ہائیکورٹ نے گردشی قرضے جاری کرنے سے قبل لازمی آڈٹ کرانے کی شق ختم کرنے پر فیصلہ محفوظ کر لیا۔

لاہور(میڈیا 92 نیوز)  آڈیٹر جنرل پاکستان کے اختیارات ختم کرنے کے خلاف دائر درخواست پر فریقین کے وکلاء کے دلائل مکمل ہونے پر فیصلہ محفوظ کر لیا۔تفصیلات کے مطابق لاہور ہائیکورٹ کی جسٹس عائشہ اے ملک نے کیس کی سماعت کی،درخواست گزاروں کے وکیل رانا محمد زاہد نے موقف اختیار کیا کہ حکومت نےگردشی قرضے جاری کرنے کے لئے  آڈیٹر جنرل کے آڈٹ کے اختیارات کو سلب کر لیا،انہوں نے بتایا کہ قانون کے تحت گردشی قرضے جاری کرنے سے قبل آڈیٹر جنرل سے  آڈٹ کرانا لازمی تقاضا تھا،درخواست گزار کے وکیل نے بتایاکہ حکومت نے کنٹرولر جنرل اکاونٹس آرڈیننس 2001 میں سیکشن پانچ بی شامل کر کے آڈیٹر جنرل سےگردشی قرضوں کا آڈٹ کرانے کے اختیارات چھین لئے،انہوں نے کہا کہ نئی شق کو ماورائے آئین ہونے کی بنائ پرکالعدم قرار دیا جائے کیوں کہ آڈیٹر جنرل کا عہدہ آئینی ہے اور انہیں آئین کے تحت اختیارات حاصل ہیں جنہیں قانون کے تحت سلب نہیں کیا جاسکتا،انہوں نے بتایا کہ نئے قانون کے تحت وزارت خزانہ کے احکامات پر صوبے کا اکاونٹ آفس بغیر آڈٹ کرائے گردشی قرضوں کے لئےلامحدود رقم  جاری کر سکتا ہے،عدالتی حکم پر وفاقی حکومت اور دیگر فریقین نے جواب جمع کرا دیا،جس پرعدالت نے فریقین کے وکلاء کے دلائل سننے کے بعد فیصلہ محفوظ کر لیا

یہ بھی پڑھیں

جینیات سے وابستہ تناؤ ہارٹ اٹیک کا خطرہ زیادہ بڑھا دیتا ہے

بوسٹن: حال ہی میں ہونے والے ایک مطالعے سے پتہ چلا ہے کہ جینیاتی طور پر …