لاہور:آوارہ کتوں کو مارنے کی مہم میں مبینہ کرپشن کا انکشاف

لاہور(میڈیا پاکستان) صوبائی دارالحکومت لاہور میں آوارہ کتوں کو مارنے کیلئے مہم میں مبینہ کرپشن کا انکشاف ہوا ہے۔ ذرائع کے مطابق ضلع لاہور میں آوارہ کتوں کو مارنے کے لئے ڈی او پبلک ہیلتھ کے عملے کی جانب سے روزانہ کی بنیاد پرتین سو کتے مارنے کا دعوی کیا گیا۔ تین سو سے زائد فرضی آوارہ کتے مار کر جعلی رپورٹس تیار کی گئیں اور جعلی رپورٹس تیار کرنے کے بعد فنڈز ہڑپ کئے گئے۔ دوسری جانب قانون کے مطابق آوار ہ کتوں مارنے کے لئے استعمال شدہ کارتوس کے خالی خول جمع کروانا ضروری ہے مگر قانون پر عمل درآمد کرنے کی بجائے صرف کتے تلف کرنے کی رپورٹس بنائی گئیں۔ ذرائع کے مطابق ہر سال آوارہکتوں کو مارنے کے لئے ٹینڈر سے بچنے کے لئے ایمرجنسی ظاہر کردی جاتی رہی اوراس کی آڑ میں آوارہ کتوں کو مارنے کے لئے من پسند فرموں سے کروڑوں روپے کی ادویات خریدی گئیں۔ بجٹ کے استعمال کے لئے پیپرا رولز عمل درآمد کیا گیا ہے اور جان بوجھ کر آوارہ کتوں کو مارنے کے لئے ایمرجنسی ظاہر کرنے کے بعد ادویات خریدی گئیں ۔ قومی احتساب بیورو نے آوارہ کتے مارنے کی مہم کے لئے کروڑوں روپے کے فنڈز سے خریدے گئے اسلحہ اورادویات کے ریکارڈ سمیت سابق ڈی او پبلک ہیلتھ آفیسر اوراکاؤنٹ آفیسر کا ملازمت کا ریکارڈ بھی طلب کرلیا۔ محکمہ صحت تمام ریکارڈ نیب کو8ستمبر تک جمع کروائے گا۔ مراسلے میں پوچھا گیا ہے کہ آوارہ کتوں کومارنے کیلئے کس قسم کی بندوقیں کتنی قیمت پر اور کس طریقہ سے خریدی گئیں۔ اشتہارات کی کاپی کے ساتھ روزانہ کی بنیاد پر آوارہ کتوں کو مارنے کا ریکارڈ اور ڈیوٹی روسٹرز کا ریکارڈ بھی طلب کیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں

پاکستان اور نیوزی لینڈ کے درمیان پہلا ٹیسٹ ڈرا ہوگیا

 کراچی: پاکستان اور نیوزی لینڈ کے درمیان دو میچوں پر مشتمل سیریز کا پہلا ٹیسٹ میچ …