پی ایس ایل فور کا آغاز اب امارات سے نہیں………..؟


کراچی (سپورٹس ڈیسک/میڈیا92نیوز) آئندہ سال پاکستان سپر لیگ کے میچ کراچی، لاہور اور راولپنڈی میں ہوں گے۔ ملتان میں فائیو اسٹار ہوٹل نہ ہونے کی وجہ سے ملتان کو پی ایس ایل میچوں کی میزبانی ملنا مشکل ہے۔ چوتھی پاکستان سپر لیگ کا آغاز اس بار متحدہ عرب امارات کے بجائے پاکستان سے ہوگا۔ تین سال بعد افتتاحی تقریب پاکستان میں ہوگی تاہم سیکیورٹی معاملات کی وجہ سے تمام میچ پاکستان میں کرانے کی تجویز پر اتفاق نہیں ہوسکا۔ پاکستان میں میچ کرانے کے بعد ٹورنامنٹ بیرون ملک متحدہ عرب امارات منتقل ہوگا۔ تین سال میں پہلی بار غیر ملکی کو ادا کئے جانے والے معاوضے سے ٹیکس کی کٹوتی کی جائے گی۔ قومی سلیکٹرز اور فرنچائز نمائندے پی ایس ایل کھلاڑیوں کی نئی رینکنگ جاری کی جائے گی۔ پاکستان سپر لیگ کے تیسرے ایڈیشن میں امپائرنگ کے ناقص معیار پر فرنچائز نمائندوں کی جانب سے شدید تنقید سامنے آئی ہے۔ حالانکہ پاکستان کے مشہور امپائر علیم ڈار انگلینڈ کے ٹم رابنسن سمیت کئی امپائروں نے ٹورنامنٹ کو سپر وائز کیا تھا۔ امپائروں کو ٹیکنالوجی کا بھی
سہارا لینا پڑا تھا۔ جمعرات کو لاہور میں پاکستان سپر لیگ کے اگلے ایڈیشن کے لئے پالیسی معاملات طے کرنے کے لئے پاکستان کرکٹ بورڈ اورچھ فرنچائز کے نمائندوں کا اجلاس ہوا۔ پی سی بی کی جانب سے پی ایس ایل پراجیکٹ ڈائریکٹر نائیلہ بھٹی، جنرل منیجر انٹر نیشنل عثمان واہلہ اور پی ایس ایل کے عمران احمد خان نے شرکت کی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اجلاس میں متعدد تجاویز سامنے آئیں اور بہت سارے معاملات پر جلد فیصلہ ہوجائے گا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ تیسرے ایڈیشن میں امپائرنگ کے خراب معیار پر تقریباً تمام فرنچائز نے تحفظات ظاہر کئے ۔ بورڈ کے ایک افسر نے امپائروں کے حق میں بولنے کی کوشش کی لیکن انہیں فرنچائز نمائندوں کی جانب سے سخت مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا۔ شدید تنقید کے بعد بورڈ نے ہتھیار ڈال دیئے اور مستقبل میں امپائرنگ کے معیار میں بہتری لانے کا عندیہ دیا۔ ذرائع کے مطابق پاکستان سپر لیگ کا آغاز پہلی بار پاکستان سے ہوگا۔ کراچی، لاہور اور پنڈی میں میچ ہوں گے۔ اجلاس فرنچائزوں نے پورا ٹورنامنٹ پاکستان میں کرانے کی تجویز دی لیکن پی سی بی نے کہا کہ سیکیورٹی کی وجہ سے اس وقت ایسا ممکن نہیں ہے۔ ٹورنامنٹ کے اگلے ایڈیشن میں ہر ٹیم 21 میں سے بارہ کھلاڑیوں کو برقرار رکھ سکتی ہے۔ ہر ٹیم 21کے بجائے بیس کھلاڑیوں پر مشتمل ہوگی۔ ٹورنامنٹ کے دوران اگر کوئی کھلاڑی ان فٹ ہوجاتا ہے تو وہ مکمل طور پر ٹورنامنٹ سے باہر ہوجائے گا۔ ایک بار کسی کھلاڑی کا متبادل لینے کے بعد وہ کھلاڑی ٹورنامنٹ میں واپس نہیں آسکے گا۔ پاکستان سپر لیگ میں آئندہ وہی غیر ملکی کھلاڑی شریک ہوگا جو پاکستان آنے کے لئے تیار ہوگا۔ اگر کوئی کھلاڑی حامی بھرنے کے باوجود پاکستان نہیں آتا ہے تو فرنچائز نے پاکستان کرکٹ بورڈ سے کہا ہے کہ فرنچائز کے نقصان کا ازالہ پاکستان کرکٹ بورڈ کرے۔پھر کھلاڑی کو پیسے فرنچائز نہیں پاکستان کرکٹ بورڈ ادا کرے۔ پاکستان سپر لیگ کی ڈرافٹ رینڈم طریقے سے ہوگی۔ کھلاڑیوں کی مختلف کٹیگریز میں معاوضے کی ادائیگی کی تجویز ہے۔ فرنچائز نمائندوں نے پلیئر ز ڈیولپمنٹ پروگرام کے حوالے سے ڈائر یکٹر ہارون رشید کی اجلاس سے غیر حاضری پر ناراضگی کا اظہار کیا۔

یہ بھی پڑھیں

عام انٹرنیٹ سے 45 لاکھ گُنا تیز انٹرنیٹ

برمنگھم: سائنس دانوں نے انٹرنیٹ اسپیڈ کا نیا ورلڈ ریکارڈ قائم کیا ہے جو موجودہ براڈ …