پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی ذیلی کمیٹی نیشنل انشورنس کمپنی لمیٹڈ نے قومی خزانے کو اربوں کا ٹیکہ لگادیا

اسلام آباد(میڈیا پاکستان) پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی ذیلی کمیٹی نیشنل انشورنس کمپنی لمیٹڈ نے پیپرا قواعد کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اربوں روپے کی اندرون وبیرون ملک اراضی کی خریداری اور خلاف قواعد ملازمتوں پر بھرتیوں سے قومی خزانے کو اربوں روپے کا ٹیکہ لگادیا۔ کمیٹی نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس معاملے کو اگلے اجلاس میں بحث لایا جائے گا۔ آڈٹ حکام نے انکشاف کیا کہ وزارت داخلہ نے 2008-9میں ممنوعہ بورکے 28527اسلحہ لائسنس جاری کئے جس کی مالیت21کروڑ39لاکھ سے زائد تھی۔ غیر ممنوعہ بور کے بھی 60ہزار سے زائد اسلحہ لائسنس جاری کئے گئے جس میں30کروڑ سے زائد رقم وصول کی، ریکارڈ کی تصدیق بھی نہیں کروائی گئی۔ وزارت داخلہ نے جواب دیا جو سیکشن آفیسر اس میں ملوث تھا اسے گرفتار کیا گیا ہے۔9کروڑ روپے کا ریکارڈ دستیاب نہیں ہے۔ سیکرٹری وزارت داخلہ ارشدمرازا نے اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ یہ بدعنوانی کا معاملہ ہے، کمیٹی نے سول آرڈ فورسز کی خدمات کو خراج تحسین پیش کیا۔ کمیٹی نے وزارت داخلہ کو بھی ہدایت کی کہ دہشت گردی کے خلاف نیکٹا کے ادارے کو فعال کیا جائے۔ کمیٹی نے وزارت خزانہ کو شہداء کے اہل خانہ کے لئے وقت پر اعلان شدہ فنڈز کا اجرا کرنے کی ہدایت بھی کی۔ گزشتہ روز پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی ذیلی کمیٹی کا اجلاس کنوینئر کمیٹی شفقت محمود کی صدارت میں ہوا۔ اجلاس میں وزارت داخلہ اور وزارت تجارت کے مالی سال2010-11 کے آڈٹ اعتراضات کا جائزہ لیا گیا۔ آڈٹ حکام نے انکشاف کیا کہ این ٹی ایس ایل نے اراضی خریدی، خلاف قواعد ملازمتوں پر بھرتیوں میں ملوث افراد کو بعدازاں نوکریوں پربھی بحال کیا گیا۔ آڈٹ حکام نے انکشاف کیا کہ این آئی سی ایل نے اراضی خریدی، خلاف قواعد ملازمتوں پر بھرتیوں میں ملوث افراد کو بعدازاں نوکریوں پر بھی بحال کیا گیا۔وزارت تجارت نے جواب دیا کہ ملوث لوگوں کو نوکریوں سے فارغ کردیا گیا ہے اور ان کے خلاف نیب میں کیس چل رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں

پاکستان اور نیوزی لینڈ کے درمیان پہلا ٹیسٹ ڈرا ہوگیا

 کراچی: پاکستان اور نیوزی لینڈ کے درمیان دو میچوں پر مشتمل سیریز کا پہلا ٹیسٹ میچ …