لاہور چڑیا گھر کی فالج زدہ شیرنی زندگی سے آزاد ہونے کی منتظر

(میڈیا پاکستان): فالج کے مرض میں مبتلا شیرنی فیری کو پُر سکون موت دینے کا معاملہ، زو مینجمنٹ کمیٹی کی منظوری کو تین ماہ گزرنےکے باوجود لاہور چڑیا گھر انتظامیہ فیصلے پر عمل نہ کرسکی۔
لاہور چڑیا گھر میں افریقن نسل کی شیرنی فیری گزشتہ آٹھ سال سے فالج کے مرض میں مبتلا ہے۔ فیری کو پُرسکون موت دینے کی منظوری تو مئی میں دی گئی لیکن انتظامیہ ہے کہ بے زبان جانور کو اذیت ناک زندگی سے نجات نہیں دلا رہی ہے۔
فیری کی تکلیف کے خاتمے کیلئے ڈبلیو ڈبلیو ایف کی وائلڈ لائف ٹیکنیکل ایڈ وائزر ڈاکٹر عظمی خان نے سیکرٹری جنگلات، جنگلی حیات جہانزیب خان کو 4 اگست کو خط لکھا لیکن بے سود۔
ڈاکٹر عظمیٰ خان کا کہنا ہے کہ پوری دنیا میں جانوروں کو پُر سکون موت دینے کی پالیسی رائج ہے تاہم پاکستان میں بھی اس پالیسی کو اپنانا چاہیئے تاکہ لاغر اور لاعلاج جانوروں کو اذیت ناک زندگی سے چھٹکارہ دلایا جاسکے۔
شیرنی فیری کو پُرسکون موت دینے کے فیصلے پر عمل درآمد کے لئے فلاحی تنظیموں کا آواز اٹھانا خوش آئند ہے، دیکھنا یہ ہے کہ یہ کاوش کب تک رنگ لاتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں

پاکستان اور نیوزی لینڈ کے درمیان پہلا ٹیسٹ ڈرا ہوگیا

 کراچی: پاکستان اور نیوزی لینڈ کے درمیان دو میچوں پر مشتمل سیریز کا پہلا ٹیسٹ میچ …