آسٹریلوی سینیٹر پارلیمنٹ میں برقعہ پہن کر آگئیں

کینبیرا: انتہائی دائیں بازو سے تعلق رکھنے والی رکھنے والی آسٹریلوی سینیٹر پولین ہنسن برقعے کے خلاف اپنی مہم کے تحت پارلیمنٹ میں برقعہ پہن کر آگئیں جس کی حکومت اور آسٹریلوی مسلم برادری کی جانب سے مذمت کی گئی۔
پولین اسمبلی میں اپنی نشست پر تقریباً 20 منٹ تک برقعہ پہن کر بیٹھی رہیں جس کے بعد اسے اتار کر انہوں نے سیکیورٹی وجوہات پر عوامی مقامات پر برقعہ پر پابندی عائد کرنے کا مطالبہ کیا۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق ون نیشن پارٹی سے تعلق رکھنے والی پولین نے کہا کہ برقعہ اتار کر انہیں خوشی محسوس ہورہی ہے کیوں کہ اس کی پارلیمنٹ میں جگہ نہیں بنتی۔
پولین ایشیائی باشندوں اور پناہ گزینوں کے خلاف سخت گیر قوانین کا مطالبہ کرنے کے لیے جانی جاتی ہیں جبکہ انہوں نے ماضی میں اسلامی کپڑوں اور مسجدوں کی تعمیر کے خلاف بھی مہم چلائی ہے۔
دوسری جانب اٹارنی جنرل جارج برینڈس نے اظہار مذمت کرتے ہوئے پولین کا کہا کہ آپ کا برقعہ پہن کر آنا کسی کو ناگوار گزر سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں

پاکستان اور نیوزی لینڈ کے درمیان پہلا ٹیسٹ ڈرا ہوگیا

 کراچی: پاکستان اور نیوزی لینڈ کے درمیان دو میچوں پر مشتمل سیریز کا پہلا ٹیسٹ میچ …