پانی میں گھل جانے والی بوتل


لندن(ٹیکنالوجی ڈیسک/ میڈیا92 نیوز) پلاسٹک اور اس سے بنی بوتلیں پوری دنیا اور خصوصاً سمندروں کیلئے خطرہ بن چکی ہیں جب کہ یہ بوتلیں سینکڑوں برس میں بھی ختم نہیں ہوتیں اور سمندری جانوروں سمیت انسانوں کیلئے بھی خطرہ بنی ہوئی ہیں ۔اس کے موثر جواب کے طور پر سکاٹ لینڈ کے ایک موجد جیمز لونگ کروفٹ نے خاص کاغذ سے ایک بوتل بنائی ہے جو سمندر کے کھارے پانی میں رہتے ہوئے صرف ہفتوں میں گھل کعرمکمل ختم ہوجاتی ہے ۔یہ بوتل حیاتی طور پر تلف (بائیوڈی گریڈیبل ) ہونے والی ہے او ر مکمل طور پر واٹر پروف بھی ہے ۔ان بوتلوں کے استعمال سے پلاسٹک کی بوتلوں کے پہاڑ کا دیرینہ مسئلہ حل ہوسکتا ہے ۔پلاسٹک سب سے زیادہ سمندری مخلوق کو ہلاک کررہا ہے اور بحر او قیانوس میں ٹیکساس شہر کی جسامت کا پلاسٹک کا ڈھیر دیکھا گیا ہے ۔اس خبر کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ پوری دنیا میں ہلاسٹک مافیا بہت مضبوط ہو چکی ہے اور ہر سال اس کیلئے اربوں ڈالر رقم خرچ کرتی ہے ۔دوسری جانب جیمز اس بوتل کو اپنے باورچی خانے میں اپنے ہاتھ سے بنا رہے ہیں ۔بوتل ایک ماہ تک سمندر میں رہتے ہوئے مکمل طور پر گھل جاتی ہے جب کہ پلاسٹک کی بوتل کم سے کم 450 سال بعد ختم ہوتی ہے ۔جیمز کی بوتل کا ڈھکن ایک سال میں ختم ہوجاتا ہے ۔اس بوتل کی سب سے اچھی بات یہ ہے کہ اس پر بہت لاگت نہیں آتی اور اسے بنانے میں صرف 70 روپے خرچ ہوتے ہیں جو پلاسٹک کی بوتل کے مقابلے میں بہت زیادہ ہے لیکن ماحول کا دکھ کم کرنے کیلئے یہ رقم کچھ زیادہ نہیں ۔ہر سال ہم 14 ارب ٹن کچرا سمندروں میں پھینک رہے ہیں جن میں اکثریت پلاسٹک کی ہے ۔جیمز لانگ کرافٹ نے اپنی اختراع کیلئے انٹرنیٹ پر چندہ شروع کیا ہے اور کراﺅڈ فنڈنگ ویب سائٹ پر 34 ہزار ڈالر مانگے ہیں جن میں سے نصف رقم جمع ہوچکی ہے ۔

یہ بھی پڑھیں

عام انٹرنیٹ سے 45 لاکھ گُنا تیز انٹرنیٹ

برمنگھم: سائنس دانوں نے انٹرنیٹ اسپیڈ کا نیا ورلڈ ریکارڈ قائم کیا ہے جو موجودہ براڈ …