نا بیناوکیل بن پائے گا جج؟

(دلچسپ و عجیب/میڈیا 92 نیوز) چیف جسٹس پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار نے لاہور کے نابیناوکیل کی اپیل کا نوٹس لے لیا۔
لاہور کےنابینا وکیل یوسف سلیم کو سلیکشن کمیٹی نے سول جج کے عہدے کے لیے مستردکردیا تھا تاہم چیف جسٹس پاکستان نےان کی اپیل کا نوٹس لیتے ہوئے چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ کوانٹرویولینے کی ہدایت کردی۔
جوہر ٹاؤن لاہور کے رہائشی 25 سالہ یوسف سلیم پیدائشی طور پر بصارت سے محروم ہیں، تاہم انہوں نے اپنی اس معذوری کو آڑے نہ آنے دیا اور پنجاب یونیورسٹی سے ایل ایل بی کے امتحان میں گولڈ میڈل حاصل کیا۔
3 سال بعد یوسف سلیم نے سول جج کے لیے امتحان دیا اور پہلے نمبر پر رہے، لیکن نابینا ہونے کی وجہ سے انٹرویو میں فیل ہو گئے اور اس طرح یوسف کا سول جج اور پھر سپریم کورٹ کا جج بننے کا خواب ادھورا رہ گیا۔
بہنوں کے اکلوتے بھائی یوسف سلیم کی ایک بہن بھی بصارت سے محرومی کے باوجود وزیراعظم سیکریٹریٹ میں نائب سیکریٹری کے عہدے پر فائز ہیں۔یوسف سلیم بھی ہمت ہارنے والوں میں سے نہیں اور ان کا کہنا ہے کہ زندگی کبھی رُکتی نہیں۔
یوسف سلیم جج بن کر قوم کی خدمت کرنا چاہتے ہیں اور بصارت سے محروم افراد کے لیے رول ماڈل بننا ان کا خواب ہے۔

یہ بھی پڑھیں

ملائکہ اروڑا کا سابق شوہر ارباز خان کیساتھ فیملی ڈنر، ویڈیو وائرل

ممبئی: بالی ووڈ اداکارہ و ماڈل ملائکہ اروڑا نے اپنے سابق شوہر ارباز خان اور اُن کی …