وفاقی نظامت تعلیمات انتظامیہ کی نااہلی‘ مونٹیسوری کلاسز میں مستقل اساتذہ کی تعیناتیاں نہ ہوسکیں

اسلا م آباد(میڈیا پاکستان) وفاقی نظامت تعلیمات انتظامیہ کی نااہلی، پرائیویٹ نظام تعلیم کی طرز پر وفاقی سرکاری تعلیمی اداروں میں وزیراعظم ایجوکیشن ریفارمز پروگرام کے تحت بنائی گئی مونٹیسوری کلاسز میں مستقل اساتذہ کی تعیناتیاں نہ ہوسکیں، نجی تعلیمی اداروں سے مستعار اور ایک سال کے کنٹریکٹ پرتعینات خواتین اساتذہ واپس جانا شروع ہوگئیں، نئی بھرتیوں کیلئے پوسٹیں تاحال موجود نہ ہونے کا انکشاف ہوا ہے جبکہ وفاقی نظامت تعلیمات انتظامیہ غیر سنجیدگی کا مسلسل مظاہرہ کررہی ہے۔ باوثوق ذرائع کے مطابق مریم نواز کے ویژن کے مطابق وزیراعظم ایجوکیشن ریفارمز پراجیکٹ کے تحت اسلام آباد کے تعلیمی اداروں میں مونٹیسوری کلاسز کا اجرا کیا گیا جس کے تحت2015میں11اداروں میں ابتدائی طور پر کلاسیں شروع کی گئیں جن کیلئے اساتذہ کی بھرتی ڈپٹی ہیڈماسٹر، مسٹریس کی پوسٹوں کو مونٹیسوری ٹیچرز کے نام پر تبدیل کیا گیا جس کی منظوری وزارت خزانہ سے لینے کے بعد11مونٹیسوری ٹیچرز جبکہ8اسسٹنٹ کی بھرتی کی گئی۔ نئے تعلمی سال میں دیہی علاقوں سمیت سرکاری تعلیمی اداروں میں مزید60موٹیسٹوری کلاسز شروع کرنے کا فیصلہ کیاگیا جس کے تحت اب تک 66مونٹیسوری کلاسز آپریشنل ہوچکی ہے تاہم مزید5تیاری کے حتمی مراحل میں ہیں۔نجی اداروں اور این جی اوز کی جانب سے ابتدائی طور پر ایک سال کیلئے ٹیچرز دینے کا اعلان کیا گیا تاہم ڈیڑھ سال گزرنے کے باوجود مزید60مونٹیسوری ٹیچرز کی پوسٹوں کی منظوری نہ لی جاسکی۔ معلوم ہوا ہے کہ ایڈوائزر کیڈعلی رضا نے اپریل2017ء میں مونٹیسوری ٹیچرز کی پوسٹوں کیلئے اسامیاں پیدا کرنے سے متعلق مجاز اتھارٹی سے منظوری لینے کی سفارش کی۔

یہ بھی پڑھیں

پاکستان اور نیوزی لینڈ کے درمیان پہلا ٹیسٹ ڈرا ہوگیا

 کراچی: پاکستان اور نیوزی لینڈ کے درمیان دو میچوں پر مشتمل سیریز کا پہلا ٹیسٹ میچ …