ہمیں امریکی امداد نہیں، اعتماد کی ضرورت ہے: خواجہ آصف

پاکستان کے وزیر خارجہ خواجہ آصف نے جیو نیوز کے پروگرام ’’نیا پاکستان‘‘ میں معروف اینکر طلعت حسین سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ جوباتیں ٹرمپ نے کہیں ہمیں حیرانی نہیں ہوئی کیوں کہ ہمیں اندازہ تھا کہ ٹرمپ اس قسم کی باتیں کرسکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ واشنگٹن کے مقتدر حلقوں کو ہمارا نقطہ نظر پہنچا ہوا ہے۔
گزشتہ نوں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نئی افغان پالیسی کا اعلان کرتے ہوئے پاکستان پر دہشت گردوں کو تحفظ فراہم کرنے کا الزام عائد کیا تھا تاہم پاکستان کی جانب سے امریکی الزامات کو یکسر مسترد کردیا گیا تھا۔
پاکستان کے دوست ممالک چین اور روس نے امریکی پالسی کے ردعمل میں کہا تھا کہ دنیا پاکستان کی قربانیوں کو تسلیم کرے۔
ایک سوال کے جواب میں خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ ملا منصور ایران سے داخل ہوا تھا لیکن ملا منصور کو یہاں مارنے کا مقصد یہ پیغام دینا تھا کہ ہمارے علاقے میں مارا گیا۔
انہوں نے کہا کہ امریکا نے یہ اس لیے کیا کیوں کہ اسے کسی نہ کسی پر تو ملبا ڈالنا تھا۔
خواجہ آصف نے کہا کہ اس وقت بھی امریکا ایک طرف طالبان کو مارنے اور دوسری جانب مذاکرات کے لیے لانے کو کہہ رہا ہے، لیکن اب اسے اپنی سوچ کو تبدیل کرنا پڑے گا۔
وزیر خارجہ کا ایک سوال کے جواب میں کہنا تھا کہ کسی زمانے میں طالبان پر ہمارا اثر تھا جو کہ اب نہیں رہا، خطے میں دیگر ممالک بھی ہیں، طالبان نے اور بھی گھر ڈھونڈ لیے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ امریکا کے ساتھ نہ صرف معاہدوں کو منظر عام پر آنا چاہیے بلکہ یہ سامنے آنا چاہیے کہ ڈرون کہاں سے اڑتے ہیں اور کہاں واپس چلے جاتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

پاکستان اور نیوزی لینڈ کے درمیان پہلا ٹیسٹ ڈرا ہوگیا

 کراچی: پاکستان اور نیوزی لینڈ کے درمیان دو میچوں پر مشتمل سیریز کا پہلا ٹیسٹ میچ …