہبی انتہا پسندی کی اصل وجہ سوشل میڈیا ہے جو موثر قانون نہ ہونے کی وجہ سے حکومت اور پرامن شہریوں کیلے دردسر بنا ہوا ہے۔ انہوں نے کہا مذہب کی وجہ سے تشدد نہیں ہوتاہم امن کے نعرے چھوڑ کر اپنے ایمان پر یقین کرلیں تو سب ٹھیک ہوجائے گا۔ صوبائی وزیر تعلیم رانا مشہود نے کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مسلک کی بجائے اسلام کی بات کی جائے تو مسائل پیدا نہیں ہوتے۔ تمام مسالک کو جوڑنا حکومت کا فرض ہے جس کیلئے ہم دن رات کوشاں ہیں۔ ایک مخصوص پارٹی نے سوشل میڈیا پر جو طوفان بدتمیزی شروع کی ہوئی ہے اس کے نتائج ہمارے سامنے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ محرم الحرام کے دوران امن عامہ کو یقینی بنانا حکومت کے ساتھ ساتھ علماءکرام کا بھی فرض ہے۔ انہوں نے کہا اس کیلئے صوبائی حکومت چند دنوں تک صوبائی سطح کی ایک کانفرنس منعقد کررہی ہے جس میں صوبہ بھر کے علماءو مشائخ شرکت کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ مسجد کا ممبر اصلاح کا حامی ہوتا ہے ۔ ہمارے علماءکو چاہیے کہ وہ اس کا استعمال پرامن پاکستان کیلئے کریں۔ملک احمد خان ترجما ن حکومت پنجاب نے کانفرنس کے شرکاءسے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کی پہلی ترجیح ملک میں امن قائم کرنا ہے تا کہ پاکستان میں بسنے والے تمام طبقات اپنے آپ کو محفوظ تصور کریں اور اس کے ساتھ خاص طور پر محرم کے دنوں میں امن و امان قائم رکھنا ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ اُنھوں نے مزید کہا کہ علماءکرام مسلکی اختلافات بھُلا کر پاکستان کی خاطر ایک ہو جائیں اور پاکستان کو پُرامن بنانے کے لیے حکومت کا ساتھ دیں۔
حافظ محمد نعمان حامد،ایگزیکٹو ڈائریکٹر ورلڈ کونسل آف ریلیجنز پاکستان نے اپنے خطاب میں کہا کہ محرم الحرا م کا مہینہ تمام مسلمانوں کے لیے، چاہے وہ کسی بھی مکتبہ فکر سے ہوں، بہت اہمیت کا حامل ہے، جس کی وجہ سے اس کا تقدس و احترا م ہم سب کی ذمہ دا ری ہے۔ ا ور ہم ا س ذمہ دا ری کو نبھاکر ہی اس مقد س مہینہ میں ا من و اما ن کی فضا قائم رکھ سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

پاکستان اور نیوزی لینڈ کے درمیان پہلا ٹیسٹ ڈرا ہوگیا

 کراچی: پاکستان اور نیوزی لینڈ کے درمیان دو میچوں پر مشتمل سیریز کا پہلا ٹیسٹ میچ …