صوبائی دارلحکومت میں گلیوں ،راستہ جات اور سڑکوں کی ملکیت ٹائٹل بیچنے کا انکشاف‘اوورسیز پاکستانیوں کی کثیر تعداد لٹ گئی

لاہور(میڈیا پاکستان)محکمہ ریونیو کے پٹواریوں کی ملی بھگت اوراور بد نیتی کے باعث صوبائی دارلحکومت میں گلیوں ،راستہ جات اور سڑکوں کی ملکیت بیچنے کا کاروبار کرنے کا انکشاف،جعلسازوں کی تعداد میں خوفناک حد تک اضافہ ہو گیا جبکہ سڑکوں ،راستہ جات اور گلیوں کی ملکیت ٹائٹل خریدنے والے شہریوں کی بڑی تعداد بھی اپنے ساتھ ہونے والے جعلسازی کے سبب زندگی بھر کی جمع پونجی سے محروم ہو نے لگی،بغیر قبضے کے ملکیت ٹائٹل کی غیر قانونی پریکٹس پر پابندی لگا ئی جائے شہریوں کی کثیر تعداد نے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر لاہور سے مطالبہ کر دیا ،روزنامہ پاکستان کی جانب سے کئے جانے والے سروے کے دوران معلوم ہوا ہے کہ صوبائی دارلحکومت کے محکمہ ریونیو کے پٹواریوں کی ملی بھگت کے سبب اور سیز پاکستانیوں سمیت سرمایہ کار اور سفید پوش افراد کی کثیر تعداد بغیر قبضہ زمین کے سڑکوں ،گلیاں اور راستہ جات کی ملکیت خرید کر ا پنی زندگی بھر کی جمع پونجی سے محروم ہونے لگے ،مزید معلوم ہوا ہے کہ صوبائی دارلحکومت کے پٹوار سرکل نیاز بیگ ،بیلہ بستی رام ،امر سدھو، اچھرہ دولوں کلاں،دلوں خورد ،دیوخور دکلاں،اٹاری سروبہ ،کاہنہ ،چندرائے،شاہدرہ،گنج کلاں،ساندہ کلاں،شیرا کوٹ،کوٹ سیجپال،کوہاڑ،گوہاوہ،کیر خورد کیراں،مزنگ لاہور خاص باغبانپورہ،،کھوئی میراں،کوٹ خواجہ سعید،محمود بوٹی ،رائے ونڈ،رکھ کمبا،بھوبتیاں،اجودھیاپور،کھیلے وال،دھنا سنگھ،کوٹلی گھاسی،سواہاڑی،ہربنس پورہ،فتح گڑھ سمیت 100سے زائد پٹوارخانہ جات میں بغیر قبضہ زمین کے ملکیت ٹائٹل کی فروخت کا باقاعدہ گھناؤنا،کاروبار کیا جارہا ہے جس میں ملوث لینڈ مافیا اور جعلسازوں کو ناصرف علاقائی سیاسی شخصیت کی پشت پناہی حاصل ہے بلکہ محکمہ مال کے بعض انتظامی افسران بھی انہی کاموں کے سفارشی دیکھائی دیتے ہیں دوران سروے شہر محمد باقر علی ،رضوان احمد ،علی بٹ ،عدنان علی،ذیشان حیدر،اور وقار شاہ نے آگاہی دی کہ صوبائی دارلحکومت میں اس غیر قانونی پریکٹس کے سبب روزانہ کی بنیاد پر اور سیز پاکستانیوں سمیت شہریوں کی کثیر تعداد کے ساتھ فراڈ ہو رہا ہے ،پٹوارخانے میں بیٹھے پٹواری جعلسازوں کی سڑک ،گلیوں اور راستہ جات کی بیچی ہوئی ملکیت ٹائٹل کو درست قرار دیتا ہے،جس کے سبب شہری لینڈ مافیا کو پیسے دے کر ملکیت ٹائٹل خرید کر اپنے نام تو لگوا لیتے ہیں مگر موقع پر زمین کا قبضہ نہ ملنے کے باعث پھر درخواست بازی اور محکمہ ریونیو کے انتظامی افسران کے خلاف عدالتوں اور ریونیو کورٹس ریفرنس ،کیس دائر کرتے ہوئے قبضے کے حصول کے لئے چکر لگوائے جاتے ہیں اور اس ضمن میں بعد ازاں فسادات اور لڑائی جھگڑے کے ناختم ہونے والے واقعات رونما ہو رہے ہیں،شہریوں ،دلدار بھٹی،قیوم شریف،خرم شہزاد،وکی پرنس اور لئیق احمد نے مزید آگاہی دی کہ ان پٹوارخانہ جات میں جعلساز ایل ڈی اے ایر گیشن ،والڈ لائف ،صوبائی حکومت ،وفاقی حکومت واسا ،لیکوڈیشن بورڈ ،اوقاف،پنجاب سپورٹس بورڈ سمیت دیگر محکمہ جات کے رقبے اور خالی پلاٹوں زمینوں کو اپنی جائیداد ظاہر کرتے ملکیت ٹائٹل کے ذریعے قبضے کروانے کی کوشش بھی کرتے ہیں،اس کے علاوہ سوسائٹی پارکس ،قبرستان،سکول،کمیونٹی سنٹرزاور رفاعہ عامہ کے لئے مختص اور وقف کی جانے والی زمینوں پر بھی قبضے کروائے جارہے ہیں ،شہریوں کثیر تعداد نے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر لاہور طاہر فاروق سے مطالبہ کیاہے کہ بغیر قبضہ زمین کے ملکیت ٹائٹل بیچنے اور ان وجوہات کی بنیاد پر ہونے والے فسادات کی مکمل روک تھام کے لئے اقدامات کئے جائیں اور ضلع لاہور کے پٹواریوں کو بھی اس ضمن میں پابند کیا جائے کہ گلیوں ،راستہ جات اور سڑکوں کی اراضی کی ملکیت ٹائٹل بھی جاری نہ کی جائے جب تک موقع قبضہ زمین کا تصدیق نہ ہو جائے دوسری جانب ریونیو ماہرین کا کہنا ہے کہ بورڈ آف ریونیو پنجاب کی جانب سے ایسی نوعیت کے واقعات کے پیش نظر ہدائتیں جاری ہو چکی ہیں جن پر تاحال عمل درآمد نہیں کیا جارہا ہے دوسری جانب محکمہ ریونیو کے ترجمان کا کہنا ہے کہ میڈیا کی نشاندہی پر نوٹس لیا جائے گا اور قانون ضوابط کے تحت عمل درآمد کیا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیں

پاکستان اور نیوزی لینڈ کے درمیان پہلا ٹیسٹ ڈرا ہوگیا

 کراچی: پاکستان اور نیوزی لینڈ کے درمیان دو میچوں پر مشتمل سیریز کا پہلا ٹیسٹ میچ …