اراضی ریکارڈ سنٹر بدعنوانی کا گڑھ بن گئے

لاہور(میڈیاپاکستان)صوبے بھر میں پنجاب لینڈ ریکارڈ اتھارٹی کے قائم کردہ اراضی ریکارڈ سنٹر بدعنوانی کا گڑھ بن گئے ،شہریوں کی کثیر تعداد نے رشوت وصولی کی روک تھام کے لئے ڈی جی اینٹی کرپشن پنجاب اور ڈائریکٹر جنرل نیب سے اراضی ریکارڈ سنٹر ز کی نگرانی پر سٹاف تعینات کرنے کا مطالبہ کر دیا میڈیا پاکستان کی جانب کئے جانیوالے سروے کے دوران صوبائی دارلحکومت کے شہریوں کی مبینہ طور پنجاب لینڈ ریکارڈ اتھارٹی کے اراضی ریکارڈ سنٹر کو کرپشن کی آماجگاہ قرارد یا ہے شہری محمد الطاف ،محمد رمضان ،محمد دستگیر،محمد آصف ،محمد ذیشان اور محمد ادریس کا کہا ہے کہ وزیر اعلیٰ پنجاب میاں محمد شبہاز شریف نے پٹوار کلچر کے خاتمے اور صاف شفاف اس پراجیکٹ کے ذریعے کرپشن سے پاس اس سسٹم کو متعارف کروا دیاہے جو کہ اراضی ریکارڈ سنٹر پر تعینات سٹاف کی کثیر تعداد نے اس دعووں کو غلط ثابت کرتے ہوئے رشوت وصولی کی انتہا کر رکھی ہے صوبے بھر میں کوئی ایسا اراضی ریکارڈ سنٹر نہ ہے جہاں رشوت کے بغیر کام کیا جارہا ہے صبح پانچ بجے سے اراضی ریکار ڈ سنٹر کے باہر لمبی قطاروں میں کھڑا کیا جارہا ہے ٹوکن لینے کے باوجود باری آنے میں گھنٹوں لگ جاتے ہیں اور اپنے جائز کام کروانے میں کئی کئی دن درکار ہوتے ہیں۔ پٹواریوں کے منشی اراضی ریکارڈ سنٹر میں تعینات سٹاف کے معاونت بن چکے ہیں ان کے ذریعے ہر کام جلدی اور عام شخص کو کئی کئی دن خواری کا سامنا کرنا پڑرھا ہے۔ شہری محمد وقاص، تنویراحمد، احسن وحید، امتیاز احمد، محمد ندیم، لطیف خان اور معصوم علی نے الزام عائد کیا کہ تمام اراضی ریکارڈ سنٹرز میں کبھی کھیوٹ ٹینشن ایشو کے نام پر ہمارا کھاتہ بلاک ظاہرکیا جاتا ہے کبھی سنٹرز میں لنک ڈوان تو کبھی سوفٹ وئیر میں تبدیلی کا کہہ کر کئی کئی دن چکر لگوائے جاتے ہیں ابھی کام پٹواری کا فیشن اور ایس ای او اپنے پرائیویٹ بندے کے ذریعے منٹوں میں کروالیتے ہیں مگر اس کیلئے منہ مانگی رشوت وصول کی جارہی ہے اگر ڈی جی PLRAصرف اس بات کی تصدیق کرلیں کہ سب رجسٹرار آفس سے جوپرچہ رجسٹری بھجوائی جارہی ہے اسی پر وصولی ڈیٹ کیا ہے اور وصول ہونے کے بعد وہ کتنا عرصہ پینڈنگ رکھی جاتی جاتی ہے اس رپورٹ پر بھی تمام حقائق سامنے آجائیں گے اور پرچہ رجسٹری کے مطابق انتقالات کی تصدیق ہورہی ہے یا اشٹام سیلرز اور پٹواریوں کے فیسوں کے ذریعے کام ہورہے ہیں صوبے بھرمیں کوئی بھی ایسا ضلع نہیں ہے جہاں قائم کئے گئے اراضی ریکارڈ اور سنٹرزپررشوت وصول نہ کی جارہی ہو شہریوں نے ڈی جی اینٹی کرپشن پنجاب بریگیڈئیر(ر) مظفر علی رانجھا اورڈائریکٹر جنرل نیب سے مطالبہ کیا ہے صوبے بھر میں قائم کردہ اراضی ریکارڈ سنٹرزکے سٹاف کی نگرانی پر محکمہ اینٹی کرپشن اور نیب کا سٹاف بٹھایا جائے تاکہ رشوت وصولی کی ڈیمانڈ کرنے اور اس میں ملوث پائے جانے والے سٹاف کے خلاف فوری قانونی کارروائی عمل میں لائی جاسکے شہریوں کا مزید کہنا تھا کہ اراضی ریکارڈ سنٹرز میں فنڈز کا غبن کیاجارہا ہے اختیارات کا ناجائز استعمال کیاجارہاہے ریکارڈ میں ردوبدل کی جارہی ہے اگر صوبے بھر کے اراضی ریکارڈ سنٹرزکاریکارڈ قبضے میں لے کراس کی تحقیقات کی جائے تو کروڑوں روپے کی جعلسازی غبن اوررشوت وصول کی بنیاد پر ناصرف مقدمات کا اندراج کیا جاسکے گا بلکہ کرپٹ اہلکاروں کی کثیر تعداد کی گرفتاریاں بھی عمل میں لائی جاسکیں گی۔

یہ بھی پڑھیں

پاکستان اور نیوزی لینڈ کے درمیان پہلا ٹیسٹ ڈرا ہوگیا

 کراچی: پاکستان اور نیوزی لینڈ کے درمیان دو میچوں پر مشتمل سیریز کا پہلا ٹیسٹ میچ …