مکی آرتھر کی مایوسی……….


لیڈز: (سپورٹس ڈیسک/میڈیا92نیوز) پاکستانی کرکٹ ٹیم کے ہیڈ کوچ مکی آرتھر کا کہنا ہے کہ پاکستان ٹیم نے انگلینڈ کے خلاف 22سال بعد ٹیسٹ سیریز جیتنے کا سنہری موقع گنوادیا۔ میں اپنی ٹیم کی کارکردگی سے مایوس ہوں۔ پاکستان ٹیم نے فائٹ نہیں کی جو میرے لئے تشویش کی بات ہے۔ دیانت داری سے کہوں گا کہ ہم نے اتوار کو لیڈز میں ہتھیار ڈال دیئے۔ مجھے اس ٹیم کے ساتھ رہتے ہوئے یہ انداز سب سے مایوس کن لگا۔ ہار جاتے لیکن فائٹ ضروری تھی۔ اگر ہم ٹیسٹ سیریز میں کلین سوئپ کر لیتی تو یہ نوجوان ٹیم بلندیوں کی جانب جاتی جس کا کسی کو تصور نہیں تھا۔ تین میں دو ٹیسٹ جیتنے اور انگلینڈ کے خلاف سیریز ایک ایک سے برابر کرنے کے باوجود میں اپنی ٹیم کی کارکردگی سے مطمئن نہیں ہوں۔ اگر سیریز جیت جاتے تو یہ ٹیم یہاں سے بہت اوپر جاتی لیکن اس کے باوجود ہماری مجموعی کارکردگی نے کئی پنڈتوں کو خاموش کردیا ہے اور کئی کو حیران کردیا ہے۔ وہ پیر کو لیڈز کے ٹیم ہوٹل میں پاکستانی صحافیوں کے ایک گروپ سے بات چیت کررہے تھے۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ پاکستان

ٹیم دوسرے ٹیسٹ میں دبائو کا شکار رہی۔ دوسری اننگز میں ٹیم پریشر برداشت نہیں کرسکی۔ پہلی اننگز میں انگلینڈ نے بہت اچھی بولنگ کی۔ انگلینڈ نے اپنے پلان کا درست استعمال کیا۔ اور ہمیں ابتدائی دبائو سے نکلنا نہیں دیا۔ اگر ہم پہلے دن تین گھنٹے گذار لیتے تو حالات مختلف ہوتے۔ ٹیسٹ میچوں میں پہلی اننگز کے میچوں کے رنز سے میچ کا ٹیمپو بنتا ہے۔ دوسری اننگز میں مجھے مایوسی ہوئی۔ کھیل میں ہار جیت ہوتی ہے سوال یہ ہے کہ آپ کس طرح ہارے ہیں۔ ہم لیڈز ٹیسٹ بہت برے طریقے سے ہارے ہیں۔ ہمیں فائٹ کرکے ہارنا چاہیے تھا۔ میں شکست کا جواز نہیں دے رہا لیکن یہ نوجوان ٹیم تھی جو سیکھنے کے مرحلے میں ہے اس ٹیم کو کریڈٹ دینا ہوگا۔ اور ان کھلاڑیوں کو سپورٹ کرنا ہوگا۔ اس دورے میں کئی کھلاڑیوں نے اپنی کلاس دکھا کر اپنے رتبے میں اضافہ کیا ہے۔ لیڈز میں ہار کے باوجود بہتری آرہی ہے لیکن ہم سیریز جیت سکتے تھے۔ ہیڈنگلے میں ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کے فیصلے پر مکی آرتھر نے کہا کہ ہم انٹر نیشنل کرکٹ میں سخت اور مشکل فیصلے کرنا چاہتے ہیں۔ ٹاس کے بارے میں بحث پر خوش ہوں۔ لارڈز میں جوروٹ نے جو فیصلہ کیا وہ ہمارا بھی تھا لیکن صبح ہماری رائے موسم دیکھ کر تبدیل ہوگئی تھی کیوں کہ ہمیں علم تھا کہ اس پچ پر220,230 رنز آخری اننگز میں مشکل ہوں گے۔ لارڈز میں انگلینڈ اور یہاں ہم ناکام رہے۔ لیڈز میں ٹاس جیت کر پہلے بولنگ کرنے سے ہمارے دفاعی انداز کا پتہ چل جاتا۔ انگلینڈ نے بھی یہی کرنا تھا جو ہم نے کیا۔ ہم نے درست فیصلہ کیا تھا انگلینڈ میں ابتدائی تیس اوورز اہم ہوتے ہیں ٹاس پر تنقیدی ہونا سمجھ سے بالاتر ہے۔ اگر ہم ٹاس جیت کر پہلے بولنگ کرتے اور انگلینڈ بڑا اسکور بنا لیتا تو ہمیں اسی قسم کے سوالوں کا جواب دینا ہوتا۔ نام نہاد ماہرین عقل کے ناخن لیں۔ ہم نے درست فیصلہ کیا تھا۔ لارڈز کے مقابلے میں یہاں ہماری ٹیم میں توازن دکھائی نہیں دیا۔ جنوبی افریقا اور آسٹریلیا کے سابق کوچ نے کہا کہ ہماری توقعات ہر کھلاڑی سے ہے۔ اظہر اور اسد شفیق کو کائونٹی کرکٹ میں ڈالنا چاہتاہوں۔ اس سلسلے میں دونوں کھلاڑیوں کی کاونٹی سے بات چیت چل رہی ہے۔ میں اسد شفیق اور اظہر علی کو پالش کرنے کے لئے کسی ٹی ٹوئنٹی لیگ کے بجائے کائونٹی کھلانے کے لئے پرعزم ہوں۔ دونوں بیٹسمین انگلینڈ آئےتو ان سے بڑی توقعات تھی۔ اسد شفیق بہت اچھا کھیلے۔ نارتھمپٹن شائر میں اس نے180رنز کی بڑی اننگز کھیلی۔ آئر لینڈ میں مشکل کنڈیشنز میں اسد نے غیر معمولی بیٹنگ کی۔ لارڈز میں بہت اچھا کھیلا۔ اسد کوالٹی کھلاڑی ہے۔ اظہر علی ورلڈ کلاس بیٹسمین ہے اور اوپنر کی حیثیت سے کھیلنے پر خوش ہے۔ شاداب اور فہیم اشرف نے ٹیم کو نیا بیلنس دیا ہے۔ دونوں کی ڈبلن اور لارڈز کی کارکردگی نے ہمیں میچ جتوائے۔ شاداب اور فہیم اشرف وہی رول پلے کررہے ہیں جو انگلینڈ کی جانب سے بٹلر نبھارہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں

عام انٹرنیٹ سے 45 لاکھ گُنا تیز انٹرنیٹ

برمنگھم: سائنس دانوں نے انٹرنیٹ اسپیڈ کا نیا ورلڈ ریکارڈ قائم کیا ہے جو موجودہ براڈ …