250 برٹش پاکستانیوں نے کمال کر دیا ……تفصیل جانیئے


لندن: (میڈیا92نیوز) انگلینڈ میں3 مئی کو ہونے والے لوکل کونسلز کے الیکشن میں کم و بیش 250برٹش پاکستانی کونسلرز منتخب ہوئے، اعداد و شمار کے مطابق 3 مئی کے انتخابات میں مجموعی طور پر 500برٹش پاکستانی امیدواروں نے حصہ لیا تھا، اس طرح لوکل کونسلز کا الیکشن لڑنے والے کم و بیش48 فیصد برٹش پاکستانیوں نے واضح کامیابی حاصل کی جبکہ انتخابات میں کامیابی حاصل کرنے والوں کی بھاری اکثریت اپوزیشن کی لیبر پارٹی سے ہے، اعداد و شمار کے مطابق منتخب ہونے والے برٹش پاکستانیوں میں210کا تعلق لیبر پارٹی سے ہے جبکہ بقیہ میں سے زیادہ تر کا تعلق لبرل ڈیمو کریٹس اور چند کا تعلق حکمراں کنزرویٹو پارٹی سے ہے۔ انگلینڈ کی کونسلوں میں منتخب ہونے والے برٹش پاکستانیوں میں سے 60 خواتین بھی شامل ہیں، لندن سے سب سے زیادہ برٹش پاکستانیوں نے کامیابی حاصل کی اور ان کی تعداد 85 بتائی جاتی ہے لندن کی 32 بروز میں سے کم از کم 21 بروز کم از کم ایک برٹش پاکستانی نے کامیابی حاصل کی ہے۔ برمنگھم میں اب 22 پاکستان نژاد کونسلر موجود ہیں جبکہ مانچسٹر سے 16 برٹش

پاکستانی منتخب ہوئے ہیں، بریڈ فورڈ اس اعتبار سے سر فہرست ہے جہاں27 برٹش پاکستانی کونسلر ہیں جن میں سے 9 پہلی مرتبہ منتخب ہوئے ہیں،لندن کی ہائونسلو برو میں14 پاکستانی نژاد کونسلر7 خواتین اور7 مرد شامل ہیں۔ہائونسلو سے خواتین کاانتخاب بھی ایک ریکارڈ اور انگلینڈ کی کسی بھی کونسل سے زیادہ ہے۔2014 میں اس کونسل سے صرف ایک پاکستانی نژاد کونسلر منتخب ہوئے تھے۔ والتھمس ٹو کونسل میں 12 کونسلر منتخب ہوئے جن میں 7 مرد اور 5 خواتین ہیں ریڈ برج سے 11 کونسلر منتخب ہوئے ان سب کاتعلق لیبر پارٹی سے ہے۔ لندن کی سٹن برو اور برمنگھم سے لبرل ڈیموکریٹ کے3-3 کونسلر منتخب ہوئے ،ووکنگ پاکستانیوں کامضبوط گڑھ ثابت ہوا جہاں سے3پاکستانی نژاد منتخب ہوئے، لندن کے بعد برمنگھم دوسرا سب سے بڑا شہر ثابت ہوا جہاں حد بندیوں میں حالیہ تبدیلیوں کے بعد 101نشستیں ہوگئی تھیں ان میں سے پہلی مرتبہ 22 پاکستان نژاد کونسلرمنتخب ہوئے، ان میں سے 19کاتعلق لیبر پارٹی اور3کالبرل ڈیموکریٹس سے ہے ۔مانچسٹر سٹی کونسل کی 96 نشستیں تھیں جن میں 16 پاکستانی نژاد کونسلر منتخب ہوئے،لیڈز کی99 نشستوں میں سے 9نشستیں پاکستانی نژاد کونسلروں نے حاصل کیں جن میں2 خواتین شامل ہیں۔ لٹل پاکستان کے نام سے مشہور بریڈ فورڈ میں کونسلوں کی ایک تہائی نشستوں پر انتخاب ہوا جس میں 4 خواتین سمیت9 پاکستانی نژاد کونسلرمنتخب ہوئے اس طرح اب بریڈ فورڈ کے97 کونسلروں میں سے 27 پاکستانی ہیں۔ جو کہ برطانیہ کی کسی بھی کونسل میں پاکستانیوں کی سب سے زیادہ شرح ہے۔مانچسٹر،لیڈز، اوربریڈ فورڈ سے منتخب ہونے والے تمام کونسلروں کاتعلق لیبر پارٹی سے ہے۔دوسرے چھوٹے شہرون کی صورت حال بھی کم وبیش یہی ہے۔ مثال کے طورپر سلائوکونسل میں اب 16پاکستانی نژاد کونسلرہیں، جن میں سے 5 نئے منتخب ہوئے ہیں، اولڈہیم میں پاکستانی کونسلروں کی تعداد 13،راچ ڈیل میں ابپاکستانی نژاد کونسلروں کی تعداد 12ہوگئی ہے، انگلینڈ میں ایسی بہت سی کونسلیں ہیں جہاں پہلی مرتبہ پاکستانی منتخب ہوئے ہیں، ٹھرروک ،رشمور، ریڈڈچ ،سندر لینڈ اورہل میں پہلی مرتبہ پاکستانی منتخب ہوئے ہیں، انگلینڈ کی 353 لوکل کونسلوں میں لندن کی تمام 32 بروز سمیت 34 میٹروپولیٹن، 74 ڈسٹرکٹ اوربرو کونسلوں اور 20 یونٹری اتھارٹیز میں انتخابات ہوئے ان میں 4 ہزار 310 نشستوںپر انتخاب ہوناتھا لندن، برمنگھم، مانچسٹر، لیڈز، ہل، بلیک برن اورنیوکاسل جیسے بڑے شہروں اور ایسٹ لیف، ہروگیٹ، ہیسٹنگز، ہنٹنگ ڈن شائر ،نیوکاسل انڈر لائم ،سائوتھ کیمبرج شائر ور سائوتھ لیک لینڈ کی ڈسٹرکٹ کونسلوں کی تمام نشستوں پر انتخابات ہوئے، جبکہ بعض کونسلوں کی نصف اور بعض کی ایک تہائی نشستوںپر انتخاب کرائے گئے۔برطانیہ میں زیادہ تر سیاستدانوں کاسیاسی سفر کونسل کی سطح سے شروع ہوتاہے۔ صادق خان، سابق ایم پی، محمد سرور، خالد محمود، عمران حسین، سجاد کریم، رحمان چشتی، لارڈ قربان حسین اور افضل خان نے بھی اپنے سیاسی سفر کاآغاز لوکل الیکشنز سے ہی کیاتھا ۔

یہ بھی پڑھیں

عام انٹرنیٹ سے 45 لاکھ گُنا تیز انٹرنیٹ

برمنگھم: سائنس دانوں نے انٹرنیٹ اسپیڈ کا نیا ورلڈ ریکارڈ قائم کیا ہے جو موجودہ براڈ …