الیکشن میں تحریک انصاف کو کوئی شکست نہیں دے سکتا، عمران خان

(میڈیا 92 نیوز)تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا کہ وہ دل کی گہرائیوں سے لاہور کے پاکستانیوں کا شکریہ ادا کرتے ہیں، جب بھی انہوں نے دل سے لاہور کو آواز دی ہے تو کبھی بھی لاہور نے مایوس نہیں کیا، انہوں نے کہا کہ پاکستان کے مختلف علاقوں سے مینار پاکستان لاہور کے جلسے میں آنے والے ہر شہری کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔


عمران خان نے کہا کہ انہوں نے جب بھی قوم سے پیسہ مانگا ہے تو قوم کی طرف سے مایوس نہیں کیا گیا، ہسپتال کے لئے پیسہ مانگا تو عوام نے دل کھول کر ساتھ دیا ہے، اس لئے میں بھی عوام سے وعدہ کرتا ہوں کہ قوم کو مایوس نہیں کروں گا۔ انہوں نے کہا کہ آج نئے پاکستان کیلئے گیارہ نکاتی ایجنڈہ پیش کروں گا جو نئے پاکستان کی بنیاد رکھے گا۔

چلے ہوئے کارتوس نہیں، نوجوان انقلاب لائینگے انہوں نے کہا کہ وہ آج لمبی بات کریں گے، اگر کسی کارکن کا سٹمنا نہیں ہے تو وہ چلے جائے۔

عمران خان نے پاکستان اس لئے بنایا گیا تھا تاکہ یہاں آزادی ہو اور مسلمانوں کی فلاح وبہود کیلئے کام کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ پاکستان قائد اعظم کی سوچ نہیں تھی اور نہ ہی اقبال کا نظریہ تھا، جو قوم اپنے نظریے سے ہٹتی ہے وہ تباہ ہو جاتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ قائد اعظم جو پاکستان چاہتے تھے، اس میں سب انسانوں کے بنیادی حقوق تھے۔ قائد اعظم نے مدینہ کی ریاست جیسا خواب پاکستان کیلئے دیکھا تھا، مدینہ میں مسلمانوں اور انسانوں کے ساتھ فلاح و بہود کیلئے کام کیا گیا، نبی کریم ﷺ نے اپنے کردار کے ذریعے مسلمانوں کو اکٹھا کیا اور لوگ نبی کریم ﷺ کے پیچھے چلتے آئے، انہوں نے اپنا اور اپنے ساتھیوں کا کردار بنایا۔

عمران خان نے کہا کہ قوم کا کردار بنانے کی ضرورت ہے، مسلمانوں نے اپنے کردار کی وجہ سے پوری دنیا میں حکومت کی اور جب کردار ختم ہوا تو پھر مسلمان پستی کی طرف چلے گئے۔ انہوں نے کہا کہ جب میں بچپن میں تھا تو دنیا بھر میں پاکستان کی عزت تھی، ماضی میں صدر پاکستان ایوب خان امریکہ گئے تو انہیں بے تحاشہ عزت ملتی تھی لیکن اب ہمارا وزیر اعظم کسی غیرملکی دورے پر جاتا ہے تو اسے پیچھے کھڑا کیا جاتا ہے اور کوئی عزت بھی نہیں دی جاتی ہے کیونکہ کرپٹ حکمرانوں نے قوم کا کردار ختم کر دیا ہے۔ اب پاکستانی وزیر اعظم کے ایئرپورٹس پر چیکنگ کی جاتی ہے اور کپڑے اتروائے جاتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ جب پاکستانی وزیر اعظم کے ساتھ یہ سلوک ہوگا تو باہر کے ملک میں عام پاکستانی کے ساتھ کیا سلوک ہوتا ہوگا اور ایئرپورٹس پر لاکھوں پاکستانیوں کے ساتھ یہی ہوتا ہے۔

عمران خان نے کہا کہ جس قوم نے دنیا کو انسانیت سکھانی تھی، اس قوم کا حال کرپٹ حکمرانوں نے یہ کردیا ہے کہ ان کی دنیا میں کوئی عزت نہیں ہے، جو پاکستان اسلامی فلاحی ریاست کے نام پر بننا تھا، اس کے ساتھ دنیا میں یہ سلوک ہو رہا ہے۔

عمران خان نے کہا کہ موجودہ حکمرانوں کی پالیسیوں کی وجہ سے پاکستان تباہی کی طرف جا رہا ہے، پاکستان اس وقت ستائیس ہزار ارب روپے کا مقروض ہے، قرضہ اتارنے کیلئے مزید قرضہ لیا جا رہا ہے، یہ قرضہ عوام دیں گے اور عوام سے ٹیکسوں کی شکل میں یہ پسہ لیا جائیگا۔

انہوں نے کہا کہ لیکن ہم پاکستان کو تباہ نہیں ہونے دیں گے، تحریک انصاف کا گیارہ نکاتی منصوبہ پاکستان کو تباہ نہیں ہونے دیگا۔
لازمی پڑھیں۔۔۔

سونامی تخت لاہور سے ٹکرا گیا، کارکنوں کا سمندر امڈ آیا
انہوں نے کہا کہ والدہ کو کینسر ہوا تو میں نے کینسر کا ہسپتال بنانے کا فیصلہ کیا، میں اپنی والدہ کا لاڈلہ تھا، ن لیگ جو مجھے لاڈلہ کہتی ہے تو میں اپنی والدہ کا لاڈلہ تھا، والدہ کے کینسر نے پاکستان کی سیاست میں آنے پر مجبور کیا، پاکستان میں کینسر کا کوئی ہسپتال نہیں تھا تو میں اپنی والدہ کو لے کر انگلینڈ گیا تو وہاں سرکاری ہسپتال میں والدہ کا علاج ہو رہا تھا اور میں پیسے ادا کر کے علاج کروا رہا تھا، ساتھ والے بیڈ پر ایک دوسری خاتون زیر علاج تھی جس کا مفت علاج ہو رہا تھا۔ یہ سوچ کر میں حیران ہو گیا، ہمارے پاکستان میں غریب کا سرکاری ہسپتال میں علاج ممکن نہیں ہوتا، پیسے دے کر لوگ سرکاری ہسپتالوں سے علاج کرواتے ہیں۔

عمران خان نے کہا کہ میں نے1984 میں میو ہسپتال گیا اور وہاں ایک مجبور شخص کو اپنے بھائی کے کینسر کے علاج کیلئے ہسپتال میں دھکے کھاتے دیکھا۔

عمران خان نے سیاست میں آنے کی وجوہات بتاتے ہوئے اپنے ایک ماضی کے قصے کا ذکر کیا اور کہا کہ ایک دفعہ میں کرکٹ کھیل کر تھکا ہوا واپس آیا تو گھر کے باہر ایک شخص کھڑا تھا جو مجھے زبردستی کینسر ہسپتال کیلئے چندہ اکٹھا کروانے کیلئے ایک مسجد میں لے گیا، راستے میں گاڑی بھی خراب ہوگئی تو میں نے دل میں اس شخص کو بہت کوسہ لیکن جب ہم گائوں کی مسجد میں پہنچے تو وہاں کوئی بھی نہیں تھا، میں غصے میں اس شخص کو کچھ کہنے ہی لگا تھا کہ مسجد میں اعلان کیا گیا عمران خان آ گیا ہے، جس نے چندہ دینا ہے، وہ مسجد میں آ کر چندہ دے جائے، ابھی میں سوچ ہی رہا تھا کہ پانچ میں لوگوں کا ہجوم اکٹھا ہو گیا اور وہ غریب لوگ پانچ پانچ روپے چندہ دینے کیلئے اکٹھے ہوگئے، میں نے لوگوں سے کہا کہ آپ غریب لوگ ہیں، آپ کے پیسے کے بغیر بھی ہسپتال بنا لوں گا لیکن لوگوں نے کہا کہ وہ اس ہسپتال میں اپنا حصہ ڈالنا چاہتے ہیں۔ اس دن میں نے فیصلہ کیا کہ جو لوگ اتنا جذبہ رکھتے ہیں لیکن انہیں سرکاری ہسپتال میں علاج کیلئے جگہ میسر نہیں۔ اس دن میں نے سوچا کہ یہاں دو پاکستان نہیں ہونگے۔

عمران خان نے کہا کہ جو ملک مقروض ہوتا ہے تو قائم نہیں رہ سکتا۔ جو ملک قرضہ دیتا ہے وہ کسی کو فتح کئے بغیر اپنا غلام بنا سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ جب تحریک انصاف کی بنیاد رکھی تو لوگ ہمارا مذاق اڑاتے تھے، کونسلر کے پاس بھی جاتے تھے تو وہ کہتا تھا کہ مشاورت کر کے بتائوں گا لیکن میری کرکٹ کی ٹریننگ ہے، میں آخری گیند تک ہار نہیں مانتا پھر دوہزار گیارہ آیا اور اسی مینار پاکستان میں تحریک انصاف کو لوگوں نے عزت دی۔

عمران خان نے کہا کہ اب جو بھی الیکشن آئیگا تو وقت ثابت کرے گا کہ اس تحریک انصاف کو کوئی شکست نہیں دے سکتا۔

عمران خان نے کہا کہ ہم نماز پڑھتے ہیں تو یہ دعا مانگتے ہیں کہ ہمیں فلاح کے راستے پر چلا اور ظلم کے راستے سے بچا۔ اب ظلم کا راستہ تو سامنے ہے کہ امیر سے امیر اور غریب سے غریب ہوتا جا رہا ہے۔ معاشرے میں ظلم اور ناانصافی ہے اور اگر یہ ہو تو ملک اور معاشرہ نہیں چل سکتا۔

یہ بھی پڑھیں

کوئٹہ: اے این ایف کی بڑی کارروائی، سوا 2 ٹن منشیات پکڑ لی، 4 اسمگلرز گرفتار

میڈیا 92 نیوزڈسک اینٹی نارکوٹکس فورس (اے این ایف ) انٹیلی جنس نے کوئٹہ میں …