پی آئی اے نجکاری کیس کی سماعت کی۔

(میڈیا92نیوز) پی آئی اے نجکاری کیس کی سماعت کی۔
(میڈیا92نیوز) چیف جسٹس کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے پی آئی اے نجکاری کیس کی سماعت کی۔ سماعت کے دوران سابق مشیر ہوا بازی شجاعت عظیم کے وکیل نے کہا کہ شجاعت عظیم نے 8 سال کے اکاؤنٹس کی تفصیلات جمع کروائی ہیں۔ جس پر چیف جٹس نے ریمارکس دیئے کہ شجاعت عظیم کے پاس پی آئی اے کا تمام کنٹرول تھا، ہم نے شجاعت عظیم سے کوئی دستاویزات مانگے ہی نہیں تھے، شاید آپ خبر بنوانا چاہتے ہیں کہ آپ کے دور میں کچھ غلط نہیں ہوا، آپ کا مقصد صرف عوامی سطح پر اپنے امیج کو بہتر کرنا ہے، آپ کے مقصد سے ہمارا کوئی لینا دینا نہیں۔
سماعت کے دوران عدالت کو بتایا گیا کہ 2008 سے 2018 تک پی آئی اے کو 280 ارب روپے کا نقصان ہوا ، جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ 280 ارب روپے کنویں میں نہیں گئے کوئی تو ذمہ دار ہوگا ؟، شجاعت عظیم کے وکیل نے کہا کہ پی آئی اے کے نقصانات کے ذمہ دار ایک یا پھر دو افراد نہیں۔
چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ پی آئی اے کو جو منافع حج اور عمرہ سے ہوتا ہے وہ کسی اور کو نصیب نہیں ہوتا، عدالت دس سال کا آڈٹ کروائے گی، آڈیٹر جنرل کو پی آئی اے کے نقصانات کے خصوصی آڈٹ کا کہا ہے، جس پر مہتاب عباسی نے کہا کہ آڈیٹر جنرل نقصانات کی وجوہات کا تعین نہیں کر سکتا، ان کے پاس نقصانات کی وجوہات جاننے کی صلاحیت نہیں، وجوہات جاننے کے لیے فرانزک آڈٹ کروانا ہوگا، جس پر چیف جسٹس نے مہتاب عباسی سے استفسار کیا کہ آپ کو کیسے علم کے آڈیٹر جنرل تعین نہیں کر سکتے، آپ کے پاس ایئرلائن چلانے کا کیا تجربہ ہے؟ ، آپ گورنر تھے وہاں سے ہٹا کر حکومت نے آپ کو کہیں اور لگانا تھا، اب آپ الیکشن لڑ رہے ہیں لیکن پارٹی نے ٹکٹ نہیں دیا۔ یہ سیاسی اور تلخ باتیں ہیں۔
مہتاب عباسی نے عدالت سے مکالمے کے دوران کہا کہ وزیر اور مشیر کے لئے تجربہ ہونا لازمی نہیں ہوتا، پی آئی اے میں اپنے دور کے ہونے والے اقدامات کا ذمہ دار ہوں، میں نے تمام فیصلے اپنے ضمیر کے مطابق کیے، گورنر شپ سے خود استعفیٰ دیا تھا۔
جسٹس منیب اختر نے استفسار کیا کہ ایک جہاز کے ساتھ سب سے زیادہ عملہ پی آئی اے کا ہوتا ہے، عباسی صاحب اپنے دور میں آپ نے کتنے ملازم نکالے ؟ ۔ مہتاب عباسی نے جواب میں کہا کہ عدالتی حکم امتناع ملازمین کو نکالنے میں رکاوٹ بنے، جس پر جسٹس منیب اختر نے کہا کہ عدالتی حکم امتناع آپ کے پاس سب سے آسان بہانا ہوتا ہے۔
سپریم کورٹ نے چیف ایگزیکٹو پی آئی اے مشرف رسول کو نئی تعیناتیوں اور برخاستگی کی اجازت دینے کی استدعا مسترد کردی۔ مشرف رسول کی غیر قانونی تعیناتی کا معاملہ وفاقی کابینہ کو بھجواتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ مشرف رسول کی تعیناتی کے معاملے کا کابینہ جائزہ لے کر فیصلہ کرے، چیف جسٹس نے شجاعت عظیم کو بیان حلفی دینے کے بعد بیرون ملک جانے کی اجازت دیتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ اگر شجاعت عظیم بغیر اجازت باہر گئے تو ان کی جائیداد کو بھی کیس سے منسلک کریں گے۔ عدالت نے پی آئی اے کو مارخور کی تصویر لگانے کی استدعا بھی مسترد کردی۔
چیف جسٹس نے آڈیٹر جنرل سے دس روز میں پی آئی اے کے 10 سال کی آڈٹ رپورٹ طلب کرتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ مشکلات کی صورت میں آڈیٹر جنرل عدالت سے رجوع کر سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

عام انٹرنیٹ سے 45 لاکھ گُنا تیز انٹرنیٹ

برمنگھم: سائنس دانوں نے انٹرنیٹ اسپیڈ کا نیا ورلڈ ریکارڈ قائم کیا ہے جو موجودہ براڈ …