امریکہ کے معاملے پر اپوزیشن کا مشترکہ اجلاس بلایا جائے:خورشید شاہ

اسلام آباد(میڈیا پاکستان) اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ (khursheed shah) نے کہا کہ امریکی دھمکیوں پر جذباتی پوزیشن اختیار نہیں کرنی چاہئے ، ن لیگ کے چار سال میں وزارت خارجہ لاوارث تھی۔
تفصیلات کے مطابق اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ نے قومی اسمبلی اجلاس کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ کے معاملے پر مشترکہ اجلاس بلانا چاہیئے تھا ، ہمیں جذباتی نہیں ہونا چاہئے۔
انھوں نے کہا کہ پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بلایا جاتا تو بہتر ہوتا ، سینیٹ اور قومی اسمبلی کی الگ الگ قراردادیں آئیں گی ، عید کے بعد مشترکہ اجلاس بلایا جائے۔
خورشید شاہ نے کہا کہ مشترکہ اجلاس بلا کر پاکستان کی پوزیشن کو واضح کرنا چاہئے ،ہمیں جذباتی پوزیشن اختیار نہیں کرنی چاہئے ،ہمارے لیے سب سے پہلے پاکستان ہے۔
انھوں نے کہا کہ یہ ہماری سیاسی جنگ ہے ، ٹھنڈے دماغ سے فیصلہ کرنا چاہئے ، سوچنا ہوگا آخر 4سال میں ہماری خارجہ پالیسی کیوں کمزور ہوئی ہے۔
اپوزیشن لیڈر کا کہنا ہے کہ ہمارے تین ہمسائیوں سے حالات ٹھیک نہیں ، ہم اپنی غلطیوں سے اپنی اہمیت کھو دیتے ہیں ، ہم اپنی تقریروں کا رعب نہیں جھاڑ رہے ، ن لیگ کے 4 سال میں وزارت خارجہ لاوارث تھی۔
ہتھیاروں سے زیادہ سیاسی جنگ اہم ہوتی ہے ، چار سالوں میں آپ نے کیا کیا ؟ ن لیگ میں بہت قابل لوگ ہیں ، کوئی وزیر خارجہ نہیں بن سکتا تھا ؟ یہ ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کا وقت نہیں ہے۔
انھوں نے کہا کہ حقائق چھپانے نہیں چاہیئں ، وزارت خارجہ کے افسران ایک دوسرے کے خلاف خط لکھ رہے ہیں ، ہم پر دہشت گردوں کو پناہ دینے کے الزام لگتے ہیں۔
کوئی ناراض ہوتا ہے تو ہونے دو ، حقیقت سے منہ نہ موڑو ، آج کوئی ایسا نہیں جو پاکستان کی مدد کو آئے ، دنیا کو ایسا لگنا چاہئے کہ پاکستان متحد ہے ، چین اور ا۔مریکہ کو ملانے کا کریڈٹ پاکستان کو جاتا ہے ، مذاق نہیں کرتا اگر عابد شیرعلی بھی وزیر خارجہ ہوتا تو کچھ نہ کچھ کر لیتا۔

یہ بھی پڑھیں

پاکستان اور نیوزی لینڈ کے درمیان پہلا ٹیسٹ ڈرا ہوگیا

 کراچی: پاکستان اور نیوزی لینڈ کے درمیان دو میچوں پر مشتمل سیریز کا پہلا ٹیسٹ میچ …