نابالغ لڑکی کو ننگا کر ویڈیو بنائی جاتی رہی، قہقے لگائے جاتے رہے.

(میڈیا 92 نیوز)معاشرے میں جنسی درندوں کی درندگی روز بروز بڑھتی جا رہی ہے اور آئے روز بالغ اور نابالغ بچیوں سے ریپ کے واقعات سامنے آ رہے ہیں، دنیا کے کسی بھی کونے میں چلے جائیں انسانی جسم نوچنے والے انسان نما حیوان پائے جاتے ہیں جو اپنی حوس کو پورا کرنے کے لئے معصوم لڑکیوں کو زیادتی کا نشانہ بنا رہے ہیں، اسی طرح کا ایک افسوسناک واقعہ انڈیا کی ریاست بہار میں پیش آیا جہاں نابالغ لڑکی کو برہنہ کر دیا گیا۔

بھارتی میڈیا کے مطابق ایک نابالغ لڑکی کو برہنہ کرنے اور جنسی طور پر ہراساں کیے جانے والی ویڈیو کے وائرل ہونے کے بعد چھ افراد کو گرفتار کیا ہے، وائرل ہونے والی ویڈیو میں آٹھ لڑکوں کو ایک لڑکی کے کپڑے اتارتے اور اسے جنسی زیادتیوں کا نشانہ بناتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔
بہار پولیس نے ایک پریس کانفرنس میں چار لڑکوں کی گرفتاری کی تصدیق کی جبکہ انڈین میڈیا نے بتایا کہ بعد میں دو لڑکے مزید گرفتار کرلیے گئےہیں۔
پٹنہ زون کے آئی جی نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ یہ ویڈیو 28 اپریل کی شب پولیس کو ملی تھی جس کے بعد انھوں نے کارروائی کرتے ہوئے چار افراد کو گرفتار کیا ہے جن میں سے ایک نابالغ ہے اور باقی لوگوں کی تلاش جاری ہے، ان کا کہنا تھا کہ تفتیش میں پتہ چلا کہ متاثر لڑکی نابالغ تھی۔
آئی جی کا کہنا ہے کہ اس معاملے میں ملزمان کے خلاف ‘پوسکو قانون کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے، پوسکو قانون نابالغوں کو جنسی تشدد سے تحفظ فراہم کرنے کے لیے حال ہی میں بنایا گيا ہے۔
پولیس کا کہنا تھا کہ وائرل ہونے والے ویڈیو میں کچھ نوجوان ایک لڑکی کے زبردستی کپڑے اتارتے نظر آتے ہیں جبکہ لڑکی جدوجہد کرتی اور چیختی پکارتی نظر آتی ہے اور آس پاس کھڑے کئي نوجوان ہنستے اور مذاق اڑاتے نظر آتے ہیں۔
پولیس نے کہا کہ ویڈیو میں نظر آنے والی موٹر سائیکل سے ملزمان کو تلاش کرنے میں مدد ملی ہے، اور پولیس نے وہ موٹر سائیکل برآمد کر لی ہے جو اس ویڈیو میں جائے وقوعہ پر نظر آئی ہے۔
آئی جی نیئر حسنین نے اس سلسلے میں بتایا کہ حراست میں لیے جانے والے ملزمان سے پوچھ گچھ کے بعد ہی یہ واضح ہو پائے گا کہ یہ موٹر سائیکل ملزمان کی ہے یا کسی اور کی ہے یا پھر اس کا متاثرہ لڑکی سے کوئی تعلق ہے۔
آئی جی کا کہنا ہے کہ اس ویڈیو کی تشہیر بھی قانوناً جرم ہے، انہوں نے لوگوں سے بھی اپیل کی کہ اگر کسی کے پاس اس کے متعلق معلومات ہیں تو وہ پولیس کو مطلع کریں تاکہ ملزموں کو قانون کے مطابق سزا دی جا سک

یہ بھی پڑھیں

عام انٹرنیٹ سے 45 لاکھ گُنا تیز انٹرنیٹ

برمنگھم: سائنس دانوں نے انٹرنیٹ اسپیڈ کا نیا ورلڈ ریکارڈ قائم کیا ہے جو موجودہ براڈ …