امریکا کی نئی افغان پالیسی: قومی اسمبلی و وفاقی کابینہ کا اجلاس آج ہوگا

امریکا کی نئی افغان پالیسی اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پاکستان پر الزامات کے بعد قومی اسمبلی اور وفاقی کابینہ کا اجلاس آج ہوگا جس میں امریکا کی نئی پالیسی پر غور کیا جائے گا۔
اسپیکر سردار ایاز صادق کی زیرصدارت قومی اسمبلی کا اجلاس آج سہ پہر تین بجے ہوگا جس کے بعد وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی زیرصدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس بھی شیڈول ہے۔
ذرائع کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی نئی افغان پالیسی اور پاکستان پر لگائے جانے والے سنگین الزامات کے بعد کی صورتحال پر غور کیا جائے گا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ نیشنل سیکیورٹی ڈویژن کی جانب سے وفاقی کابینہ کو قومی سلامتی سے متعلق بریفنگ بھی دیے جانے کا امکان ہے۔
گزشتہ روز وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے امریکی ادارے کو انٹرویو دیتے ہوئے واشنگٹن کو دو ٹوک پیغام دیا تھا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی نئی افغان پالیسی بھی پہلی پالیسی کی طرح ناکام ہوگی۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ پاکستان روز اول سے کہہ رہا ہے کہ افغانستان میں فوجی حکمت عملی نہ تو پہلے کامیاب ہوئی اور نہ ہی مستقبل میں کامیاب ہوگی۔
خیال رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 22 اگست کو پاکستان، افغانستان اور جنوبی ایشیا سے متعلق اپنی نئی پالیسی کا اعلان کیا تھا۔
صدر ٹرمپ کا پالیسی اعلان کے موقع پر خطاب کے دوران کہنا تھا کہ پاکستان کو اربوں ڈالر دیتے ہیں مگر وہ دہشت گردوں کو پناہ دیتا ہے، پاکستان میں دہشت گردوں کی پناہ گاہوں پر خاموش نہیں رہیں گے۔
پاکستان کے خلاف سخت رویہ اپناتے ہوئے امریکی صدر کا کہنا تھا کہ افغانستان میں ہمارا ساتھ دینے سے پاکستان کو فائدہ اور دوسری صورت میں نقصان ہوگا۔
امریکی صدر نے اپنے خطاب میں بھارت کی تعریف کرتے ہوئے کہا تھا کہ افغانستان میں بھارت کے کردار کے معترف ہیں اور چاہتے ہیں کہ بھارت افغانستان کی معاشی ترقی میں کردار ادا کرے۔

یہ بھی پڑھیں

پاکستان اور نیوزی لینڈ کے درمیان پہلا ٹیسٹ ڈرا ہوگیا

 کراچی: پاکستان اور نیوزی لینڈ کے درمیان دو میچوں پر مشتمل سیریز کا پہلا ٹیسٹ میچ …