محکمہ داخلہ پنجاب کھالوں کی غیر قانونی خرید وفروخت رکوانے میں ناکام

لاہور(میڈیا پاکستان) محکمہ داخلہ پنجاب غیر قانونی طورپرکھالوں کی خریدوفروخت رکوانے میں ناکام، ضلعی انتظامیہ کے دعوے بھی دھرے کے دھرے رہ گئے، سری پاؤں کی بھنوائی بھی نا رک سکی۔ تفصیلات کے مطابق عیدالاضحی کے تینوں روز غیر قانونی طور پر کھالوں کی خریدوفروخت کا سلسلہ جاری رہا اور غیر رجسٹرڈ تنظیموں سے تعلق رکھنے والے افراد سرعام کھالیں خریدتے رہے۔ چمڑ ا منڈی، شمالی لاہور ، بندروڈ، سبزہ زار، اقبال ٹاؤن، باغبانپورہ ، قینچی، غازی روڈ، چونگی امرسدھو، اعوان مارکیٹ سمیت شہر کے مختلف مقامات پر قربانی کے جانوروں کی کھالیں خریدی اور بیچی جاتی رہیں مگر محکمہ داخلہ سمیت کسی بھی متعلقہ ادارے نے وہاں جانے کی زحمت نہ کی۔ اس حوالے سے ضلعی انتظامیہ کی جانب سے بھی تمام دعوے ہوا میں اڑ گئے کیونکہ بکرے، گائے اوردنبہ کے سری پاؤں کی بھنوائی بھی جاری رہی۔ شہر کے مختلف علاقوں میں مین روڈز پرپولیس اور سری پائے جلانے والوں میں آنکھ مچولی کا سلسلہ جاری رہا، دکانوں کے بند کرکے چھوٹے بڑے پائے اور سریاں بھونی جاتی رہیں جبکہ گلی محلوں میں سرعام یہ عمل جاری رہا۔ پولیس چھاپے کا ڈراوا دیکر شہریوں سے لوٹ مار کی جاتی رہی، چھوٹے پائے کا ریٹ50جبکہ بڑے پائے80سے 100اوربکرے کی سری 100جبکہ گائے کی سری بھوننے کے 150سے200روپے وصول کئے جاتے رہے۔

یہ بھی پڑھیں

پاکستان اور نیوزی لینڈ کے درمیان پہلا ٹیسٹ ڈرا ہوگیا

 کراچی: پاکستان اور نیوزی لینڈ کے درمیان دو میچوں پر مشتمل سیریز کا پہلا ٹیسٹ میچ …