LONDON, ENGLAND - JUNE 18: Pakistan lift the ICC Champions Trophy after beating India during ICC Champions Trophy Final between India and Pakistan at The Kia Oval on June 18, 2017 in London, England. (Photo by Gareth Copley/Getty Images)

چیمپئنز ٹرافی کے آخری ایڈیشن کا پاکستان کی جیت پر اختتام


کراچی (سپورٹس ڈیسک/ میڈیا92 نیوز) انٹرنیشنل کرکٹ کونسل نے آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی ختم کر دی ۔ چیمپئنز ٹرافی کا آخری ایڈیشن پاکستان کی جیت کے ساتھ ختم ہوا اور اب ایسا لگ رہا ہے کہ پچاس اوورز کے اس مقبول ٹورنامنٹ کا باب ہمیشہ کے لئے بند ہوگیا ہے۔ اس لئے پاکستان کو اب اس ٹورنامنٹ میں اپنے اعزاز کا دفاع نہیں کرنا پڑے گا۔ اوول لندن میں فائنل میں پاکستان نے بھارت کو شکست دے کر آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی جیتی تھی۔ جب کہ تمام ممبر 104ممالک کو ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل اسٹیٹس دیدیا گیا۔ ممبر ملک جو ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل کھیلیں گے اسے انٹرنیشنل میچ کا درجہ ملے گا۔ تمام رکن ملکوں نے اتفاق رائے سے نئے فیوچر ٹور پروگرام پر دستخط کردیئے۔ آئی سی سی نے ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ کرانے کا اعلان کیا ہے۔ ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ کا پہلا سائیکل2019سے2021تک ہوگا۔ آئی سی سی کے تمام خواتین رکن ملکوں کو بھی یکم جنوری سے ٹی 20 انٹر نیشنل کا درجہ مل جائے گا۔بھارت کے شہر کول کتہ میں ہونے والی آئی سی سی بورڈ میٹنگ میں اتفاق رائے سے مختلف فیصلے کیے گئے۔ایک ہفتے جاری رہنے

والی میٹنگ جمعرات کو ختم ہوگئیں۔ واضح رہے کہ آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی کا آخری ٹورنامنٹ گذشتہ سال ہوا تھا۔ اوول لندن میں میں پاکستان نے روایتی حریف بھارت کو شکست دیتے ہوئے پہلی مرتبہ ٹرافی اپنے نام کرنے کا اعزاز حاصل کیا تھا۔ نئے فیصلے کے مطابق لگاتار دو سال ورلڈٹی20 منعقد ہوگا۔ نئے فیوچر ٹور پروگرام کے تحت 2021 میں چیمپئنز ٹرافی کی بجائے ورلڈ ٹی ٹوئنٹی ٹورنامنٹ بھارت میں ہو گا جبکہ ورلڈ ٹی ٹوئنٹی 2020 پہلے سے اعلان کردہ شیڈول کے مطابق آسٹریلیا میں ہی ہو گا۔ علاوہ ازیں یکم جولائی 2018 سے تمام ممبر ممالک کی ویمنز ٹیموں کو ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل کرکٹ کھیلنے کی اجازت مل جائے گی جبکہ یکم جنوری 2019 سے تمام ممبر ممالک کی مینز ٹیمیں بھی مختصر فارمیٹ میں انٹرنیشنل کرکٹ کھیلنے کی اہل ہو جائیں گی۔ آئی سی سی میٹنگ میں کھلاڑیوں کے خراب رویے اور بال ٹیمپرنگ کا معاملہ بھی زیر بحث آیا اور کھلاڑیوں کے ضابطہ اخلاق میں نظر ثانی کر نے پر غور کیا گیا۔ آئی سی سی کے چیئرمین ششانک منوہر کے عہدے کی دو سالہ معیاد جون میں ختم ہورہی ہے جس کے بعد نئے چیئرمین کی تقرر کے لئے طریقہ کار طے کیا جائےگا۔ آئی سی سی کے چیف ایگزیکٹیو ڈیو رچرڈسن کا کہنا ہے کہ چیمپئنز ٹرافی کا ایونٹ ورلڈ کپ سے ملتا جلتا تھا اور دونوں ایونٹس میں فرق کرنا بہت مشکل تھا اسی لیے اسے ختم کرنے کا حتمی فیصلہ کیا گیا ہے۔ ورلڈ ٹی20 کے انعقاد کا فیصلہ کرکٹ کے کھیل کی ترقی اور بہتری کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے اور یہ فیصلہ ٹیسٹ اور ون ڈے جیسے کھیل کے طویل فارمیٹس کو متاثر نہیں کرے گا۔ واضح رہے کہ بھارت نے 2021 میں چیمپئنز ٹرافی کی جگہ ورلڈ ٹی20 کے انعقاد کی مخالفت کی تھی کیونکہ بھارت کا دعویٰ تھا کہ اس کے نتیجے میں انہیں کم از کم 30ملین ڈالر کا نقصان ہو گا ۔ کول کتہ میں میٹنگ کے بعد پریس کانفرنس میں انہوں نے کہا کہ اجلاس میں بھارت کے نمائندہ امیتابھ چوہدری بھی موجود تھے جنہوں نے 2021 میں ورلڈ ٹی20 کے انعقاد کے حق میں ووٹ دیا۔2021 اور 2023 میں آئی سی سی ٹیسٹ چیمپئن شپ فائنل کا انعقاد کیا جائے گا جبکہ ورلڈ کپ کوالیفکیشن لیگ 2020 سے 2022 تک کھیلی جائے گی۔

یہ بھی پڑھیں

عام انٹرنیٹ سے 45 لاکھ گُنا تیز انٹرنیٹ

برمنگھم: سائنس دانوں نے انٹرنیٹ اسپیڈ کا نیا ورلڈ ریکارڈ قائم کیا ہے جو موجودہ براڈ …