ہائیر ایجوکیشن کمیشن کے 15سال مکمل ہوگئے‘اہداف مکمل نہ ہوسکے

لاہور(میڈیا پاکستان) ہائیر ایجوکیشن کمیشن پاکستان کے پندرہ سال مکمل ہوگئے لیکن اپنے ہی طے کردہ بنیادی اہداف مکمل نہ کئے جاسکے۔ غیر ملکی جامعات کے ساتھ مشترکہ طورپر125اکیڈمک پروگرامز بھی شروع نہ کئے جاسکے۔ فیڈریشن آف آل پاکستان اکیڈمک سٹاف ایسوسی ایشن اور پی ایچ ڈی ڈاکٹرز ایسوسی ایشن نے ایچ ای سی کی کارکردگی پرسوالات اٹھادئیے۔ تفصیلات کے مطابق11ستمبر2002(آج کے دن) قائم ہونے والے ادارے ہائیرایجوکیشن کمیشن کی کارکردگی مسلسل زوال پذیر نظر آرہی ہے۔15سال قبل قائم ہونے والے ادارنے اوائل کے چند سالوں کے علاوہ بجائے اس کے کہ قانونی دائرہ کار میں رہ کرکام کرنا بعض معاملات میں قانون سے تجاوز کیا۔12اگست 2002ء کی سٹیرنگ کمیٹی برائے ہائیر ایجوکیشن کی جانب سے ایچ ای سی کے قیام کے لئے صدرپاکستان کو بھیجی گئی رپورٹ میں ایج ای سی کی ایک مددگار ادارہ کے طور پر منظوری دی گئی لیکن وقت گزرنے کیساتھ ساتھ ایچ ای سی نے جامعات کے تدریسی بلکہ انتظامی معاملات میں بھی براہ راست مداخلت شروع کردی۔18ویں ترمیم کے بعد صوبائی خودمختاری کے باوجود وفاقی ایچ ای سی تاحال جامعات کے انتظامی ومالی معاملات میں براہ راست مداخلت کرتا ہے جس کے باعث جامعات میں مسائل بڑھتے جارہے ہیں۔2010ء میں ایچ ای سی نے پانچ سالہ ترقیاتی فریم ورک مرتب کرکے حکومت کو پیش کیا۔ ایچ ای سی نے دعوی کیا کہ وہ2015ء تک پاکستان کی پانچ سرکاری جامعات کو دنیا کی بہتری500جامعات کی فہرست میں شامل کرلیں گے۔ لیکن ایسا تاحال ممکن نہیں ہوسکا۔ پانچ ٹیکنالوجی پارکس بنانے کا دعوی بھی صرف دعوی ہی رہا جبکہ60ٹیکنالوجی اورجامعات وصنعت کے مابین30مشترکہ منصوبے بھی مکمل نہ ہوسکے۔ غیرملکی جامعات کے ساتھ مشترکہ طور پر 125اکیڈمک پروگرامز شروع کئے جانا تھے لیکن ایسا بھی نہیں ہوسکا۔ آج وفاقی ایچ ای سی کے پندرہ سال مکمل ہوگئے لیکن اعلیٰ تعلیم خصوصاً سرکاری جامعات کے معیار میں مسلسل زوال دیکھنے میں آرہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں

پاکستان اور نیوزی لینڈ کے درمیان پہلا ٹیسٹ ڈرا ہوگیا

 کراچی: پاکستان اور نیوزی لینڈ کے درمیان دو میچوں پر مشتمل سیریز کا پہلا ٹیسٹ میچ …