رمضان بازار لگانے کےلئے فنڈز ملے نہ ذمہ داریاں،بلدیہ عظمی اور ڈی سی لاہور نے اپنے طور پر تیاریاں مکمل کرلیں

لاہور(میڈیا92نیوز رپورٹ) صوبائی دارالحکومت میں31رمضان بازار لگانے کے فنڈز ملے نہ ذمہ داریاں ،بلدیہ عظمی اور ڈی سی لاہور نے اپنے اپنے طور پر تیاریاں کرلیں، نگران حکومت میں رقم کون دے گا ٹھیکیدار بھی گومگو کی صورتحال سے دوچار جبکہ افسران بھی بے یقینی کی کیفیت میں مبتلا ہوگئے۔ تفصیل کے مطابق دیگر اضلاع کی طرح لاہور میں رمضان بازار لگانے کےلئے بلدیہ عظمی نے حکومت پنجاب سے41 کروڑ روپے مانگے تھے جو تاحال اسے موصول نہیں ہوسکی البتہ دونوں شعبوں نے اپنے اپنے طور پر تیاریاں شروع کررکھی ہیں میئر کرنل(ر) مبشر جاوید نے بلدیہ عظمیٰ لاہورکی سطح پر رمضان بازار لگانے کے انتظامات کے حوالے سے افسران کو ذمہ داریاں سونپ دی ہیں۔ دوسری جانب ڈپٹی کمشنر سمیر احمد سید بھی تیاریاں کررہے ہیں جبکہ رمضان بازار کون لگائے گا نگرانی کسی کی ہوگی تاحال فیصلہ نہیں ہوسکا، رمضان بازار کے تقریباً دو ہفتے کے بعد نگران حکومت آجائےگی اور نئے افسران تعینات ہوجائیں گے لہٰذا قوم کے حصول میں مشکلات پیدا ہوسکتی ہیں ٹھیکیدار بھی اس وجہ سے گومگو صورتحال سے دوچار ہورہے ہیں جبکہ افسران بھی واضع طور پر کلیئر نہیں جس سے اس بار رمضان بازار بھرپور انداز میں لگنا مشکل ہوتے جارہے ہیں ۔ اس بارے میں بلدیہ عظمی لاہور کے چیف کارپوریشن افسر سردار نصیر نے ”میڈیا92نیوز “ کو بتایا کہ ابھی تک رمضان بازار لگانے کے حوالے سے کوئی فنڈز نہیں ملے اور نہ ہی کوئی واضح ہدایات ملی ہیں۔ ہم میئر لاہور کے حکم پر تیاریاں کررہے ہیں تاکہ اگر ہمیں حکم ملے تو ہمارے تمام انتظامات مکمل ہوں جبکہ جو احکامات حکومت پنجاب دے گی اس کے مطابق کام کریں گے۔

یہ بھی پڑھیں

ملائکہ اروڑا کا سابق شوہر ارباز خان کیساتھ فیملی ڈنر، ویڈیو وائرل

ممبئی: بالی ووڈ اداکارہ و ماڈل ملائکہ اروڑا نے اپنے سابق شوہر ارباز خان اور اُن کی …