ن لیگ میں اختلاف نہیں بے چینی


کراچی (میڈیا92نیوز) نجی ٹی وی کے پروگرام میں میزبان نے تجزیہ پیش کرتے ہوئے کہاہے کہ سیاسی جماعتوں کی انتخابی مہم کا اہم پہلو ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل اور ان کی بنیاد پر ووٹوں کا مطالبہ ہے،امریکا کے اہم اتحادی ممالک بھی متنازع فیصلے پر اس کے ساتھ نہیں ہیں ۔ن لیگ میں اگر بڑا اختلاف نہیں ہے تو بے چینی ضرور ہے عام انتخابات سے ڈھائی ماہ پہلے ن لیگ نئے امتحان سے دوچار ہے، پارٹی میں دو سوچیں ہیں جو آپس میں متصادم ہیں، ایک ٹکراؤ کی پالیسی کی حامی جبکہ دوسری مفاہمت کے حق میں ہے، یہ سوچ ن لیگ میں پہلے بھی موجود تھے مگر نواز شریف کے حالیہ انٹرویو کے بعد واضح تفریق نظر آتی ہے،پارٹی کے سینئر رہنما بھی کسی نہ کسی طرح اپنی پوزیشن واضح کرتے نظر آرہے ہیں، ن لیگ کے اہم رہنماؤں نے اندرخانے نواز شریف کے انٹرویو پر تحفظات کا اظہار کیا تو یہ بات میڈیا پر بھی آگئی، خواجہ آصف جیسے سینئر رہنماؤں کی رائے ہے کہ نواز شریف کو انٹرویو نہیں دینا چاہئے تھا، ن لیگ کے صدر شہباز شریف سمجھتے ہیں کہ نواز شریف کا انٹرویو
کروانے والا ان کا سب سے بڑا دشمن ہے، شہباز شریف نے کل کے اجلاس میں پارٹی کو یقین دلایا کہ وہ نواز شریف کو قائل کرنے کی کوشش کریں گے کہ حساس معاملات پر بیان دینے سے پارٹی سے مشاورت کریں، جمعے کو شائع ہونے والی ایک انگریزی اخبار کی خبر کے مطابق ن لیگ کی پارلیمانی پارٹی اس نتیجے پر پہنچی ہے کہ آئندہ عام انتخابات میں پارٹی کو نواز شریف کے اداروں کے ساتھ ٹکراؤ کے بیانیہ کے ساتھ نہیں جانا چاہئے، ن لیگ کے صدر شہباز شریف نے پارٹی ارکان سے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ سابق وزیراعظم کو اپنے موقف میں نرمی لانی چاہئے،اخبار کو ایک وفاقی وزیر نے بتایا کہ پارٹی میں تقسیم ہے، کچھ ارکان پارلیمنٹ نواز شریف کے بیانیے کے حامی ہیں اور کچھ شہباز شریف کی سوچ سے متفق ہیں۔ شاہزیب خانزادہ کا کہنا تھا کہ ن لیگ میں اگر بڑا اختلاف نہیں ہے تو بے چینی ضرور ہے، شہباز شریف واضح طورپر کہہ چکے ہیں کہ وہ اداروں سے متصادم نہیں ہونا چاہتے مگر اس کے باوجود پارٹی میں مصمم رائے تھی کہ نواز شریف کے جی ٹی روڈ بیانیے سے پارٹی کو فائدہ ہوامگر اب شہباز شریف سمیت پارٹی کے دیگر سینئر رہنما سمجھتے ہیں کہ نواز شریف کے حالیہ انٹرویو کے بعد پارٹی کو فائدہ نہیں ہورہا ہے، یہ کہنا درست نہیں کہ انٹرویو کروانے والا نواز شریف کا دشمن ہے کیونکہ انٹرویو نواز شریف نے خود دیا، انٹرویو میں نواز شریف نے جو کچھ کہا وہ اس پر قائم ہیں، رپورٹر نے نواز شریف سے جو سوال پوچھا وہ الگ سمت میں تھا، رپورٹر نے پوچھا کہ انہیں وزارت عظمیٰ سے کیوں نکالا گیا؟ تو نواز شریف نے براہ راست جواب دینے کے بجائے بات کو خارجہ پالیسی اور قومی سلامتی کی طرف لے گئے اور پھر انہوں نے ممبئی حملوں کی بات کی، اس لئے انٹرویو کرنے والے اور انٹرویو ارینج کروانے والے پر الزام لگانا درست نہیں ہے، اس انٹرویو کے بعد نواز شریف کو سمجھانے کی کوشش کی گئی، نیشنل سیکیورٹی کمیٹی کے اجلاس کے بعد وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نواز شریف سے ملے، پھر وزیراعظم شاہد خاقان عباسی اور وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے بھی نواز شریف سے ملاقات کی، خبریں سامنے آئیں کہ دونوں رہنماؤں نے نواز شریف کو سمجھانے کی کوشش کی مگر ان کوششوں کے دوران ہی نواز شریف کا 2014ء کے دھرنوں کے حوالے سے بیان سامنے آگیا۔ میزبان نے کہاکہ نواز شریف جمعے کو حیران کن طور پر احتساب عدالت میں تو پیش ہوئے لیکن نہ میڈیا سے رسمی یا غیر رسمی بات چیت نہیں کی، احتساب عدالت کے کمرے میں نواز شریف صحافیوں سے غیررسمی بات کرتے ہیں لیکن جمعے کی سماعت میں ایسا نہیں ہوا، سماعت کے بعد روانگی کے موقع پر صحافی نے سوال کیا کہ آصف زرداری نے کہا ہے کہ میاں صاحب کو تیس سال کا حساب دینا ہوگا؟ جس پر نواز شریف نے کہا کہ اب سب کا حساب ہوگا، ہم سب کو حساب دینا ہوگا، سابق وزیراعظم عدالت کے باہر بھی صحافیوں سے گفتگو کرتے ہیں مگر وہاں سے بھی بات چیت کیے بغیر روانہ ہوگئے۔ میزبان نے تجزیہ میں مزید کہا کہ اس وقت چاروں صوبوں میں چار مختلف جماعتیں برسراقتدار ہیں، آئندہ انتخابات کیلئے یہ جماعتیں نہ صرف اپنے صوبوں بلکہ وفاقی سطح پر بھی ووٹ لینے کا دعویٰ کررہی ہیں، سیاسی جماعتوں کی انتخابی مہم کا اہم پہلو ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل اور ان کی بنیاد پر ووٹوں کا مطالبہ ہے، ترقیاتی منصوبوں میں سب سے اہم ٹرانسپور ٹ سسٹم کے منصوبے ہیں، گزشتہ پانچ سال کے دوران تینوں صوبوں میں ٹرانسپورٹ کی بہتری کیلئے اہم منصوبے شروع کیے گئے، ایک طرف ان منصوبوں کی تکمیل سیاسی جماعتوں کے امیج کیلئے فائدہ مند ثابت ہوسکتی ہے تو وہیں ان میں تاخیر سیاسی جماعتوں کے ووٹ بینک پر اثرانداز ہوسکتی ہے، ٹرانسپورٹ کے منصوبوں میں سب سے آگے صوبہ پنجاب ہے جہاں پانچ سال میں تین اہم منصوبے لگائے گئے ہیں، ملتان میٹرو بس منصوبہ اور راولپنڈی اسلام آباد میٹرو بس اس وقت آپریشنل ہوچکی ہے ، پاکستا ن کی تاریخ کے سب سے مہنگے ٹرانسپورٹ پراجیکٹ اورنج لائن ٹرین کا گزشتہ دنوں شہباز شریف نے آزمائشی آغاز کیا، اورنج لائن ٹرین سولہ ماہ تک تنازع کی زد میں رہی لیکن اس کے باوجود تکمیل کے قریب پہنچ چکی ہے، پنجاب حکومت کے مطابق اس منصوبے کو باقاعدہ فنکشنل ہونے میں تین سے چار ماہ لگ سکتے ہیں، دوسری طرف سندھ کا صوبہ ہے جہاں پیپلز پارٹی کی حکومت نے اپنے پانچ سالہ دور میں صرف ایک بس سروس کے منصوبہ کا آغاز کیا لیکن اس کے تحت ڈھائی تین کروڑ آبادی والے کراچی کیلئے صرف دس بسیں سڑکوں پر لائی گئیں، وفاق کی جانب سے کراچی کیلئے شروع کیا گیا گرین لائن بس منصوبہ بھی دو سال گزرنے کے باوجود مکمل نہیں ہوسکا ہے، وفاق کے تحت بننے والا یہ گرین لائن پراجیکٹ تکمیل کے بعد صوبے کے حوالے کردیا جائے گا، اس پراجیکٹ کیلئے بسیں لانا اور آپریشنل بنیادوں پر چلانا سندھ حکومت کی ذمہ داری ہوگی۔شاہزیب خانزادہ کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف کی حکومت شروع میں پنجاب کے میٹرو پراجیکٹس کو تنقید کا نشانہ بناتی رہی مگر گزشتہ سال اکتوبر میں خیبرپختونخوا حکومت نے ٹرانس پشاور نامی میٹرو پراجیکٹ کا آغاز کیا جس پر پچاس سے ستاون ارب روپے کی لاگت آرہی ہے، دوسرے صوبوں کی طرح پشاور میٹرو پراجیکٹ کا بھی انتخابات سے قبل مکمل ہونا ضروری سمجھا جارہا تھا تاکہ پانچ سال پورے ہونے پر تحریک انصاف پبلک ٹرانسپورٹ کے نعرے کے ساتھ انتخابی مہم چلاسکے ، تحریک انصاف کی حکومت نے پہلے بیس اپریل اور پھر بیس مئی تک اس منصوبے تک مکمل کرنے کی ڈیڈ لائن دی مگر پراجیکٹ کی ٹاپ مینجمنٹ نے نہ صرف اس ڈیڈ لائن کو غیرحقیقی قرار دیا بلکہ اس کی وجہ سے صوبائی حکومت اور کمپنی کی مینجمنٹ میں اختلافات بھی پیدا ہوگئے، دو مئی کو وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے پشاور میٹرو منصوبے کے چیف ایگزیکٹو آفیسر الطاف درانی کو برطرف کردیا، جس کی وجہ یہ بتائی گئی کہ الطاف درانی اس منصوبے کیلئے چائنا سے بسوں کی منتقلی اور منصوبے کا باضابطہ طور پر افتتاح کرنے میں ناکام نظر آئے، الطاف درانی کی برطرفی کے بعد منصوبے کے تین سینئر عہدیداروں نے بھی احتجاجاً استعفیٰ دیدیا، تحریک انصاف کی حکومت مدت ختم ہونے سے پہلے پشاور میٹرو پراجیکٹ کا آزمائشی طور پر افتتاح کرنا چاہتی ہے، اس کیلئے پروٹوٹائپ بس منگوائی گئی ہے جس کے ٹیسٹ کے بعد مزید چالیس بسیں منگوائی جائیں گی اور ایک فیز میں پشاور میٹرو کا افتتاح کیا جائے گا تاکہ پرویز خٹک انتخابات میں اس پراجیکٹ کو انتخابی مہم کا حصہ بناسکیں۔بلوچستان پاکستان کا واحد صوبہ ہے جہاں پبلک ٹرانسپورٹ کیلئے ایک بھی منصوبہ شروع نہیں کیا گیا ہے،حکومتیں آئیں اور گئیں مگر بلوچستان میں پبلک ٹرانسپورٹ کیلئے پہلے بھی کچھ نہیں تھا اور اب بھی کچھ نہیں ہے۔شاہزیب خانزادہ نے تجزیے میں مزید کہا کہ امریکی سفارتخانہ بیت المقدس منتقل کرنے کیخلاف غزہ میں احتجاج کرتے فلسطینیوں پر اسرائیلی فوج نے کریک ڈاؤن کیا جس میں ساٹھ سے زائد افراد کی شہادت پر امریکا اور اسرائیل کو عالمی برادری کی تنقید کا سامنا ہے، امریکا اور اسرائیل کیخلاف امریکا سمیت دیگر ممالک میں احتجاج ہور ہے ہیں، امریکا کے اہم اتحادی ممالک بھی اس متنازع فیصلے پر امریکا کے ساتھ نہیں جبکہ پاکستا ن نے بھی امریکی فیصلے اور فلسطینیوں پر اسرائیلی مظالم کی مذمت کی اور جمعے کو ملک بھر میں فلسطینیوں سے اظہار یکجہتی کیلئے یوم یکجہتی فلسطین منایا گیا، ترکی اس تمام صورتحال میں امریکا اور اسرائیل پر سخت تنقید کررہا ہے، ترکی نے اسرائیلی سفیر کو بھی ملک بدر کردیا تھا، جمعے کو ترکی میں فلسطینیوں سے یکجہتی کیلئے ریلی میں لاکھوں افراد شریک ہوئے،اسی معاملہ پر استنبول میں او آئی سی کا غیرمعمولی اجلاس بھی ہورہا ہے جس میں وزیراعظم شاہد خاقان عباسی بھی شرکت کیلئے پہنچے ہیں۔ شاہزیب خانزادہ کا کہنا تھا کہ امریکا اسرائیل کی غلطی تسلیم کرنے کیلئے تیار نہیں اور تشدد کا ذمہ دار حماس کو قرار دے رہا ہے، لیکن پیر کو جب غزہ میں اسرائیلی کریک ڈاؤن ہورہا تھا تو امریکی اخبار کا نمائندہ غزہ میں امدادی کارروائیوں میں ملوث ایمبولینس کے ساتھ ساتھ تھا، اس وقت وہاں کیا ہورہا تھا اس نے دنیا کو بتایا اور بتایا کہ فلسطینی کسی طور پر بیت المقدس کو اسرائیلی دارالحکومت تسلیم کرنے کو تیار نہیں ہیں، اس کے خلاف فلسطینی مظاہرین کے احتجاج پر جو جارحیت ہوئی وہ امریکی اخبار کے نمائندے نے اپنی فوٹیج میں پوری دنیا کو دکھائی۔ماہر قانون بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ کیس کی سماعت میں جج صاحبان کے درمیان تنازع سامنے آیا ہے جو تشویشناک بات ہے، ابھی تک چیف جسٹس کا موقف نہیں آیا کہ کس وجہ سے وہ بنچ ختم کیا گیا اور جب دوبارہ تشکیل دیا گیا تو اس میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نہیں تھے، قانونی حلقوں اور عوام میں بھی اس حوالے سے بات چیت ہورہی ہے، اس واقعہ سے یہ ثابت ہوگیا کہ آرٹیکل 184/3 کی حدود کا استعمال کس وقت اور کس ذریعہ سے ہونا چاہئے، ضروری ہے کہ اس پر دوبارہ غور و فکر کیا جائے، بار کونسلز کی بھی کافی وقت سے یہ خواہش ہے، سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن بھی بہت دفعہ آواز اٹھاچکا ہے کہ آرٹیکل 184/3کی ازخود نوٹس کے اختیار کے تحت ایک اپیل ضرور ہونی چاہئے اور ایک جج کے بجائے تین چار جج مل کر ازخود نوٹس لینے کا فیصلہ کریں، جسٹس فائز عیسیٰ نے ایک آرڈر جاری کیا ہے اس میں الزام ڈائریکٹ چیف جسٹس پر لگایا ہے اس کی وضا حت ضرور آنی چاہئے شاہزیب خانزادہ نے تجزیہ میں مزید کہا کہ سعودی ولی عہدہ محمد بن سلمان کہاں ہیں، ان کے حوالے سے افواہیں گردش کررہی تھیں، اب سعودی اخبار نے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کی ایک تصویر جاری کی ہے جس میں ان کے ساتھ بحرین کے شاہ حمد بن عیسیٰ، متحدہ عرب امارات کے ولی عہد شیخ محمد بن زائد اور مصر کے صدر عبدالفتح سیسی دکھائی دے رہے ہیں لیکن یہ تصویر کب اور کہاں لی گئی اس حوالے سے سعودی اخبار میں کوئی تفصیل نہیں دی گئی ہے۔سینئر تجزیہ کار مجیب الرحمٰن شامی نے پروگرام میں گفتگوکرتے ہوئے کہا کہ نواز شریف کی آج کی خاموشی ظاہر کرتی ہے کہ وہ معاملات پر ازسرنو غورکرسکتے ہیں، نواز شریف نے انٹرویو میں جو بات کہی اس میں ابہام موجود تھا، وہ ایک سوالیہ فقرہ تھا جس کی کئی جہتیں تھیں، اس بیان پر جتنا شدید ردعمل ہوا اور پاکستان میں جس طرح اس پر مہم چلائی گئی وہ توقع کے برخلاف تھا، نواز شریف اس شدت کے ساتھ مخالفت کی توقع نہیں کررہے تھے، نواز شریف کا مقصد رائے عامہ سے مخاطب ہونا نہیں تھا وہ کسی اور کو پیغام دینا چاہتے تھے۔ مجیب الرحمٰن شامی کا کہنا تھا کہ سینٹرل پنجاب اور شہری علاقوں سے تعلق رکھنے والے ن لیگی نواز شریف کے بیانیے کے ساتھ ہیں، نواز شریف کے اردگرد بعض لوگ ایسے ہیں جنہوں نے کبھی انتخاب نہیں لڑا، انتخاب لڑنے والوں کو زمینی حقائق کا علم ہوتا ہے، جس طرح ن لیگ کا ناطقہ بند کرنے کی کوششیں ہورہی ہیں وہ دیکھی نہیں مگر محسوس کی جاسکتی ہیں۔ مجیب الرحمٰن شامی نے کہا کہ نواز شریف کو موجودہ حالات میں بات کرتے ہوئے احتیاط کرنا ہوگی، ن لیگ کا ووٹر ابھی بھی پارٹی کے ساتھ کھڑا نظر آرہا ہے، پارلیمانی پارٹی کے اجلا س میں بھی 120ارکان موجود تھے، پنجاب اسمبلی میں بھی بغاوت کرنے والے انگلیوں پر گنے جاسکتے ہیں، ن لیگ کی انتخابی حیثیت کو کوئی بہت بڑا صدمہ نہیں پہنچا ہے۔ سی ای او کراچی انفرااسٹرکچر ڈویلپمنٹ کمپنی صالح احمد فاروقی نے کہا کہ گرین لائن بس منصوبہ سوا دو سال پہلے شروع کیا گیا تھا، گرین لائن بس منصوبہ کا سرجانی سے گرومندر تک کا پہلا مرحلہ آخری مراحل میں ہے، جون کے آخر تک بس کا ٹریک اور اسٹیشن کے لوازمات پورے ہوجائیں گے، اس کے بعد صرف بس ڈپو رہ جائے گا جس کا زیادہ تر کام ہوچکا ہے، گورنر سے بل منظور ہونے کے بعد امید ہے باقی کام بھی جلد مکمل ہوجائے گا، ہم اپنا کام وقت پر مکمل کرلیں گے لیکن بسوں کی فراہمی محکمہ ٹرانسپورٹ حکومت سندھ کی ذمہ داری ہے،وہاں کچھ ٹیکنیکل وجوہات کی بناء پر تاخیر ہوئی ہے، ہمیں بتایا گیا ہے کہ پبلک پرائیوٹ پارٹنرشپ کے تحت آج ان کا معاہدہ ہوجائے تب بھی بسوں کا آپریشن شروع ہونے میں چھ ماہ لگیں گے۔ صالح احمد فاروقی نے بتایا کہ گرومندر سے آگے منصوبہ بلیو لائن سے جڑنا تھا جس کا پروپوزل ایک پرائیویٹ ڈویلپر نے دیا ہوا تھا، پروپوزل میں تاخیر کے باعث سندھ حکومت نے آگے کا حصہ بھی گرین لائن منصوبہ میں شامل کرنے کیلئے کہا، ورلڈ بینک اور ایشین ڈویلپمنٹ نے مستقبل میں کراچی کی بس لائنز کیلئے نمائش پر جنکشن بنانے کے تناظر میں یہاں جگہ پیدا کرنے کیلئے کہا جس کے بعد اس حصہ پر کام روک دیا ہے، اس پراجیکٹ کے ڈیزائن کے حوالے سے عالمی سطح پر تعاون کے ساتھ کام جاری ہے۔ ترجمان پشاور بس ریپڈ ٹرانزٹ پراجیکٹ اکرام اللہ خان نے کہا کہ پشاور میٹرو منصوبہ مکمل ہونے میں تین ماہ لگیں گے، تین ماہ بعد تمام 90بسیں مین کوریڈور پر چلنا شروع ہوجائیں گی،ا نفرا اسٹرکچر مکمل ہونے تک بسیں بھی پاکستان پہنچ جائیں گی، بیس مئی تک پشاور میٹرو بس منصوبہ کا آزمائشی آغاز کردیں گے، پشاور ٹرانزٹ منصوبہ 27کلومیٹر طویل تین فیز پر مشتمل ہے، آزمائشی بس پہلے فیز پر چلائی جائے گی۔

یہ بھی پڑھیں

کوئٹہ: اے این ایف کی بڑی کارروائی، سوا 2 ٹن منشیات پکڑ لی، 4 اسمگلرز گرفتار

میڈیا 92 نیوزڈسک اینٹی نارکوٹکس فورس (اے این ایف ) انٹیلی جنس نے کوئٹہ میں …