رولنگ ملوں کے باعث رہائشی آبادیوں کے مکین ٹی بی اور کینسر جیسے جان لیوا امراض میں مبتلا

لاہور(میڈیا92نیوز رپورٹ) شہر لاہور کی رہائشی آبادیوں کے مکینوں کو ٹی بی اور کینسر جیسے جان لیوا امراض کے قریب کرنے والی رہائشی آبادیوں میں واقع لوہے کی ملوں کو انڈسٹریل ایریا میں منتقل نہیں کیا جاسکا، جس سے شمالی لاہور کی مرکزی آبادی کرول بازار اور گرین پارک کے سینکڑوں لوگ ٹی بی جیسے مرض میں مبتلا ہوگئے ہیں، جبکہ درجنوں لوگ کینسر میں مبتلا ہیں، جس کے باعث لوگ نقل مکانی پر مجبور ہوگئے ہیں، بتایا گیا ہے کہ صوبائی دارالحکومت کے سب سے بڑے پسماندہ علاقے شمالی لاہور کی مرکزی آبادیاں کرول بازار سے ملحقہ درجنوں بستیاں رولنگ ملوں کے شور اور دھوئیں کے باعث پھیپھڑوں کی بیماریوں میں مبتلا ہوگئیں، محکمہ ماحولیات اور انڈسٹری کی ملی بھگت سے ان آبادیوں کے مرکز گرین پارک میں ایک درجن سے زائد غیر قانونی طور پر رہائشی آبادیوں میں لوہا پگھلانے والی لوہے کی بھٹیاں اور لوہے کو بولڈ کرنے والی رولنگ ملز قائم ہیں، حکومت پنجاب کی واضح پالیسی کے باعث پورے لاہور سے رہائشی علاقوں میں واقع ملیں اور فیکٹریاں شہر بدر کردی گئی ہیں، مگر محکمہ ماحولیات ٹاؤن کی انتظامیہ، محکمہ انڈسٹری کی ملی بھگت سے ان علاقوں میں لوہے کی ملیں شہر بدر نہیں کی گئیں، بلکہ محکمہ ماحولیات انہیں یہاں رکھ کر شہریوں کی زندگی سے کھیل رہا ہے، اس حوالے سے پیشنٹ پروٹیکشن کونسل آف پاکستان، انجمن تحفظِ حقوقِ شہریاں لاہور، شمالی باغبانپورہ کی ویلیفئر سوسائٹی کے چیئرمین حاجی غلام حسین نے گزشتہ روز سیکرٹری ماحولیات سے ملاقات کی اس دوران مقامی شہری محمد کاشف سلیم، محمد عثمان نذیر مرزا، ارسلان شعیب، شیخ محمد جمیل، غلام محمد اور فاروق احمد آدم جی والے بھی اس موقع پر موجود تھے۔ انہوں نے سیکرٹری ماحولیات کو بتایا کہ مذکورہ آبادیوں کے مرکز گرین پارک کراول بازار کے ارد گرد ایک درجن سے زائد رہائشی آبادیوں میں غیر قانونی طور پر لوہے پگھلانے والی بھٹیاں اور لوہے کو مولڈ کرنے والی رولنگ ملز موجود ہیں، جہاں بھٹیوں میں استعمال شدہ کالا تیل ٹائرز اور پلاسٹک جلایا جاتا ہے، جس سے پورا علاقہ کالے دھوؤں کی لپیٹ میں آجاتا ہے، گھروں کی چھتوں پر سونے والے صبح کو جب اٹھتے ہیں تو ان کے منہ اور بستر کالے ہو چکے ہوتے ہیں، الماریوں کے بستر اور گھروں کا سامان ہر طرف کالک کی کالک جمی ہوئی نظر آتی ہے، اور ملوں میں مشینری انتہائی ناکارہ ہوچکی ہے، جب چلتی ہے تو اتنی آواز ہوتی ہے کہ کانوں کے پردے پھٹ جاتے ہیں، اس صورتحال سے یہاں سانس، ٹی بی، اور کینسر کی بیماریاں عام ہیں، جس کے باعث سینکڑوں لوگ ان جان لیوا بیماریوں کی لپیٹ میں آچکے ہیں، اور اس طرح کی خطرناک بیماریوں میں مبتلا ہونے سے ایک درجن سے زائد لوگ اللہ کو پیارے ہوچکے ہیں، اس حوالے سے مقامی لوگوں نے محکمہ انڈسٹری ماحولیات سمیت دیگر محکموں کو درجنوں درخواستیں دی جن میں کہا گیا کہ کارروائی کی جائے مگر ہر محکمہ کی ٹیم موقع پر جاتی ہے اور اپنے حصے کا نذرانہ لے کر بغیر کارروائی کئے واپس آجاتی ہے جس کے باعث آج لوگ وہاں سے نقل مکانی کرنے پر مجبور ہوچکے ہیں اس موقع پر پیشنٹ پروٹیکشن کونسل آف پاکستان کے صدر جاوید دین، چیئرمین حاجی غلام حسین نے کہا کہ ان علاقوں میں قائم غیر قانونی ملوں کے باعث ہر گھر میں ٹی بی اور سانس کا مریض موجود ہے، وزیراعلیٰ ایکشن لیں اور اپنی حکومت جانے سے قبل اس علاقے سے ملوں کا اخراج ممکن بنائیں، ورنہ لوگ سڑکوں پر آنے کو مجبور ہوجائیں گے، اس پر مقامی رہائشیوں، فاروق احمد آدم جی والے، کاشف احمد نے کہا کہ علاقے میں قائم کسی مل اونر کے پاس مل کی موجودگی کا سرٹیفکیٹ موجود نہیں ہے رہائشی آبادی ہے جہاں کمرشل اور انڈسٹری لگانے یا کام کرنے کی پابندی ہے مگر محکمہ ماحولیات کی نا اہلی کے باعث یہ پابندی بھی توڑی جارہی ہے، انہوں نے کہا کہ سیکرٹری ماحولیات فوری طور پر ایکشن لیں ملوں کو سیل کروایا جائے، اور انہیں انڈسٹریل ایریا میں منتقل کیا جائے۔ اس حوالے سے ڈائریکٹر انڈسٹری محمد اظہر گجر سے بات کی گئی تو انہوں نے کہا کہ ہم اس کا جائزہ لیں گے اگر یہ ملیں رہائشی علاقوں میں موجود ہیں تو ان کے لائسنس اور رجسٹریشن منسوخ کردی جائے گی، تاہم اصل کام محکمہ ماحولیات کا ہے کہ انہیں کارروائی کرنی چاہئیے کہ انوائرمینٹل ایکٹ کی خلاف ورزی کی مرتکب ملوں کو محکمہ ماحولیات سیل کرے۔ اس پر صوبائی وزیر ماحولیات ذکیہ شاہنواز سے بات کی گئی تو انہوں نے کہا کہ لوگوں کی زندگیوں سے کھیلنے کی کسی کو اجازت نہیں دیں گے، سیکرٹری ماحولیات کو حکم دوں گی کہ وہ فوری طور پر کارروائی کریں اور لوگوں کی زندگیوں کے لئے خطرے کا باعث بننے والی ملوں کو رہائشی آبادیوں سے باہر منتقل کیا جائے، جبکہ سیکرٹری ماحولیات نے وفد کو یقین دہانی کروائی کہ ہنگامی بنیادوں پر کارروائی کریں گے اور کسی کو عوام کی صحت سے کھیلنے کی اجازت نہیں دیں گے۔

یہ بھی پڑھیں

عام انٹرنیٹ سے 45 لاکھ گُنا تیز انٹرنیٹ

برمنگھم: سائنس دانوں نے انٹرنیٹ اسپیڈ کا نیا ورلڈ ریکارڈ قائم کیا ہے جو موجودہ براڈ …