ہائیکورٹ نے نیب آرڈیننس کی قانونی حیثیت کے بارے میں درخواست…

لاہور(میڈیا 92 نیوز) پر وفاقی حکومت اور اٹارنی جنرل پاکستان کو نوٹس جاری کر دیئے ہیں.  درخواست میں یہ دعویٰ کیا کہ 18 ترمیم کی منظوری کے   نیب آرڈیننس 1999  کہ کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے اور یہ ایک مردہ قانون ہے. تفصیلات کے مطابق لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس عابد عزیز شیخ نے پاکستان لائیرز فائونڈیشن کی درخواست پر سماعت کی جس میں نیب آرڈیننس 1999 کی قانونی حیثیت کو چیلنج کیا گیا اور  نیب آرڈیننس 1999 کی قانونی حیثیت پر مختلف نوعیت کے اعتراضات اٹھائے گئے ہیں. درخواست گزار تنظیم کے وکیل اے کے ڈوگر  نے  نشاندہی کی کہ جنرل پرویز مشرف نے بارہ اکتوبر 1999 میں منتخب حکومت ختم کر کے اقتدار پر قبضہ کیا اور  آرڈینینس کے تحت احتستاب کے لیے نیب کا ادارہ قائم کیا گیا،درخواست گزار نے اعتراض اٹھایا کہ  جنرل پرویز مشرف نے اپنے دور حکومت میں آئین کو معطل کر کے پی سی او کے تحت نظام حکومت چلائی درخواست گزار تنظیم کے وکیل کے مطابق جنرل شرف کی ایمرجنسی کو تحفظ نہیں دیا کو 18 ترمیم میں تحفظ نہیں دیا گیا اس لیے 18 ترمیم کی منظوری کے بعد جنرل مشرف کے اقدامات ملنے والا  قانونی تحفظ ختم ہوگیا. درخواست گزار کے مطابق نیب آرڈیننس کے ذریعے لوگوں ہراساں کیا جا ریا درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ نیب آرڈیننس قانونی افادیت کھو چکا ہے اور اس کو قانونی تحفظ نہ ہونے کے باوجود استعمال کیا جا رہا ہے اس لیے اس قانون کو مردہ قانون قرار دیکر نیب  آرڈیننس کے ہونے والی کارروائی کالعدم قرار دی جائے.

یہ بھی پڑھیں

عام انٹرنیٹ سے 45 لاکھ گُنا تیز انٹرنیٹ

برمنگھم: سائنس دانوں نے انٹرنیٹ اسپیڈ کا نیا ورلڈ ریکارڈ قائم کیا ہے جو موجودہ براڈ …